اختر حسین بادشاہ امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حلقہ 168 اور 169 کی سیاسی کاوشیں

political efforts of Akhtar Hussain Badsha candidate for PP-168 and PP-169
political efforts of Akhtar Hussain Badsha candidate for PP-168 and PP-169

:لاہور

اختر حسین بادشاہ نے قصورسے 1992 میں میٹرک پاس کیا اور اسکے بعد  1995-1994میں قصور ڈگر ی کالج سے آڈیشنل جنرل سیکرٹری یوتھ ونگ پنجاب پاکستان مسلم لیگ (ن) مقرر ہوئے،اُس دن سے لیکرآج تک مسلم لیگ (ن) کے ہی کارکن ہیں۔

12 اکتوبر 1999جب نواز شریف کی حکومت پر شب خون مارا گیا تو اختر حسین بادشاہ اپنے چند مسلم لیگی ساتھیوں کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے حق میں جلوس کی صورت میں ماڈل ٹاؤن H-180 کی طرف چل پڑے۔ مگر فیروز پور روڈلاہور  پو لیس کے تشدد کی وجہ سےانہیں اور ان کے ساتھیوں کوشد ید چوٹیں آئیں جس کی وجہ سے اُنہیں اُن کے ساتھیوں سمیت تھانہ نشتر لاہور میں بند کر دیا گیا اور ا ن پر شد ید تشد د کیا گیا اس وقت اختر حسین بادشاہ مسلم لیگ (ن) کےمبذ ل سکر یٹری تھے۔

اختر حسین بادشاہ 2004 میں مسلم لیگ لاہور ڈویژن کے جنرل  سکر یٹری ہوئے، اور اب اس وقت مو جو دہ عہدہ جنرل  سکر یٹری مسلم لیگ (ن) PP-159 ہیں، یہ واحد کارکن ہیں جنہوں نے آغاز سیاست سے لیکر اب تک وفاداری تبدیل نہیں کی اور نہ کسی سیاسی جماعت مین شمولیت اختیار کی۔

22 جولائی 2006 کو میاں محمد نواز شریف 14 سال سزا اور 21 سال تک سیاست سے بے دخل کیا گیا تب بھی جلوس نکالنے پر اختر حسین بادشاہ کو شد ید  قسم کا تشد د کیا گیا اور کئی دن یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کی متعلقہ پولیس نے کس عقو بت خا نہ میں قید وبندکی صورت میں رکھا ہوا ہے۔

11 مئی2004 کو جب میاں شہباز شریف نے واپس آنے کا فیصلہ کیا اورکارکنوں سے کہا کہ گرفتاری نہیں دینی اور لاہور ائیر پورٹ پر میرا استقبال کرنا ہے تو جب میاں شہباز شریف کا جہاز علامہ اقبال ائیر پورٹ پر لینڈ کیا  اور میاں شہباز شریف جہاز سے اُتر ے اور زمیں کو بو سہ دیا مگر اُسی وقت اُنہیں گر فتار کر لیا گیا  اور 100 منٹ کے دو رانیہ میں گر فتار شد ہ شہباز شریف کو دوبارہ PIA کے خصو صی جہاز سے جدہ روانہ کر دیا گیا۔

ایئر پورٹ پر اختر حسین بادشاہ کے ساتھ جا وید ہا شمی جو کے اُس وقت جیل میں تھے ان کی بیٹی میمونہ ہاشمی موجود تھیں۔

اُن سب کو گر فتا ر کر کےتھا نہ میں بند کر دیا گیا اور اُن پرFIR کاٹ دی گئی جو کےپہلیFIR تھی جو MP 016 کے تحت کاٹی گئی اور اختر حسین بادشاہ پرATC کا اجرا ہوا ۔ یہ دہشت گردی کی FIR تھی جس کی گرفتاری سے لیکر ضمانت تک 16 دن غیر قا نو نی  گرفتاری ڈال کر شد ید تشد د کا نشا نہ بنا یا گیا ۔

نواز شریف اور شہباز شریف دونوں بھائیوں نے اعلان کیا تھا کہ 10 ستمبر 2007 کو ہر حال میں اسلام آباد ائیر پورت پہنچیں گے  جس سلسلے میں اختر حسین بادشاہ، رمضان صد یق بھٹی اور خواجہ سعد رفیق اسلام آباد پہنچے ۔آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے باوجود اسلام آباد ائیر پورٹ پر پہنچنے والے افراد میں اختر حسین بادشاہ ،خواجہ سعد رفیق اور چو ہد ری غفور تھے جن پر شدید قسم کا تشدد کیا گیا اور گرفتا رکر لیا گیا اور شر یف برادران کو جبراََ واپس جدہ بھیج دیا گیا ۔

اختر حسین بادشاہ نے ایک طرف اپنی سیاسی وابستگی تبدیل نہیں کی جبکہ بحثیت مشیروزیر اعلیٰ پبلک آفیسر بنا یا گیا تو انہوں نے دفتر تک کی ڈیمانڈ نہیں کی۔

لاہور ڈویژن وائس چیئر مین عشرہ زکوۃ مقرر ہونے پر بھی انہوں نے شکر یہ کے ساتھ معزرت کر لی اور مسلم لیگ (ن) کے جنرل سکریٹریPP-159 کی حثیت سے کام سر انجام دے رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here