سیاست اور سوشل میڈیا

AGHA WAQAR AHMED

سیاست اور سوشل میڈیا

سوشل میڈیا  پرناچ  گانوں کی سیاست  پاکستان میں ایم کیو ایم  نے متعارف کروائی مگر وہ کراچی تک محدود رہی  اور اس کے بعد ” تبدیلی” کا نعرہ لگانے والے عمران خان اور اس کے ورکرز نے سوشل میڈیا  پر مکمل قبضہ  کر رکھا  اور حد تو یہ ہو گئی کہ  اگر کوئی صحافی عمران خان سے  اس کے  منشور کےمتعلق  بھی پوچھ لیتا تو  پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم  کے ورکر  حضرات اس  صحافی کے فیس بک  اکاؤنٹ اور  ای میل  تک کو  گالی گلوچ سے بھر دیتے  اور اگر کوئی صحافی  ان کے جلسے جلوس  میں ناچ گانے پر تنقید کرتا تو  پی ٹی آئی کے ورکر  حضرات  اس صحافی کو گالی گلوچ کرنے کے بعد  ہاتھا پائی اور حملوں پر اتر آتے تھے۔

پھر یوں ہوا کہ  راولپنڈی میں  ایف آئی اے نے  27 نو جوانوں کو مسلم لیگ  (ن) کے میڈیا سیل چلانے پر  گھروں  سے اٹھا لیا جس پر نواز شریف نے  لندن میں بیٹھ کر بیانات دیئے اور آج اسی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے  با آواز بلند  مسلم لیگ (ن) سوشل میڈیا  کا آغاز ماڈل ٹاؤن  میں ہونے والی  ایک تقریب میں کیا ۔

مسلم لیگ (ن) نے  مستقبل میں  آنے والی سیاست کو  پی ٹی آئی  کی  طرح سوشل میڈیا  پر لڑانے کا فیصلہ کر لیا اور محترمہ مریم نواز (جسے پاکستان میں سب سے پہلے  میں نے  اپنے ایک کالم  میں  دختر پاکستان  کے نام سے مخاطب کیا  جو کالم  سرزمین میں اخبار  6 جولائی2017  کو پرنٹ ہوا ) مگر افسوس آج یہ دختر پاکستان  اعلان جنگ   کر رہی ہے اور وہ بھی عدلیہ کے خلاف  ۔۔۔

مریم نواز فرما  رہی تھیں “کہ  2،3 یا 5 افراد انہیں  نا اہل قرار نہیں دے سکتے   اور اس کے ساتھ ساتھ فرما رہی تھیں کہ   ہم تحریک عدل چلائیں گے اور ہمارا نظریہ نواز شریف کی ذات ہے”

 مستقبل میں کچھ ہو نہ ہو  سوشل میڈیا پر ایک گرما گرم جنگ کا آغاز  ہونے جا رہا ہے اور کہیں یہ نہ ہو  کہ پی ٹی آئی اور  پاکستان مسلم لیگ (ن) الیکشن کمیشن سے یہ التجا نہ کر بیٹھے کہ  ہمیں ووٹ ڈالنے کا حق بھی بذریعہ سوشل میڈیا دیا جائے ۔

سیاست اور انقلاب تپتی دوپہروں میں  سڑکوں پر اپنے لیڈروں کے حق میں  جلسے جلوس کرنے کا نام ہے مگر اب یوں محسوس ہوتا ہے  کہ آئیندہ آنے والے  سالوں میں  پاکستان کی سیاست  بذریعہ سوشل میڈیا ہو گی اور  پولنگ اسٹیشنز پر “ہو” کا عالم ہو گا  کیونکہ اب سیاسی جنگ بذریعہ سوشل میڈیا ہونے جا رہی ہے  حد تو یہ ہے کہ بلاول زرداری “ہالوگرافک  ٹیکنالوجی” سے خطاب کیا کریں گے  اور پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) دونوں پارٹیز بذریعہ سوشل میڈیا جلسے کیا  کریں گی اور وہ احساس دفن کر دیا جائے گا جو عوام اپنے قائد کو  اپنے درمیان پا کر  محسوس کرتے ہیں ۔

آج میری آنکھیں  بے چینی سے تلاش کر رہی تھیں  کہ میرا وہ لیڈر  جس نے جلا وطنی میں 7 سال تک مسلم لیگ (ن) کو پاکستان میں زندہ رکھا  وہ حمزہ شہباز شائد اس  میڈیا سیل کی تقریب میں کہیں بیٹھا نظر آ جائے  اور کان میرے ترس گئے کہ  شائد ابھی  اس ساؤنڈ سسٹم سے  میاں شہباز شریف کی آواز سنائی دے  مگر ایسا نہ ہوا ۔

حیرت اس بات کی ہے  کہ جب یہ فیصلہ طے پایا گیا  کہ مستقبل میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے  وزیر اعظم پاکستان کے لئے شہباز شریف کا  نام حتمی کر لیا گیا ہے  تو پھر ابھی تک نواز شریف ابھی تک اسی آس میں کیوں ڈگمگا رہے ہیں ؟ اور مریم نواز ابھی تک اس خواہش پر کیوں زندہ ہے  ؟کہ وہ چوتھی بار   نواز شریف کو  وزیر اعظم  پاکستان منتخب کریں گی ؟؟؟؟

ایسا کیوں ؟  حقیقت کیا ہے ؟ کیا مستقبل کے  وزیراعظم  کا نام  میاں شہباز شریف دینا مسلم لیگ (ن) کو مزید ٹوٹ پھوٹ  سے بچانے کی ایک چال تھی ؟؟؟

فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔۔۔۔۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here