یہ کالم 22 جولائی 2017 کوقومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ سیاسی مدوجزر

AGHA WAQAR AHMED

سیاسی مدوجزر

(یہ کالم 22 جولائی 2017 کو قومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے)

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

فیصلہ چاہے کچھ بھی آئے بہر کیف قوم کو اسے قبول کرنا ہے خوشی خوشی قبول کر لے یا دل پہ پتھر رکھ کر ،کیونکہ ملک کی سب سے بڑی عدلیہ کے فیصلے کی مخالفت کرنا اور یہ کہنا کہ ’’ ہمیں تسلیم نہیں‘‘ یہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اور اس فیصلے کا مذاق اڑانا بھی بغاوت ہی کہلاتا ہے دل پر پتھر رکھ لو یا حقیقت سے آنکھیں چرا لو اب جی کا جانا ٹھہر گیا ہے تو اگلے دس دن کا انتظار کروجو پاکستان کے مقدر اور مستقبل کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔

ایک طرف تو سارا حکمران خاندان عدالت عظمیٰ کی نظر میں معصوم نہیں رہا اور دوسرا عدالت عظمیٰ میں جعلی دستاویزات جمع کروانا کسی طور پر بھی حکمران طبقے کو زیب نہیں دیتا اور سونے پہ سہاگہ کہ وہ اپنے آپ کو ابھی بھی معصوم اور شہید کہلوانے کے خواہش مند ہیں ۔

پاکستان کے بیس کروڑ عوام نہ تو جاہل ہیں اور نہ ہی ان پڑھ ،سوچ اور سوجھ بوجھ رکھنے والے اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکمرانوں کے پاس اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں اور عدلیہ ہمیشہ ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلے مرتب کرتی ہے تو گویا یوں ہوا کہ پہلے ہی دو جج صاحبان کی نظر میں موجودہ وزیر اعظم پاکستان (ہو سکتا ہے کہ میرا کالم اخبار میں آنے سے پہلے ہی حکمران تبدیل ہو جائیں )
صادق اور امین نہیں رہے تھے اور باقی کی کسرکو انتہائی شرمناک اور افسوس ناک حقیقتوں نے ثابت کر دیا کہ 20کروڑ عوام کا وزیر اعظم ایک غیر ملکی کاروباری ادارے سے منسلک ہے اس کی تنخواہ اور باقی مراعات کا ثبوت بھی عدالت عظمیٰ کے پاس بھی موجو د ہے ۔اس طرح آج مجھے ایک پاکستانی ہونے پر شرم محسوس ہو رہی ہے کہ میرے ملک کا وزیر اعظم کسی دوسرے ملک میں قانونی طور پر ایک ملازم کی حیثیت سے تنخواہ پر گزارہ کرتا ہے اور میرے وزیر اعظم نے دانستہ طور پر اس حقیقت کو عدلیہ کی آنکھ سے اوجھل رکھا اور انتہائی ڈھٹائی سے آخری وقت تک اپنے آپ کو معصوم ،صادق اور امین کہلواتے رہے جبکہ حقیقت اس سے بر عکس نکلی۔

