یہ کالم 14 جولائی 2017 کوقومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ سیاست اور وفا داریاں

AGHA WAQAR AHMED

سیاست اور وفا داریاں

(یہ کالم 14 جولائی 2017 کو قومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے)

معروضی حالات میں یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف عدالت ِ عظمیٰ سے مستعفٰی ہو جائیں گے۔اور اپنی ہی سیاسی جماعت میں سے کسی ایک ایسے فرد کو منتخب کریں گے جس فرد کی اپنی کوئی سوچ اور فیصلہ کرنے کی پوزیشن نہ ہو بلکہ وہ ہر فائل تحریر و تقریر محترم میاں محمد نواز شریف سر براہ مسلم لیگ (ن)کو منظوری کے لئے بھیجے گا ۔

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔پہلے تو میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی مثال دینا پسند کروں گا جنہوں نے ایک بنیادی قانونی اعتراض پر وزیر اعلیٰ کا حلف نہیں لیااور پہلے وزیر اعلیٰ کے طور پر محترم ذولفقار محمد کھوسہ کے بیٹے دوست محمد کھوسہ کو وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب کیا اور قانونی پیچیدگی کو ختم کر کے بعد میں خود وزیر اعلیٰ پنجاب مقرر ہو گئے۔

اور اس کی دوسری مثال محترم آصف علی زرداری ہیں ۔جو نہ تو قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور نہ ہی اس اہلیت کے مالک تھے کہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکتے۔یہ وہ بنیاد تھی جس کی وجہ سے محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں جب ٹکٹیں تقسیم کیں تو انہوں نے محترم آصف علی زرداری (Mr. ten percent) کی سابقہ حرکات و سکنات اور بے جا حکومتی امور میں مداخلت کرنے کی وجہ سے آصف علی زرداری کو ٹکٹ دینا مناسب ہی نہیں سمجھا کیونکہ وہ ایک قابل اور ذہین سیاسی لیڈر تھیں ۔

اور انہیں اس بات کا ےقین تھا کہ اگر آصف علی زرداری کو قومی اسمبلی کا رکن منتخب کیا گیا تو وہ اس پالیمانی دور میں (Mr. twenty five percent)ہو جائیں گے ۔مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور بینظیر بھٹو کی شہادت سے جس شخص کو سب سے زیادہ مالی و سیاسی فائدہ ہوا وہ آصف علی زرداری ہی تھے۔

آصف علی زرداری اس قدر ذہین تھے کہ انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی ایک وصیت دکھا ئی جس کی روح سے پارٹی اور اس کے سارے امور کلی طور پر آصف علی زرداری کے ہاتھ میں آگئے اور وہ ایک متعلق العنان چیئر مین پیپلز پارٹی بن گئے 2008سے لے کر2013بظاہر پارلیمانی طرزِحکومت تھا مگر حقیقتاََ سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے بعد آنے والے وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف ہر ایک ہدایت اور ہر ایک حکم محترم آصف علی زرداری سے لیتے تھے۔

آج مسلم لیگ (ن)پہلے تو حتیٰ الامکان کوشش کرے گی کہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم پاکستان تبدیل کرنے کی قرار داد منظور ہی نہ ہواور اگر منظور ہو جائے تو وہ اپنے متبادل کسی ایسے ہی فرد کونامزد کریں جو اپنے تمام امور محترممیاں محمد نواز شریف کی ہدایت کے مطابق سر انجام دے۔

پیپلز پارٹی کے پاس بھی 2008میں جانثار جیالوں کی کمی نہیں تھی۔مگر انہوں نے آصف علی زرداری کو ذہنی طور پر چئیر مین پیپلز پارٹی تسلیم نہیں کیا کیونکہ محترم آصف علی زرداری نے حکومت بنانے کے فوراََ بعد پیپلز پارٹی کے بنیادی کارکنوں کو جنہوں نے جیلیں کاٹیں ،کوڑے کھائے اور ہر قسم کی اذیتیں برداشت کیں ان کو نظر انداز کر دیا۔

میرا ےقین ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوںسے زیادہ وفا دار اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے کارکن موجود ہیں ۔
مگر یونین کونسلوں کی چئیر مین شپ اور پنجاب کے مختلف شہروں میںمیئرز اور ڈپٹی مئیرز کی سلیکشن اور ان کے الیکشن میں جس بری طرح سے بنیادی مسلم لیگ (ن) کے ورکروں کو نظر انداز کیا گیا وہ لمحہ فکریہ تھا۔اور اگر آپ تاریخ کے طالب علم ہیں تو یہ بات آپ پر واضح ہو جائے گی کہ ان میں سے بیشتر افراد کی وابستگیاں اور وفا داریاں لمبے عرصے تک ریٹائرڈجنرل پرویز مشرف اور مسلم لیگ (ق)کے ساتھ رہیں

