سیاسی بحران

AGHA WAQAR AHMED

سیاسی بحران

سیاسی ماحول میں تبدیلیاں، جماعتی امور کا تہہ کرنا اور مریم نواز  کا  قانونی حیثیت سے مسلم لیگ میں شامل ہونا ایک طرف تو ان کی سیاسی زندگی  کا آغاز ہے اور دوسری طرف  بادی النظر  میں مسلم لیگ کو  اصولی طور میں تقسیم کرنے کی بنیاد ہے،  چونکہ مسلم لیگ (ن) یا  نواز شریف  پاکستان کی تاریخ میں زیادہ  اہمیت  کے حامل نہیں  جس کی وجہ نواز شریف  کا  سیاست میں آنے کا آغاز  ایک “ایک خود ساختہ امیر المومنین” کی پیداوار تھا اور مختلف ادوار میں جہاں نواز شریف  بظاہر اسٹیبلشمنٹ سے الجھتے رہے وہیں  وہ حقیقی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار تھے اور آج بھی بادی النظر میں  مبینہ طور پر ان کے  اسٹیبلشمنٹ  کے ساتھ قریبی  روابط  ہیں  اور شاید  یہ وہی وجہ  ہے  جس بنیاد پر نواز شریف نے عدلیہ سے  الجھنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے  اور نواز شریف کے اس عمل کو ا ن کی سیاسی  خود کشی کے علاوہ  کوئی نام نہیں دیا جا سکتا  جس طرح مریم نواز کا مسلم لیگ (ن) کی مجلس عامہ  میں شمولیت کا وقت  اور مریم نواز کی ماضی میں عدلیہ و پاک  افواج  کے متعلق  رائے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔

پچھلے دنوں ملک ایک سیاسی بحران کا شکار تھا  جس کی بنیاد بظاہر مذہبی وجوہات پر مبنی تھی اور “عام عوام” کی نظر میں اسٹیبلشمنٹ کی دانائی  سے یہ وقتی سمندر کی موج ٹھہر گئی ہے  لیکن  ٹھہرا  ہوا پانی  اور ٹھہری ہوئی ہوا کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔

 اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ  ٹھہرے  ہوئے پانی کے سمندر کو “ڈیڈ سی” کا  نام دیا جاتا ہے اور جو اپنے اندر چھپی ہوئی  غلاظتیں ایک محدود عرصے میں  پانی کی سطح  پر نمودار کر دیتاہے۔

ختم نبوت ﷺ کا مسئلہ اور اس پر حکومت وقت کے  وزیر اعظم اگر اسٹیبلشمنٹ  کو خود درخواست کرتے ہیں  کہ اس مسئلے کو سلجھائیں  تو یہ حقیقی طور پر  بیڈ گورنس کی واضح مثال  ہے اور اسے کسی بھی لحاظ سے دانائی تصور نہیں کیا جا سکتا ۔

ماضی قریب میں کیپٹن (ر) صفدر  کا بے وجہ قومی اسمبلی میں خطاب اور آئینی ترمیم “203” میں  خفیہ طریقے سے ختم نبوت ﷺ کے قانون میں  ترمیم در حقیقت ایک سوچی سمجھی سکیم  کے تحت کی گئی   اور اس کے باوجود کیپٹن( ر) صفدر کا  پارلیمنٹ کی راہداریوں میں ایک سزا یافتہ سزائے موت کے مجرم  ممتاز قادری کے حق میں با آواز بلند  نعرے لگانا  اور اس  کے بعد  دھرنے کے درمیان ایک مقامی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے  کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا اس دھرنے کو ایک مشن کا آغاز  سے تشبح دینا   ثانوی بات نہیں بلکہ در حقیقت دھرنے کے درمیان ہونے والی  شہادتوں کو تشکیل پاکستان  کے درمیان شہید ہونے والے  مسلمانوں سے تشبح دینا ، اور صاف الفاظ میں اداروں کے متعلق  رائے دینا کہ مسلم لیگ (ن) کی یہ حکومت نہیں بلکہ  ہم تو نا اہل شدہ افراد کا  ٹولہ ہیں اور عدلیہ کو چیلنج کرنا کہ “ ہمیں تو  نااہل گردانا  گیا  اور اپنے آپ کو اہل  قرار دینے والے افراد کا ٹولہ اس دھرنے کا حل تلاش کرے “ اور اس کے ساتھ وزیر اعظم  پاکستان  کا پاک افواج کے سپہ سالار  سے درخواست کرنا کہ وہ اپنی  حکمت عملی سے اس دھرنے کو ختم کروائیں  یہ  در حقیقت ایک  گہری اور سوچی سمجھی چال ہے  جس چال کی حقیقت مستقبل قریب میں منظرِ عام پر یقیناََ آئے گی ۔

حالیہ دنوں میں  سوشل میڈیا پر وائرل  ہونے والے  چند مخصوص  ویڈیو پیغام جس میں پاک افواج  کی تذلیل کا عنصر موجود تھا  اور   پاک افواج  کا اس پر خاموش ہونا  در حقیقت  “ڈیڈ سی”  کی  کیفیت کی نشاندہی کرتا  ہے اور وہ  وقت  دور نہیں  جب  یہ ٹھہرا  ہوا  سمندر  تمام غلاظتیں  اگل دے گا  اور پاکستان استحکام کی جانب   اپنا سفر جاری  رکھے گا۔  پاکستان تحریک انصاف   کو اس بات کی وضاحت دینا ہو گی  کہ  ان کی ایک ایم این اے  کی صاحبزادی نے پاک  افواج  کے متعلق  جو  ویڈیو کلپ سوشل میڈیا  پر   چلا رکھا ہے جس کے متعلق  ایم این اے  صاحبہ  شرمندہ  ہوتی نظر نہیں آ  رہیں  اس کلپ میں در حقیقت  ہر مخلص اور  وفادار   پاکستانی  نیشنلسٹ  کی توہین کی گئی  ہے کیونکہ پاکستان کا وجود  اگر قائم ہے تو وہ صرف  اور صرف پاک افواج  کی شہادتوں ،  دانائیوں اور ان کی حکمت عملی کی وجہ سے  قائم ہے وگرنہ “2001” میں ہی طالبان اس خطے پر  اپنی حکمرانی  کا  پرچم گاڑھ چکے ہوتے اور اس وقت داعش بھوکے بھیڑئے کی طرح  اپنے شکار پاکستان  کی سر زمین پر آنکھیں گاڑھے ہوئے ہے اور  یہ پاک افواج  ہی  ہے جس کے خوف سے داعش  کوئی راست اقتدام نہیں کر رہا اس  لئے تحریک انصاف کو ایک جماعتی حیثیت سے  اپنی  ایم این اے  کی بیٹی کے  کلپ  پر احتجاج کرنا چاہیے  اور استعفیٰ لے لینا چاہیے  کیونکہ جو الفاظ  ویڈیو کلپ میں کہے گئے ہیں وہ  توہین افواج کے ساتھ پاکستان کے “عام عوام” کو بغاوت کی طرف  اکسانے کی سازش ہے۔

اداروں کے خلاف توہین پرنواز شریف، عمران نیازی اور آصف زرداری تینوں ایک پیج پر محسوس ہوتے ہیں۔

Columnist1958@gmail.com

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here