وزیر اعظم پاکستان کے دونوں صاحبزادوں نے بھی عدلیہ سے غلط بیانی کی اور حد تو یہ ہے کہ ان کی صاحبزادی( جن کو وہ پاکستان کی سیاست میں لانا چاہتے ہیں ) نے عدلیہ میں جو کاغذات پیش کیئے وہ ’’دو نمبر ‘‘ تھے یعنی دوسرے الفاظ میں وہ کاغذات جھوٹ کا پلندہ تھے اور ان کو انتہائی جعلسازی سے حقیقت کے نذدیک ترین بنا کر پیش کیاگیا جیسا کہ آج سے کچھ سال پہلے پاکستان میں ہر قسم کی نقلی اسناد اصلی کی صورت میں دستیاب ہوا کرتی تھیں اسی طرح محترمہ مریم نواز نے جو کاغذات عدالت عظمیٰ میں پیش کئے گئے وہ مکمل طور پر جعلسازی کے زمرے میں آتے ہیں جس کی کم از کم سزا دس سال ہے ۔ دس سال کی سزا کے ساتھ ساتھ زندگی بھر کی سیاست کو بھی نا اہلی کی صورت میں خدا حافظ کہنا پڑے گامجھے معصوم کارکنوں پر ترس آتا ہے کہ ایک وقت تھا کہ کارکن اپنی جان کا نظرانہ پیش کرتے تھے جیسا کہ ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کے وقت کارکنوں نے اپنے آپ کو زندہ جلا دیا پھر اس کے بعد ایک وقت آیا کہ کارکنوں نے جیلیں کاٹیں ،ماریں کھائیں ، اور ان کے لیڈران غیر ملکی طاقتوں کے سہارے سیاسی پناہ کے جھنڈے تلے اپنے ورکروں سے بے وفائی کر کے دوسرے ممالک میں رہائش پذیر ہو گئے اور کارکن بے یارو مدد گار عقوبت خانوں میں فوجی جرنیلوں کے ظلم کا سامنا کرتے رہے جبکہ نام نہاد سیاسی لیڈران اپنی جلا وطنی کے درمیان بڑے بڑے کاروباری و شاہی خاندانوں کے ساتھ رابطے بڑھاتے رہے اور بیچارے کارکنوں کی دوکانیں اور کھوکھے تک مارشل لاء حکمرانوں کی نظر ہو گئے ۔
یہی وہ مقدمہ ہے جو اس وقت عدلیہ کے پاس محفوظ فیصلے کی شکل میں موجود ہے ۔ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے غیور و با شعور محنت کش حق حلال کی کمائی کھانے والے افراد یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جلا وطنی میں رہ کر اس قدر اثاثے بنانا کیسے ممکن ہے ؟جبکہ حسن،حسین اور مریم کا کوئی ذاتی کاروبار بھی نہ تھا۔

تو پھر کس طرح وہ دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہوگئے اور دوسری طرف عوام یہ بھی سوچنے پر بھی مجبور ہیں کہ ان کی خودساختہ جلاوطنی جس معاہدے کے تحت ہوئی اس میں واضح الفاظ میں درج تھا کہ وہ دس سال تک پاکستان میں تشریف نہیں لائیں گے اور نہ ہی کسی سیاسی سرگرمی کا حصہ بنیں گے۔

میری نظر میں تو موجودہ وزیر اعظم پاکستان اور ان کا خاندان اسی وقت صادق اور امین نہیں رہا تھا جس وقت انہوں نے اس معاہدے کی روح سے انکار کیا تھا ۔مگروہ ہوا جو رب کو منظور تھا۔ ایک دن ایسا بھی آیا کہ ان کے معاہدے کی کاپی پاکستان میں ہر صحافی کے ہاتھ میں تھی مگر اس وقت بھی یہ اہل اقتدار اس معاہدے سے انکاری تھے مگر اب ماجرہ مختلف ہے۔اب کاغذات ثبوت کی صورت میں عدالت عظمیٰ میں موجود ہیں اور ان ثبوتوں و شہادتوں کی موجودگی میں عدلیہ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب صرف اس فیصلے کو قانونی طور پر عوام تک پہنچانے کی ذمہ داری ایک امانت کی طرح سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس موجود ہے۔

میرے اندازے کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان کے معصوم شہریون کو ان چالباز سیاستدانوں سے ہمیشہ کے لئے نجات دلوائیں گے اور کوئی بعید نہیں کہ حکمران طبقے کا فیصلہ کرنے سے پہلے’’ محترم عمران خان نیازی صاحب ‘‘پربھی جو مقدمات ہیں جن میں وہ آج تک پیش نہیں ہوئے اور ایک شہنشاہ عاظم کی طرح صحافیوں کے سامنے اپنے آپ کو پاک دامن اور صاق و امین گردانتے ہیں ۔عدالت عظمیٰ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتی مفرور کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کرے اور اس کے جرائم کا بھی اس طرح احتساب کرے کہ عوام کو حقیقی احتساب ہوتا نظر آئے ۔

عدالتی مفرور کے مقدمات کو نمٹانے کے بعد عدالت اس بات کا بھی تعین کرے کہ وہ کس طرح صادق و امین ہیں ۔
دور حاضر میں پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہے جس کی مثال ’’سی پیک‘‘ منصوبہ کے تحت ہونے والے کام ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ’’سی پیک ‘‘ معاہدے کی تکمیل کے لئے کسی بھی سیاسی حکومت کا ہونا لازم نہیں کیونکہ یہ معاہدہ دو ریاستوں کے درمیان طے پایا ہے جس میں پاکستان ریاست کی جانب سے سابقہ ’’چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف ‘‘ نے دستخط کیئے کوئی بھی سیاسی تبدیلی آ جائے اس معاہدے پر کسی قسم کا کوئی بھی اثر ہونے کا امکان نہیں اور چینی ریاست اس حقیقت سے آگاہ ہے اور ’’سی پیک ‘‘ کے سلسلے میں جس وقت بھی اس منصوبے کے اندر کوئی ردوبدل کی ضرورت پیش آئی تو چینی وفد ’’جی،ایچ،کیو ‘‘ میں چیف آف دی آرمی سٹاف کوملے گا کیونکہ یہ دو ریاستی معاہدہ ہے۔