اب موجودہ حالات میں میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان رہیں نہ رہیں مگر مسلم لیگ (ن) کو اپنے کارکنوں کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے اور اگر انہوں نے قومی و صوبائی اسمبلی کی ٹکٹیں تقسیم کرتے وقت بنیادی کارکنوں کو نظر انداز کر دیا تو مسلم لیگ (ن) کا حشر پاکستان پیپلز پارٹی سے زیادہ برا ہو گا۔میں پہلے بھی ایک کالم” ٹکٹ کے حقدار “5جولائی 2017”زورنامہ سرزمین “میں لکھ چکا ہوں ۔کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ٹکٹیں تقسیم کرتے وقت دولت مندنہیں وفا دارکارکنوںکی ضرورت ہے ۔کیونکہ بنیادی کارکن دور حاضر میں انتخابات کے اخراجات اٹھانے سے قاصر ہیں کیونکہ اب اس دور میںقومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات پر کروڑوں روپے کا خرچ آنا ہے۔اور سیاسی پارٹیاں اپنے کارکنوںکی وفا داریوں کو نظر انداز کر کے دولت مند بے ضمیر موقع شناس افراد کو ٹکٹیں دے بیٹھتی ہیں اور وہ امیدوار اس کوتجارت سمجھ کر الیکشن پر آئے ہوئے اخراجات سے سو گنا زیادہ کمانے کی جستجو میںلگ جاتے ہیں ۔اس طرح بنےادی کارکن کے پاس مایوسی کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا ،یہی ایک وجہ ہے جس کی بنیادپر میں ےہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنے بنےادی کارکنوں کو نظر انداز کر دیا۔تو ےہ مسلم لیگ (ن) کی سب سے بڑی غلطی ہو گی جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔

کیونکہ 2017-18کے الیکشنوں میں آخری دفعہ یہ کارکن اپنی وفا داری کو ثابت کریں گے اور پھر گمنامی کی زندگی گزار دیں گے ”عدالت عظمیٰ“ فیصلہ کوئی بھی دے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملک کی ہر اکائی میں مسلم لیگ (ن) کے پاس وفا دار کارکن موجود ہیں اور وہ اپنے کردار سے اپنے لیڈرکو طاقت و عزت مہیا کریں گے۔

پی۔ٹی۔آئی کی بات کروں تو مجھے افسوس ہوتا ہے کہ اس قدر واضح خیالات رکھنے والا لیڈر جو سچ کے لئے میدان ِ جنگ میں اترا ہوا ہے اس بات کے باوجود کہ اس کی تعلیم پہ جو خرچ آیا وہ ان کے والد محترم اکرام اللہ خان نیازی نے ایک ایس ۔ڈی ۔او ہونے کی حیثیت سے جائز اور نا جائز طریقوں سے کمائی ہوئی دولت عمران خان کی تعلیم پر خرچ کی اور تاریخ دان ےہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب ذولفقار علی بھٹو نے پاکستان میں 313کرپٹ سرکاری ملازمین کو ان کی ملازمتوںسے فارغ کیا تو اس لسٹ میں عمران خان کے والد محترم اکرام اللہ خان نیازی سر فہرست تھے۔اس سے زیادہ دکھ کی بات ےہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے کرپشن کے سلسلے میں نکالے ہوئے افراد جوق در جوق پی ۔ٹی۔آئی میں شامل ہو رہے ہیں ۔

اور کوئی مضبوط ان دیکھا ہاتھ عمران خان کو ان افراد کی پی ۔ٹی۔آئی میں شمولیت کے لئے کار فرما ہے ۔ کیوںکہ بظاہر عمران خان نیازی حقیقی طور پر پاکستان میں بنیادی تبدیلی لانا چاہتے ہیں مگر کوئی سپہ سالار اس وقت تک جنگ نہیں جیت سکتا جب تک اس کی افواج میں دلیر اور ایمان دار افراد موجود نہ ہوں ملکی حالات کچھ اس طرف چل نکلے ہیں کہ جو شخص بھی پی۔ٹی۔آئی میں شامل ہو رہا ہے ۔وہ عمران خان کی نظر میں سچا پاکستانی ہے ۔مجھے اس واشنگ مشین پر حیرت ہوتی ہے جس سے تمام کرپٹ حضرات واش ہو کر سچے پاکستانی بنتے ہیں ۔

گزشتہ روز میں نے اپنے کالم میں تحریر کیا تھا کہ وسیع و عریض پیمانے پر ”سیاسی تجارت“ کا آغاز ہو چکا ہے مگر افسوس کہ اہل ِعقل اور اہل علم ”عام عوام“ کو ان کے ووٹ کی طاقت سے آگاہ کرنے میں آج تک ناکام رہے ہیں ۔ آخر کیوں؟؟ ووٹ کی اہمیت کا انہیں احساس دلائے گا کون؟؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here