خنزیر فروش بمقابل عدالتِ عظمٰی

AGHA WAQAR AHMED

خنزیر فروش بمقابل عدالتِ عظمٰی

پاکستان میں اخلاقی قدریں بتدریج کم ہوتی جا رہی ہیں جس کی وجہ جائز اور نا جائز طریقے سے دولت کا حصول ہے۔ ماضی قریب کی ہی  بات ہے کہ گوالے دودھ  میں پانی کی ملاوٹ کرتے ہوئے گھبراتے تھے اور ان  کے چہروں پر ندامت کی  اثار نمایاں ہوتے تھے مگر اب دودھ گھروں میں قائم شدہ فیکٹریوں میں تیار کیا جا تا ہے اور کسی نہ کسی صورت میں کسی سیاسی پارٹی کے کارکن اس کاروبار کے سربراہ ہوتے ہیں اور باقی ٹیٹرا پیک دودھ بھی بلواسطہ یا بلا واسطہ پاکستان کے سیاسی خاندان کی ملکیت ہیں ۔

دودھ کی بجائے زہر فروخت کرنا اور اس سے حاصل شدہ دولت سے سیاست کی دوکانوں کو چمکانا تو آپ کے علم میں ہو گا مگر افسوس کہ اب بات برداشت سے باہر چلی گئی ہے کیونکہ گدھے کا گوشت اور کتے کا گوشت پاکستان میں قائم شدہ اعلی ریسٹورانٹ میں بلا ججھک خریدا جا رہا ہے اور اس سے مزے مزے کے پکوان ٹیبلوں کی زینت بنتے ہیں۔

چند دن پہلے کی بات ہے کہ جنوبی پنجاب میں خنزیر کا شکار کر کے اس کا گوشت بھی بڑے شہروں کے بڑے ہوٹلوں میں سپلائی کرنے والا ایک گروہ پکڑا گیا جس کے قبضے سے تازہ تیار شدہ 2 ٹن گوشت برامد ہوا۔

چند دن پہلے کی بات ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بوائلر مرغی اور ان کی خوراک کے متعلق ازخود نوٹس لیا کیونکہ ایک طرف تو بوائلر کا وزن بڑھانے کیلئے ہارمونز کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے مرغی کے گوشت میں شامل ہارمونز ایک طرف تو چھوٹی عمر میں سنِ بلوغت کو پہنچنے کی وجہ بن رہے ہیں اور دوسری طرف عورتوں میں ہارمون ڈس آرڈر کی بیماری کو فروغ دے رہے ہیں۔

گندم بیجو گے تو گندم کاٹو گے یہ نہیں ہو سکتا کہ گندم بیجو اور چاول کی فصل کاٹو۔

معاشرے میں کم عمر بچے بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد در حقیقت نا صرف جنسی عمل کرنے والے کا جرم ہے بلکہ معاشرے کے وہ تمام افراد جو دودھ سے لے کر مرغی تک کےغیرقانونی کاروبار سے وابستہ ہیں وہ بھی قانون کے کٹھہرے میں آنے چائیں۔

کیمیکل دودھ، گدھے، کتے،فارمی مرغی اور خنزیر کا گوشت کھانے والے افراد وہ ہی کچھ عمل کریں گے جو بذریعہ خوراک ان کی رگوں میں دھوڑنے والے خون میں شامل ہے۔

مرغی کی خوراک کا 95 فیصد اجزا خنزیر کا خون، گوشت اور چربی ہر مشتمل ہوتا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں برائیاں جنم لے رہی ہیں اور پہلی دفعہ تاریخ میں عدلیہ  نےاس برائی کی طرف اشارہ کیا بلکہ تحقیقات کا بھی حکم دے دیا اور یہ حقیقت ہے کہ مرغی کے گوشت اور مرغی کی خوراک کا کاروبار کرنے والے افراد درحقیقت وہ ہی چند سیاسی خاندان ہیں جو یکے بعد دیگرے ہم پر حکمرانی کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے تو علمِ حق بلند کر دیا مگر اب یہ دیکھنا ہے کہ قوم عدلیہ کا ساتھ ہے کہ یا خنزیر فروشوں کے۔

مگر اس حقیقت کا جواب دے گا کون؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here