پسِ پردہ سیاست اور 21 کروڑ عوام

AGHA WAQAR AHMED

پسِ پردہ سیاست اور 21 کروڑ عوام

پاکستان میں جب الیکشن ہوتے ہیں تو اس دوران امیدواروں کا اپنے کارکنوں کیساتھ ایک رشتہ ساقائم ہو جاتاہے لیکن کارکن ہمیشہ خاموش اور معصوم رہا ، وہ درحقیقت امیدوار کی آنکھ کے اندر چُھپی ہوئی خود غرضی پڑھنے میں ناکام رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں الیکشن کےدوران ووٹروں کی ووٹ ڈالنے والی نسبت دوسرےممالک کے مقابل میں کم ہے۔

الیکشن 2018 میں مجھے کام کرنے کا موقع میسر آیا اور میں نے چند ایک اراکین اسمبلی جو منتخب ہو گئے اور جو منتخب نہیں ہوئے انہیں بھی بہت قریب سے دیکھا۔

یہ بھی حقیقت ہے اس دفعہ سابقہ انتخابات کی نسبت ووٹروں کی ٹرن اوور بہتر تھی اور قومی اسمبلی کے انتخابات کیلئے ووٹروں نے 53.6فیصد ووٹ ڈالے جو کہ تقریباََ 5 کروڑ ووٹ کے لگ بھگ بنتا ہے۔

جس 46.4 فیصد لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالے کیا اسے یہ تسلیم نہ کر لیا جائےکہ وہ اس الیکشن کے نظام پر ہی یقین نہیں رکھتے یا انہیں امید نہیں کہ الیکشن کے ذریعے منتخب ہونے والا فرد کبھی ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں سنجیدہ نہیں ہو گا اس وجہ سے 46.4 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالنے سے اجتناب کیا۔

اور اگر ہم صوبائی اسمبلی کے ووٹوں کی تعداد کو لیں تو پنجاب میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے جو 58.3 فیصد تھے، سندھ میں 47.6 فیصد، بلوچستان میں 45.3فیصد اور خیبرپختونخواہ میں 45.5فیصد ووٹ ڈالے گئے۔

ایک تو تاثر ختم ہوا کی کوئی صوبہ چھوٹا صوبہ نہیں، تمام صوبوں میں شہریوں نے جو ووٹ ڈالے وہ تقریباََ برابر ہیں ماسوائے پنجاب کے ووٹوں کی تعداد سے لیکن وہ بھی اس قدر زیادہ نہیں ، سندھ کے مقابلے میں اگر پنجاب میں10 فیصد زیادہ ووٹ ڈالے گئے تو یہ اچنبے کی بات نہیں ہے کیونکہ تعلیمی سرگرمیاں اور ڈویلپمنٹ پنجاب میں زیادہ ہوئیں باقی 3 صوبوں کوپاکستان بننے سے لیکر آج تک نظر انداز کیا ۔

جب ووٹر کا حکومت سے اعتبار اٹھ جائے اور وہ اپنا ووٹ ڈالنے نہیں جائیں تو اسے ایک خاموش احتجاج تصور کرنا چاہیے کیونکہ اب جس کسی کی بھی حکومت بنے گی انہوں نے جو ووٹ حاصل کیے ہیں وہ پاکستان کے ٹوٹل ووٹرز کی تعداد کا 16فیصد بمشکل ہے۔

پاکستان میں آپ پاکستان تحریک انصاف کو لیجیئے انکے حاصل کردہ کل ووٹوںکی تعداد ایک کروڑ ارسٹھ لاکھ چھیاسی ہزار سات سو ترانوے ہے یعنی کہ یہ 10 کروڑ رجسڑڈ ووٹوں کا 16.88 فیصد بنتا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے جو ووٹ حاصل کیے وہ ایک کروڑ انتیس لاکھ پینتیس ہزار دو سو چھتیس ہیں جو کہ 10 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز مان لیے جائیں تو ٹوٹل ووٹرز کا 12.93فیصد بنتا ہے۔ تو دیگر الفاظ میں یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کروں گا کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان حاصل کردہ ووٹوں کا شرح تناسب کا فرق انتہائی بریک لائن کے مطابق تقریباََ 3 فیصد ہے۔