بادی النظر ایک ایسا حکومتی نظام زیر بحث ہے جس کا نام تک تجویز کر لیا گیا ہے وہ دور حکومت 90دن کے لئے نہیں بلکہ عرصہ تین سال پر محیط ہو گا جس دور حکومت کو احتساب دور حکومت کے نام سے پکارا جائے گا جو موجودہ حکومتی ارکان اور اپوزیشن کے ارکان پر مشتمل حکومت ہو گی اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ’’ پاکستان مسلم لیگ (ن) ‘‘ کے 85ارکان ’’پاکستان پیپلز پارٹی ‘‘ کے 30ارکان ’’ پاکستان تحریک انصاف ‘‘ کے 20ارکان’’ جمعت العلماء الاسلام ‘‘کے 20ارکان KPKسے’’ اسفند یار ولی خان‘‘ کی جماعت سے 10ارکان’’ اچکزئی گروپ بلوچستان‘‘ سے 15ارکان اور ’’ ایم،کیو ،ایم ‘‘ کے12 ارکان ابھی تک اپنی وفا داریاں نئے طریقہ حکومت کے سلسلے میں یقین دہانیاں کروا چکے ہیں۔

اس طرح فیصلہ آنے سے پہلے پہلے 192ارکانِ اسمبلی پاکستان کی سا لمیت کے لئے اپنی وفاداریوں کا یقین دلوا چکے ہیں اور فیصلہ آنے کے بعد یہ تعداد کہاں تک رہتی ہے اس کا اندازہ آپ خود لگاسکتے ہیں اور یہ بات ذہن نشین رہے کہ 2013میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 185ارکان کے ساتھ متلق العنان حکومت بنائی اب آنے والی حکومت جس کا نام احتساب حکومت ہو گا وہ کس قدر مضبوط اور دیر پا ہو گی اس کے متعل قیاس ارائی کرنا ناممکن ہے۔

کیونکہ اس سے پہلے جنرل ضیاء الحق نے 90دن کے لئے حکومت لی اور گیارہ سال بعد ایک نا گہانی حادثے میں وفات کے بعد ان کا دور حکومت ختم ہوا . 12اکتوبر 1999میں بھی احتساب کرنے کے لئے ایک حکومت آئی جس سے عوام نے بڑی مشکل سے 2008میں جان چھڑوائی مگر ان ادوارِ حکومتوں نے پاکستان کو ایک ایسے عذاب میں مبتلا کر دیا جس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے نجانے پاک افواج کو کتنی اور شہادتیں دینی پڑیں اور کتنے پاکستانی معصوموں کا خون سڑکوں پر بہانہ پڑے کیونکہ وہ دو دورِ حکومت ایسے گزرے ہیں کہ جن میں ایک حکومت نے دنیا بھر سے جہادی تنظیمیں اسلام کے نام پر پاکستان میں لا کر خود کو امیر المومنین بنانا چاہا اور دوسری حکومت نے پاکستان کی فضائیہ اور ذمینی راستوں کو غیر کے استعمال میں دے کر 5سو ڈالر فی فرد کے حساب سے انہی جہادیوں کو گرفتار کر وایا جن کو امیر المومنین پاکستان میں لے کر آیا تھا۔
آج پاکافواج نجانے کس کس ذریعے سے اندرونی و بیرونی خطرات سے اس سلطنت کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس لئے سیاست دانوں سے اپیل ہے کہ خدا کا واسطہ ان کو اندرونی و بیرونی محاذوں پر جنگ کرنے دو جب تک مذہبی جہادی تنظیموں کا قلع قمع نہیں ہوتا اور سیاست دان اپنے مسائل بلا شرکت غیر جمہوری طریقے سے سر انجام دیں اسی میں پاکستان کی سلامتی ہے ۔

مگر ان خود غرض سیاستدانوں کو سمجھائے گا کون؟؟؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here