سیاسی دنگل

AGHA WAQAR AHMED

سیاسی دنگل

پاکستان مسلم لیگ ن جنوری 2019 میں چاروں جانب سے مشکلات میں گِر جائے گی۔ جنوری کے اندر تحریک انصاف نےبلدیاتی نظام کے سلسلے میں کچھ اہم اعلانات کرے گی اور ان کے فورََ بعد پاکستان مسلم لیگ ن کا شیرازہ بکھر جائے گا۔

جس سے مسلم لیگ ن میں ایسا شگاف پڑے گا جسے پُر کرنا ممکن نہ ہوگا بنیادی کارکن اپنے لیڈروں کے رویے سے تنگ آ چکے ہیں اور انہیں ادراک ہوچکا ہے کہ سیاسی جماعت کے لیڈران اپنے ذاتی مفادات کو مد نظر رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر کارکنوں کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے ان حالات میں سیاسی تنظیم اور سیاسی جماعت میں ٹوٹ پھوٹ ہونا کوئی غیر فطرتی عمل نہیں مسلم لیگ میں یہ سب کچھ ہونے جا رہا ہے اور اس کی ذمہ داری مسلم لیگ کی قیادت پر جاتی ہے۔

اپوزیشن میں بیٹھنے کے باوجود بھی مسلم لیگ ن کے سربراہان اپنے کارکنوں کے ساتھ جس رویے سے پیش آتے ہیں اسکا حال ہی میں لاہور کے ڈپٹی میئر کا پارٹی کو خدا حافظ کہنا ایک مثال بن گیا ہے۔

سیاست تو کہتی ہے کہ جب پارٹی کے اوپر مشکلات ہوں تو قائدین اپنے کارکنوں کو یکجا رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں مگر پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ ایسا نہیں مسلم لیگ کے لیڈران کے ذہنوں سے ابھی تک حزب اختلاف میں بیٹھنے کی حقیقت اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ان کے لیے ناممکن سا کھیل ہے اور آج بھی وہ اپنی خیالی دنیا میں سربراہ مملکت ہے۔

جب کوئی سیاسی  پارٹی حزب اختلاف میں بیٹھتی ہے تو ان کے لہجوں میں نرمی اور کارکنوں سے محبت پیدا ہونی چاہیے مگر مسلم لیگ ن میں اس سے بالکل الٹ ہے۔

وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی اعلی قیادت نیب کی عدالتوں میں موجود ہے اور کسی وقت بھی ان کے خلاف فیصلے آسکتے ہیں کے باوجود بھی جن افراد کے ہاتھ میں مسلم لیگ ن کی بھاگ دوڑ ہے وہ اپنے آپ کو حکمران سمجھے بیٹھے ہیں۔

لاہور کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے کارکن کا پی پی – 168 میں شکست سے دوچار ہونا درحقیقت مسلم لیگ کے اندر کہانی ہے جو اب عوام الناس کی زبان پر آ چکی ہے۔

سیاست کے لئے کارکنوں کو متحد رکھنا ایک اچھی سیاسی جماعت کی حکمت عملی ہوتی ہے جس کو قائم رکھنے میں مسلم لیگ ن  بری طرح ناکام ہوئی  اور کارکن جوق در جوق پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔

پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی وجہ کارکن کا مقامی طور پر اپنے آپ کو سیاسی متحرک رکھنا اورعام عوام کے ساتھ رشتہ اصل سیاسی میدان میں موجود رہناے کیساتھ ساتھ  سیاسی میدان میں پنجہ آزمائی کرنا ایک کارکن کے نزدیک سیاسی عمل ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن لاہور میں دھڑوں میں بٹ چکی ہے اور یہ بھی تو حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر بھی سیاسی دھڑا بازی موجود ہے مگر کارکن کو مقامی سطح پر بنیادی سہولت حاصل کرنے کے لئے عام عوام کے جھوٹے موٹے کام کرنے پڑتے ہیں جس کے لیے حکومت میں موجود ہونا اشد ضروری ہوتا ہے۔

کچہری کا کام ہو سڑک کی مرمت ہو سیٹلائٹ کا لگوانا ھو یونین کونسل میں طلاق کا سرٹیفکیٹ ہو بنیادی مسائل کے لیے پنچایت کا ہونا ہو یا مقامی طور مسائل کا حل یہ وہی کارکن کرسکتے ہیں جن کی رسائی حکومتی اداروں تک با آسانی ہو۔

جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت پنجاب اور سینٹر میں حکمران ہے اس لئے کارکنوں کا ان کی طرف رجوع کرنا عین فطری عمل ہے۔

ایک طرف تو مسلم لیگ ن کے پاس حکمرانی نہیں اور نہ ھی کوئی ا ایسے حالات ہیں جس کے تحت وہ مستقبل قریب میں پنجاب یا وفاق میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوں۔ کارکن بہت عقلمند ہوتا ہے اسے جب اس کی سیاسی پارٹی کے لیڈران حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں تو وہ مجبورََ حزب اقتدار میں موجود سیاسی پارٹی کی طرف رجوع کرتا ہے۔

مسلم لیگ ن انہیں حالات میں گری ہوئی ہے مسلم لیگ ن کے لیڈران ورکروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ورکر کی اپنے لیڈروں تک رسائی ممکن نہیں ورکر ایک بات سوچنے پر مجبور ہے کہ ہمارے لیڈران حزب اختلاف میں ہونے کے باوجود بھی ورکروں سے ملتے وقت تکبر کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

یہ وہ فطری وجوہات ہیں جس کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف بنیادی کارکنوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوئی سب سے پہلے پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام جیالے پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور اب پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکن بھی جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے ایسے عدالتی فیصلے ہوں گے مسلم لیگ کی قیادت جیل کی سلاخوں کے پیچھے جاتی نظر آ رہی ہے اور آنسوؤں کا سلسلہ 24 دسمبر کے بعد کسی وقت بھی شروع ہو سکتا ہے اور ایک بات کو ذہن نشین رکھیں کہ ماڈل ٹاؤن سانحے کے ملزمان بھی منظر عام پر آنے والے ہیں اور نیب بھی اپنے ریفرنسز مکمل کرنے والی ہے۔

کیا پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن میں اتحاد ہونے جا رہا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کو قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ ضرورت پڑنے پر یہ دونوں مفاد پرست سیاسی تنظیمیں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی آئی ہیں اور اب جبکہ دونوں کو سزائیں ہونے والی ہیں تو ان کا اتحاد درحقیقت ایک معاہدہ ضرورت ہوگا۔

پہلے بھی نواز داری بھائی بھائی کا نعرہ لگا اور اب بھی زرداری نواز بھائی بھائی کے نعروں کی آواز گونجے گی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اب نوجوان طبقہ اور عوام ان سیاستدانوں کی حقیقت جان چکے ہیں اس لئے ان کا غیرفطری اتحاد بھی عوام کو بے وقوف بنانے میں کامیاب نہ ہوگا۔

کل کے دشمن جو ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور پیٹ چاک کرکے لوٹی ہوی دولت نکالنے کے لئے عوام کے سامنے اداکاری کرتے تھے درحقیقت وہ اندر سے دوست تھے اور اب ان کا اتحاد اس بات کا ثبوت ہو گا کہ دونوں مفاد پرست ٹولے ہیں۔

کیا عوام ایک بار پھر ان مفاد پرست ٹولوں کے دھوکے میں آ جائے گا یا وہ اس ٹولے کو مکمل طور پر ریجکٹ کر دے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو میں آپ کے لئے چھوڑا جا رہا ہوں اس امید کے ساتھ کے پاکستان میں عوام اپنی سیاسی وابستگیوں سے بھی زیادہ سلطنت پاکستان سے محبت کرتے ہیں تو پھر کیا آپ ان سیاستدانوں کو غیرفطری اتحاد میں آنے کے بعد مسترد نہیں کریں گے۔

ان تمام سوالات کا جواب وقت آنے پر حب الوطن پاکستانی دیں گے اور پاکستان کی دولت کو لوٹنے والے سیاستدانوں کے چہرے بے نقاب کر دیں گے۔

اب پاکستان اور اس کے عوام پاکستان کی حفاظت کریں گے اور اندرونی و بیرونی سازشوں کو بے نقاب کریں گے پاکستان کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ آنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے مگر ان عقل کے اندھے سیاستدانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرے گا کون؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here