عام انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم: ووٹوں کی گنتی شروع

Polling time ends across the country for general elections
Polling time ends across the country for general elections

:لاہور

ملک بھر میں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا تاہم پولنگ اسٹیشنز کے احاطے میں موجود ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔

عام انتخابات کے لیے پولنگ صبح 8 سے شام 6 بجے تک جاری رہی جس کے لیے کئی حلقوں پر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔

زرائع کو انتخابی نتائج موصول ہونا شروع ہوگئے تاہم الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے تحت نتائج 7 بجے سے پہلے نشر نہیں کیے جاسکتے۔

ملک بھر میں قومی اسمبلی کی 270 جب کہ چاروں صوبوں کی 570 نشستوں پر پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 6 بجے تک بلاتعطل جاری رہے گا۔ انتخابی عمل میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت کل 122 سیاسی و مذہبی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے 12 ہزار 570 امیدوار میدان میں ہیں۔ قومی کی 2 اور صوبائی اسمبلیوں کی 6 نشستوں پر مختلف وجوہات کی بناء پر انتخابات ملتوی کئے گئے ہیں جب کہ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 6 سے پیپلز پارٹی کے میرشبیر بجارانی الیکشن سے قبل ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

ملک بھر میں 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 کروڑ 92 لاکھ 24 ہزار 263 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4 کروڑ 67 لاکھ 31 ہزار 146 ہے، حق رائے دہی کے لیے ملک بھر میں 85 ہزار 252 پولنگ اسٹیشنز جب کہ 2 لاکھ 41 ہزار 132 پولنگ بوتھ قائم کئے گے ہیں۔ جس میں سے 17 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قراردیا گیا ہے۔ انتخابات کے لئے مجموعی طور پر 21 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے گئے ہیں، قومی اسمبلی کے لئے سبزجب کہ صوبائی اسمبلی کے لئے سفید بیلٹ پیپراستعمال ہوگا، ملکی تاریخ میں پہلی بار بیلٹ پیپرز میں سیکیورٹی فیچرز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس مرتبہ پہلی بار تعلیمی اداروں کے علاوہ دوسرے اداروں سے بھی ملازمین کو انتخابی ڈیوٹی کا حصہ بنایا گیا ہے، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ سے 6 ہزار سے زائد اساتذہ کو الیکشن ٹریننگ کرائی گئی ہے۔

ہنگامہ آرائی اور جھگڑے

ملک بھر میں پولنگ کا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پولنگ کے عمل میں بھی تیزی آرہی ہے اور اس دوران کئی علاقوں میں سیاسی کارکنوں کے درمیان جھگڑے اور ہاتھاپائی کی بھی اطلاعات ہیں۔ صوابی کے کرنل شیر کلے پولنگ اسٹیشن کے باہر 2 امیدواروں کے حامیوں کے درمیان زبانی تکرار بڑھ کر خونی تصادم میں تبدیل ہوگئی ، دونوں جانب سے ایک دوسرے پر کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق جب کہ 4 زخمی ہوگئے۔ دکی کے علاقے ونی میں پولنگ اسٹیشن پر جھگڑے کے نتیجے میں 4 پولنگ ایجنٹ زخمی ہوگئے۔

سیاسی قائدین نے کہاں ووٹ ڈالا

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے نوابشاہ کی ایل بی او ڈی کالونی میں واقع پولنگ اسٹیشن نمبر 13 پر اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ووٹ ڈالا ۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف اور مریم نواز نیب عدالت کے متنازع فیصلے کے باوجود گرفتاری دینے آئے ہیں، پاکستانیوں کی اکثریت مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینا چاہتی ہے، انشا اللہ جیت کر پاکستان کی خوشحالی کا سفر شروع رکھیں گے بھاشا ڈیم اور سستے گھر بنائیں گے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے آبائی گاؤں عبدالخیل پنیالہ میں حق رائے دہی استعمال کیا۔ ووٹ دینے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹ ایک امانت ہے جو اہل کے سپرد کرنا ضروری ہے، اس کو ضائع نہ کریں، ووٹ دینے سے ملک کے مستقبل کا بہتر فیصلہ ہوگا۔ ووٹر بھی دیانت دار امیدوار کا چناؤ کرے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار اور ان کی اہلیہ نے کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں ووٹ کاسٹ کیا۔

بے نظیر بھٹو کی دونوں صاحبزادیوں آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری نے نوابشاہ میں ووٹ کاسٹ کیا۔

اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے 3 حلقوں میں 786 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں، جن میں سے 26 پولنگ اسٹیشنز کو حساس ترین جب کہ 87 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی کو موثر بنانے کے لئے 33 گاڑیاں اور 44 موٹرسائیکلز پٹرولنگ ڈیوٹی پرمتعین کی گئی ہیں۔ 45 کوئیک رسپانس ٹیمیں بھی بنائی گئی ہیں جو زونل کمانڈرز، سیکٹر کمانڈرز کے ساتھ اور اسٹینڈ بائی ہیں۔

