وزیراعظم کالعدم تنظیموں کے بجائے سیاستدانوں کے خلاف ایکشن لیتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

Prime Minister takes action against the politicians, instead of banned organizations, Bilawal Bhutto Zardari
Prime Minister takes action against the politicians, instead of banned organizations, Bilawal Bhutto Zardari

:کراچی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتہاپسندانہ سوچ رکھنے والے 3 وفاقی وزراء کو برطرف کرنے کا مطالبہ کردیا۔

سندھ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان حکومت میں انتہا پسندا سوچ رکھنے والے وزراء کی موجودگی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ کم از کم 3 حکومتی وزراء ایسے ہیں جو کالعدم تنظیموں سے ہمدردی رکھتے ہیں، مجبور کیا تو ان کا نام بھی لے لوں گا کیوں کہ ایک وزیر نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے پر ملک دشمنی کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا وزیر انتخابی مہم کے دوران کھلے عام کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں سے ملتا رہا اور تیسرا وزیر جہادی تنظیموں کے ٹریننگ کیمپ سے منسلک رہا ہے، جب تک یہ سوچ حکومت میں موجود ہے ، کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی مشکوک رہے گی۔

 نیب پولیٹکل انجنیئرنگ کا ادارہ ہے، بلاول

پی پی چیئرمین کا نیب کے حوالے سے کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو میں فرشتے کو بھی چیئرمین بنایا تو وہ بھی پولیٹکل انجنیئرنگ ہی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ کیس سندھ کا، ملزم سندھ کا، اکاؤنٹس سندھ کے مگر کیس پنڈی میں چلے گا، جعلی اکاؤنٹس کیس کی منتقلی حدود کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کہ تفتیش میں تاخیر کو انسانی حقوق کا معاملہ بنا کر از خود نوٹس لیا گیا اور کیس پنڈی کیوں لے جایا جا رہا ہے؟ پنڈی میں ایسا کیا ہے؟

بلاول بھٹو زرداری کے مطابق نیب پولیٹکل انجنیئرنگ کا ادارہ ہے، فرشتے کو بھی وہاں چیئرمین بنا دیا جائے تو وہ بھی پولیٹکل انجنیئرنگ ہی کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بے نامی اکاؤنٹس کو ہی دیکھ لیں کیا یہ سیاسی انجینئرنگ نہیں ہے ؟ اس ساری کارروائی سے سیاسی انجینئرنگ کاپیغام جا تا ہے، قانون میں بیلنسنگ کا کوئی تصور نہیں ہے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ بیلنس کرنا ہے، اس لئے جے آئی ٹی بنائی ہے، میرے ساتھ بھی نا انصافی ہورہی ہے اور سیاسی انجینئرنگ کے تحت مجھے کیس میں گھسیٹا جا رہا ہے۔

’کالعدم تنظیموں کے اثاثے کہاں سے آتے ہیں؟ اس پر تو ذرا جے آئی ٹی بٹھائیں‘

پی پی چیئرمین وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتے لیکن اسپیکر سندھ اسمبلی کو گرفتار کرلیتے ہیں، کالعدم تنظیموں کو وسائل سے زیادہ اثاثے بنانے پر کارروائی نہیں کرسکتے؟

انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے اثاثے کہاں سے آتے ہیں؟ اس پر تو ذرا جے آئی ٹی بٹھائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب سے سیاست میں ہوں دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز اٹھارہا ہوں، آپ اپوزیشن کو کیسےقائل کریں گے کہ  آپ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں؟

بلاول کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ منتخب وزیراعظم کو پھانسی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کچھ نہیں؟ آپ تین بار وزیراعظم رہنے والے کو گرفتار کرسکتے ہیں لیکن کالعدم تنظیم والوں کو نہیں۔

پیپلزپارٹی ڈلیور نہیں کرسکتی، یہ غیر جمہوری جماعتوں کابیانیہ ہے، پی پی چیئرمین

ان کا کہنا ہے کہ یہ پیپلز پارٹی کا نہ گورننس میں مقابلہ کرسکتے ہیں اور نہ سیاست میں، یہ غیر جمہوری طاقتوں کے پراپیگنڈے کے ذریعے کامیاب نہیں ہوسکتے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ڈلیور نہیں کرسکتی، یہ غیر جمہوری جماعتوں کابیانیہ ہے، دھونس، دھمکی، تشدد اور دھاندلی کے باوجود پیپلزپارٹی سندھ سے تیسری بار کیسے منتخب ہوئی؟

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کی تاریخ میں سب سے بڑے اور تاریخی کام کیے ہیں، پاکستان بننے کے بعد دریائے سندھ پر صرف 5 پل تھے لیکن پیپلزپارٹی کے ادوار میں دریائے سندھ پر 5 مزید پل بنائے گئے ہیں۔

ہم جیل بھرو تحریک چلانے کیلئے تیار ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا حکومت کو انتباہ

ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے خاموشی اختیار نہیں کی جدوجہد کے سارے آپشنز رکھے ہیں، بھارت سے جنگ کے خطرے کے پیش نظر قومی ا تحاد کا مظاہرہ کیا تھا لیکن لگتا ہے کہ وزیراعظم کو قومی اتحاد کی ضرورت نہیں، ہم جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملکی مفاد میں احتجاج کو مؤخر کیا ہے کیوں کہ ہماری سوچ سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کی ہے ،بلاول بھٹوزرداری

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وفاق سندھ کی ترقی روکنا چاہتا ہے اور وفاق سندھ کو پانی نہیں دیتا بلکہ سندھ سے پیدا ہونے والی گیس بھی وفاق نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ہر کارکن 18 ویں ترمیم، جمہوریت اور معاشی و انسانی حقوق کے دفاع کیلئے جیل جانے کو تیار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم جیل بھرو تحریک چلانے کیلئے تیار ہیں، ہم آپ کی جیلوں، دھمکیوں اور دباؤ کے حربوں سے نہیں ڈرتے، آپ کب سیکھیں گے؟ ہم اصولوں پر کھڑے اور عوام کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here