افسوس تب ہوتا ہے جب یہ  منتخب اراکین اسمبلی حضرات سرعام جھوٹ بولتے ہیں اور اپنے آپ کو 21 کروڑ عوام کا نمائندہ ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں جو کہ قطعاََ درست نہیں۔

اگر ہم اسے 10 کروڑ ووٹرز کی حیثیت سے دیکھیں تو اگر پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آ جاتی ہے تو وہ ٹوٹل ووٹرز میں سے 16.88 فیصد ووٹرز کی امنگوں کی ترجمان ہو گی اور پاکستان مسلم لیگ ن خریداری کر کے اپنی حکومت قائم کر لیتی ہے تو وہ درحقیقت کل رجسڑڈ وووٹوں کا 12.93 فیصد ووٹ حاصل کر کے حکمران بن جائے گی۔

اسی طرح حالا ت قومی اسمبلی کے بعد صوبائی اسمبلی میں بھی ہیں اور صوبائی اسمبلی میں یہ سیاستدان اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور امید کی جاتی ہے کہ جس طرح کی سیاست میں خرید و فراخت عروج پر ہے اس کے بعد قومی و صوبائی اسمبلی کے اسپیکر حضرات کا جو بھی خفیہ بیلٹ سسٹم ہوتا ہے اس کے تحت ان کی اصل طاقت منظر عام پر آئے گی۔

میں نے اپنے کالم کے شروع میں کہا کہ مجھے موقع ملا اس دفعہ کہ میں سیاستدانوں کو قریب سے دیکھوں ، ہر الیکشن میں قریب سے دیکھتا ہوں لیکن میں نے محسوس کیا کہ جو امیدوار ہوتا ہے جب وہ کامیاب ہو جائے تو اس کی آنکھ میں ایک غرور و تکبر کی روشنی نظر آتی ہے جو کہ عام ووٹر نہیں دیکھ سکتا۔

ہاں! اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے چند ایک امیدواروں کو معصوم سمجھا اور ان کی قربت میں 20 -22 دن گزارے لیکن مجھے افسوس ہوا کہ میں نے الیکشن کے بعد جب انہیں دیکھا تو ان کی آنکھ کی چمک یہ بتا رہی تھی کہ ان کے اندر کس قدر تکبر آ گیا ہے۔ یہ تکبر اگر ایک صحافی اپنی نظر سے دیکھ سکتا ہے تو اس کا اندازاہ آپ کریں کہ وہ امیدوار اپنے ووٹرز کیلئے کیا احساسات رکھتے ہوں گے۔

عوام کب تک اسطرح بیوقوف بنے گی، پاکستان میں چاہیئے کہ اگر کل رجسٹرڈ ووٹرز کا 75 فیصد ووٹ ڈالنے نہ آئے تو الیکشن دوبارہ کروائے جانے چاہیئے ، ضروری نہیں کہ آپ میری رائے سے متفق ہوں مگر میں نے جو دیکھا تھا من و عن حقیقتاََ آپ تک پہنچا دیا اب آپ اپنے اپنے علاقہ کے ان نمائیندگان کو دیکھیں جنہیں کامیابی نصیب ہوئی ، کیا آپ ان کی آنکھ میں وہ چمک دیکھ پائیں گے جو میں نے دیکھی؟

کیا آپ کو اس تکبر کا احساس ہو گا جس کو میں محسوس کر رہا ہوں ؟

عوامی دورحکومت کب آئے گا ! اس دعا کیساتھ اپنے کالم کا اختتام کرتا ہوں کہ یارب العزت ان امیدواروں کو جو بعد میں کامیاب ہو جاتے ہیں ، انسانیت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے ووٹر کا احترام کرنا چاہیئے۔ ووٹ کو عزت دو کی تو سب بات کرتے رہے لیکن ووٹر کے احترام کی کوئی بات نہیں کرتا کیونکہ یہ تمام سیاستدان درحقیقت ایک ہی خاندان کے فرد ہیں ، ایک ہی تھالی کے چٹے ووٹے ہیں اسلیئے انکی آنکھوں میں ایک ہی طرح کی تکبر کی چمک آتی ہے اور رب العزت کو تکبر بلکل پسند نہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here