پنجاب

پنجاب آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے ، یہاں قومی اسمبلی کی 141 جب کہ صوبائی اسمبلی کی 297 نشستوں پر انتخابات ہونا تھے تاہم مختلف وجوہات کی وجہ سے قومی اسمبلی کی 139 اور صوبائی اسمبلی کی 295 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہورہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے لیے 3 ہزار 675 جب کہ صوبائی اسمبلیوں کے لیے 8 ہزار 895 امیدوار میدان میں ہیں۔ انتخابات کےلئے 47 ہزار 473 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ اے کیٹیگری پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 6 ہزار335 ، بی کیٹیگری پولنگ اسٹیشن کی تعداد 16 ہزار 944 جب کہ سی کیٹیگری پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 24 ہزار201 ہے۔ الیکشن ڈیوٹی پر 2 لاکھ 59 ہزار سے زائد پولیس افسر اور اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جب کہ پاک فوج کے جوان اور افسران اس کے علاوہ ہیں۔

سندھ

ملک کے دوسرے بڑے صوبے سندھ سے قومی اسمبلی کی 61 نشستیں ہیں جب کہ سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہونا تھے تاہم 129 نشستوں پر انتخاب ہوگا، سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 6 سے پیپلز پارٹی کے میرشبیر بجارانی الیکشن سے قبل ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔ سندھ سے قومی اسمبلی کے لیے امیدواروں کی تعداد 872 ہے جب کہ سندھ اسمبلی کے لیے 2 ہزار 382 امیدوار میدان میں ہیں۔ صوبے بھر میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 599 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

گزشتہ روز کراچی میں پولنگ کے دوران امن و امان کی صورت حال بہتر رکھنے کے لئے افواج پاکستان، رینجرز اور پولیس کے درمیاں پولنگ اسٹیشنز کی سیکیورٹی کا فارمولہ طے پایا تھا جس کے تحت شہر کے ہر ایک پولنگ اسٹیشنز پر افواج پاکستان کے 4 اور رینجرز کے 2 جوان تعینات ہیں پاک فوج کے جوان پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور رینجرز اہلکار باہر تعینات ہیں۔

کراچی میں پولیس کے افسران اور جوان تین کیٹیگری میں پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی  خدمات انجام دے رہے ہیں، نارمل قرار دیئے جانے والے 991 پولنگ اسٹیشنز پر ایک ہزار 982 افسران و جوان، 2 ہزار 716 حساس پولنگ اسٹیشنز پر 10 ہزار 864 افسران اور جوان جب کہ ایک ہزار181 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر پولیس کے 9 ہزار 448افسران اور جوان ڈیوٹی دے رہے ہیں، شہر بھر کے پولنگ اسٹیشنز پر مجموعی طور پر 21 کرنل، 42 میجرز اور کیپٹن سمیت افواج پاکستان کے 19 ہزار 552 جوان جب کہ 9 ہزار 776 رینجرز افسران اور اہلکار تعینات ہیں۔

بلوچستان

رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، یہاں قومی اسمبلی کی 16 جب کہ صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر انتخابات ہونا تھے تاہم سانحہ مستونگ کے باعث صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر پولنگ نہیں ہورہی۔ بلوچستان سے قومی اسمبلی کے لئے 303 اور صوبائی اسمبلی کے لئے 1007 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

صوبے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 42 لاکھ 99 ہزار 94 ہے، جن کے لئے 4 ہزار 420 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں، جن میں سے ایک ہزار 768 حساس ترین اور 400 حساس ہیں، 700 پولنگ اسٹشنز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ انتخابی عمل کو شفاف اور پر امن بنانے کے لئے صوبے بھر میں 28 ہزار پولیس اہلکاروں کے علاوہ لیویز ، ایف سی اور آر آر جی کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ فوج بھی ہائی الرٹ ہے۔

خیبرپختونخوا

فاٹا کے انضمام سے قبل خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کی 39 نشستیں تھیں تاہم قبائلی ایجنسیاں اب خیبر پختونخوا کے ضلع بن گئی ہیں اور صوبے کی نشستیں بھی 39 سے بڑھ کر 51 ہوگئی ہیں جب کہ صوبائی اسمبلی کی 99 نشستوں پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے، آج صوبے بھر سے قومی اسمبلی کی 51 جب کہ صوبائی اسمبلی کی 97 نشستوں پر پولنگ جاری ہے۔ قومی اسمبلی کے لئے 760 اور صوبائی اسمبلی کے لئے ایک ہزار 264 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ صوبے بھر میں کل 12 ہزار 69 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں، جن میں سے 4 ہزار 539 پولنگ اسٹیشنز حساس اور 3 ہزار 174 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین قرار دیئے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں 69 ہزار 163 پولیس جوان ڈیوٹی سرانجام دے رہیں جب کہ ایف سی کی 66 پلاٹونز بھی تعینات کی گئی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here