شہباز شریف کی گرفتاری: لیگی اراکین اسمبلی کا پنجاب اسمبلی گیٹ کے سامنے دھرنا

PML-N lawmakers protest outside Punjab Assembly
PML-N lawmakers protest outside Punjab Assembly

:لاہور

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہاتھوں گرفتاری کے معاملے پر اجلاس نہ بلائے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لیگی اراکین پنجاب اسمبلی نے اسمبلی گیٹ کے سامنے دھرنا دے دیا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی گرفتاری کے معاملے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہ بلائے جانے کے خلاف آج سہ پہر اسمبلی کی سیڑھیوں پر اجلاس بلایا گیا تھا۔

تاہم انتظامیہ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کا مرکزی گیٹ سیمنٹ کی بوریوں اور خاردار تاروں کے ذریعے بند کردیا گیا۔

جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے دیواریں پھلانگ کر اسمبلی احاطے میں داخلے کی کوشش کی اور بعض اراکین رکاوٹیں عبور کرکے اسمبلی کے گیٹ تک بھی پہنچ گئے۔

بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھے لیگی اراکین اسمبلی کی جانب سے پنجاب حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔

حمزہ شہباز کا دھرنے سے خطاب

حمزہ شہباز کا پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ لوگ کہتے تھے بجلی گیس مہنگی نہیں ہو گی مگر دونوں چیزیں مہنگی ہو گئیں، ملک پر راتوں رات 900 ارب کا قرض چڑھ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیازی صاحب نے کبھی سچ نہیں بولا، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار قتل کے مقدمے میں دیت دیکر باہر نکلے جب کہ اربوں روپےکا غبن کرنے والے آپ کے سینیر وزیر بن کر بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کا نیا لیڈر عمران خان ہے اور اسپیکر پنجاب اسمبلی 22 ارب روپے لوٹنے والوں میں شامل ہیں۔

حمزہ شہباز کا کہناتھا کہ مریم جیل جا سکتی ہے تو علیمہ خان کی بھی آف شور کمپنی ہے اور آج بابر اعوان اربوں کی کرپشن کرکے دندناتے پھر رہے ہیں۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ نیازی صاحب احتساب گھر سے شروع کریں، کے پی میں میٹرو بس کھنڈر بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہو سکی، انہوں نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا، اندھیرے دور کیے جب کہ شہباز شریف وہ شخص ہے جس نے دن رات صوبے کی خدمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جو زبان نیازی صاحب نے استعمال کی وزیر اعظم کو ایسا زیب نہیں دیتا، آپ عوام کے ووٹوں سے نہیں جعلی ووٹوں سے وزیر اعظم بنے جب کہ نوازشریف آج بھی ہمارے وزیراعظم ہیں۔ حقائق سے پردہ اٹھے گاتو پتا چلے گا کہ عوام کا وزیراعظم کون ہے۔

قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی نے کہا کہ قوم پوچھتی ہے کہ ضمنی الیکشن سے پہلےکھلم کھلا آئی جی کو کیوں بدلا، کیا آئی جی نے غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کیا؟

ان کا کہنا تھا کہ آپ کے پولیس ریفارمز کے چیئرمین بھی مستعفی ہو گئے۔

شہباز شریف کی گرفتاری

واضح رہے کہ نیب پنجاب میں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم، صاف پانی کیس، اور اربوں روپے کے گھپلوں کی تحقیقات کر رہا ہے، جس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر نامزد ہیں۔

نیب لاہور نے 5 اکتوبر کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا، تاہم اُن کی پیشی پر انہیں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔

آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد پہلے ہی گرفتار کیے جاچکے ہیں اور نیب ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف کو فواد حسن فواد کے بیان کے بعد گرفتار کیا گیا۔

انہیں اگلے روز لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے شہباز شریف کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here