یہ کالم 13 جولائی 2017 کوقومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ سیاسی تجارت

AGHA WAQAR AHMED

سیاسی تجارت

(یہ کالم 13 جولائی 2017 کو قومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے)

معروضی حالات میں مسلم لیگ (ن) کو ان مشکلات سے نکلنے کے لئے اپنے 189ارکان جو کہ قومی اسمبلی میں موجود ہیں ان پر بھی اعتماد نہیں رہا اس لئے ڈرتے ہیں کہ اگروزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو اعتماد کا دوبارہ ووٹ لینا پڑا تو 189میں سے بمشکل 100ارکان نواز شریف کو ووٹ ڈالیں گے ۔جبکہ قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد 340ہے مسلم لیگ(ن) کو کسی بھی حالت میں  66فیصد ارکانِ اسمبلی کی حمایت کی ضرورت ہے ۔

بظاہرایک نئی تجارت کا آغاز ہو چکا ہے جس کے بعد کوئی اور ”جےآئی ٹی ،“ بنے گی اور مختلف نمائندگانِ اسمبلی جو کہ آج بھی اپنی ظاہر شدہ آمدن سے بڑھ کر روز مرہ کی زندگی کی سہولتیں استعمال کر رہے ہیں اور ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ ان کی تعداد میں اضافے کا موسم آ گیا ہے ۔

موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لئے اب چھپے ہوئے خزانوں سے دولت کا انبار نکلے گا اور راتوں رات کئی ممبر قومی اسمبلی ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی ضرور ہو جائیں گے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نیب کو آنکھیں کھول کر رہنا پڑے گا کیونکہ ”ممبرانِ قومی اسمبلی برائے فروخت“ کا نقارہ بج چکا ہے ۔

ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت چاروں صوبائی اسمبلیوں کے بعد قومی اسمبلی میں بھی بڑے زور و شور سے شروع ہو گئی ہے۔

خریداروں میں حزبِ اختلاف کی پارٹیاں اور حزبِ اقتدار کی پارٹیاں بڑھ چڑھ کر بولی لگا رہی ہیں ۔کچھ سابقہ ”ایم این اے“ اور ”ایم پی اے“ حضرات اپنے حواریوں کے ٹولوں کے ہمراہ ایک مخصوص سیاسی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں اور ان پر سابقہ و موجودہ دورِ حکومت میں بد عنوانی اور مالی امور میں بے ضابطہ اور بد دیانت ہونے کا الزام ہے اور ابھی تک ان کے کیس

نیب میں زیر التواءہیں مگر کسی ان دیکھی قوت کے کہنے پر اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل کر کے ایک مخصوص جماعت میں شامل ہو رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خوابِ خرگوش میں گم ہیں ۔

”جے آئی ٹی “کو تو صرف چندافراد کا طرظِ زندگی ان کی آمدن سے زیادہ نظر آیامگر 340ارکان جو بیس کروڑ عوام کی زندگیوں کا فیصلہ کرنے والے ہیں ان کا موازنہ کیا جائے تو شائد دو چار افراد ہی ایسے ملیں گے جو اپنی آمدن کے مطابق اخراجات اور رہن سہن کے پیمانے پر پورا اترتے ہوں گے ۔

نیب  کا کام اسی دن شروع ہو جاتا ہے جس دن الیکشن کمیشن آف پاکستان ان ارکانِ اسمبلی کی دولت ،پڑھائی ،وراثت اور قرضوں کی مکمل معلومات لے کر الیکشن لڑنے کی اجازت دیتا ہے .

نیب کیا گزشتہ  چارسالوں سے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھے بیٹھی ہے ؟ کون سا قومی و صوبائی اسمبلی کا ایسا رکن ہے جس کا رہن سہن اسکی ظاہر کی گئی آمدن کے مطابق ہے؟

ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو احساس ہو گا کہ ریڑھی والے پھل فروش سے لیکروزیراعظم تک  تمام افراد اپنے ظاہر شدہ اثاثوں سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں جبکہ مقصد ہی یہی تھا کہ ان افراد پر اور ان کی آمدنی کے ذرائع پر نظر رکھی جائے لیکن افسوس ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی سرکاری محکمہ اور ادارہ اپنا کام اپنی حدود میں رہ کر کرنے کو تیار نہیں ۔

20 کروڑ عوام کی بد قسمتی دیکھیں کہ 340افراد ان کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ۔اور اگر ہم زیادہ تفصیل میں جائیں تو پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تعداد 370ہے۔ سندھ اسمبلی کے اراکین کی تعداد167ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد 65ہے۔ اور کے پی کے اسمبلی کے اراکین کی تعداد 123ہے۔ اس طرح پاکستان کا مقدر 1065افراد کے ہاتھوں میں ہے اگر کوئی پاکستان کا روشن مستقبل دیکھنا چاہتا ہے تو ان 1065افراد کو ہمیشہ کے لئے سیاست سے باہر اٹھا پھینکیں۔

ان افراد ان کے خاندان ان کے عزیزواقارب اور رشتہ داروں میں سے کسی کو منتخب نہ کریں بلکہ 1065ارکان عام عوام میں سے منتخب کریں حیرت ہے کہ 20کروڑ کی آبادی میں سے 1065ارکان تلاش کرنا نا ممکن ہے ؟

جب تک پاکستان میں یہ بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی تب تک ملک ترقی کی جانب گامزن نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان میں مخصوص خاندانوں کی حکومت رہی ہے اور اس کے بعد ان مخصوص خاندانوں نے سلطنتِ پاکستان کو اپنے باپ دادا کی جاگیر سمجھ لیا ہے ۔جو بھی آیا اس نے کبھی حساب کتاب نہیں دیا ۔اور مقدمات عدالتوں میں زیر التواء رہنے کے بعد کسی ”این آراو“ سے ختم کر دیئے جاتے ہیں ۔

کیا ”این آراو“ ذدہ سیاست دان صادق اور امین ہو جاتے ہیں؟ کیا ایک غلیظ کپڑے کو اچھے صابن سے دھویے سے اس کپڑے سے ناپاکی اور غلاظت دھل جاتی ہے ؟

پورا نہا نے سے انسان با وضو نہیں ہوتا جب تک وضو کرنے کا اصول اور طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ 20کروڑ عوام اپنی آنکھیں کھول کر بہ ہوش و حواس آنے والے کل میں جن افراد کو بھی منتخب کریں ان کی آمدن اور جائداد کا حساب کتاب بھی رکھیں ،پاکستان اس وقت جس بحران کا شکار ہو چکا ہے اس سے نکلنا نا ممکن تو نہیں بس ذرا مشکل ضرور ہے۔

ہم اپنے آپ سے عہد کریں کہ ووٹ ڈالتے وقت خاندان اور برادری کو پس پشت ڈال کر نظریہ پاکستان کے حامل اور اور قابل افراد کو منتخب کریں تاکہ پاکستان ترقی کی منزل پر گامزن رہے مگر تشویش اور دکھ اس بات کا ہے کہ عوام کو ووٹ کی طاقت کا احساس دلوائے گا کون ؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here