سیاست تشدد کی جانب

Politics towards violence
Politics towards violence

:لاہور

جوں جوں الیکشن نزدیک آتے جا رہے ہیں، سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی قوتِ برداشت ختم ہوتی جا رہی ہےجسکا ایک عملی مظاہرہ کل کے پروگرام میں دیکھ لیا جس میں نعیم الحق نے ایک چھوٹی سی تلخی پر دانیال عزیز کی منہ پر تھپڑ رسید کر دیا۔

نعیم الحق پہلے بھی حرکت کئی دفعہ کر چکے ہیں،انکی پارٹی میں کوئی ڈسپلن نہیں اور یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ آئیں گے ملک کو سنواریں گے اور ملک کی تقدیر بدل دیں گے اور نیا پاکستان دیں گے۔

کیا نئے پاکستان میں قوتِ برداشت کوئی نہیں ہو گی؟

کیا نئے پاکستان میں ہر شخص ہاتھ اٹھا کر دوسرے سے حقوق مانگے گا ؟

کیا الیکشنز کے دوران کارکن دوسرے کارکنوں کا گریباں پکڑیں گے؟

کیا اس الیکشن میں سیاسی جماعتوں کو اجتماعی طور پر لائحہ عمل اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ تشدد سیاست کا حصہ نہ بن سکے  یا یہ خونی الیکشن ہونے جا رہے ہیں؟

اگر تو یہ الیکشن خونی الیکشن ہونے جا رہے ہیں تو سیاستدان اپنے گھروں میں بیٹھے ہوں گے، مسائل تو ان کارکنوں کیلئے ہوں گے جو سٹریٹ پاور کہلاتے ہیں جن کے پاس کوئی پاور ہے ہی نہیں۔

اب ٹکٹوں کی تقسیم کا امتحان آ گیا ہے ، ہم بھی دیکھیں گے نیا پاکستان بنانے والے نئے بلڈ کو ٹکٹیں دیتے ہیں یا تمام پارٹیوں سے بھاگے ہوئے بھگوڑوں کویا یہ بھی جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کو مل جائے گی۔

اگر پی ٹی آئی نے بھی دوسری پارٹیوں سے آئے ہوئے افراد جنہیں پاکستان  لوٹنے کا تجربہ ہو چکا ہے انکو ٹکٹیں دیں اور پاکستان مسلم لیک ن ورکرز سے ہٹ کر سرمایہ دار، طاقتور کو ٹکٹیں بانٹ دیں تو یہ نا صرف ورکرز کی توہین ہو گی بلکہ میری رائے کے مطابق ورکرز کو الیکشن میں حصہ ہی نہیں لینا چاہیے اور پھر اصل ٹرن اوور سامنے آئے گی جو پاکستان میں 10فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔

اس لمحہ فکریہ پر آپ بھی سوچیں اور مجھے واٹس ایپ پر اپنی رائے بھی دیں۔

(03214376553)   تحریر: آغا وقار احمد

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here