وزیراعظم شاہد خاقان اور چینی صدر کی پاک چین تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا عزم

Prime Minister Shahid Khaqqan and Chinese President's commitment to take China's relations to new heights
Prime Minister Shahid Khaqqan and Chinese President's commitment to take China's relations to new heights

:باؤ

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اور چینی صدرشی جن پنگ کی باؤ میں ملاقات ہوئی جس میں چینی صدر شی جن پنگ نے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کی بروقت تکمیل کے عزم کا اعادہ کیا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی باؤ فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے چین میں موجود ہیں اور ان کے ہمراہ وزیرخارجہ خواجہ آصف، وزیر داخلہ احسن اقبال اور دیگر حکام بھی موجود ہیں۔

منگل کو چین کے صوبہ ہینان کے باؤ گیسٹ ہاؤس میں پاکستانی وزیراعظم اور چینی صدر کے درمیان ملاقات ہوئی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے ایک خطہ ایک شاہراہ منصوبے کے ذریعے پاک چین تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا اعادہ کیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان چین کا گہرا دوست ہے اور چائنا پاکستان اقتصادی راہداری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقتصادیات، توانائی، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور افرادی قوت کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

عالمی امن و سلامتی میں چین کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی امور میں چین کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے کا خواہش مند ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کا ایک خطہ ایک شاہراہ منصوبہ 21 ویں صدی میں عالمی ترقی کیلئے بین الاقوامی منصوبہ بن گیا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چین کی اصلاحات اور آزادانہ پالیسی سے کسی ملک کو خطرہ نہیں ہے۔

اس موقع پر چین کے صدر چی جن پنگ نے 2015ء میں اپنے پاکستان کے دورے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تذویراتی اشتراک عمل میں نمایاں پیش رفت کو سراہا۔

انہوں نے کہاکہ آج جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں پاکستان اور چین کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات انتہائی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

صدرشی جن پنگ نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے جو ایک خطہ ایک شاہراہ منصوبے کے تحت دوطرفہ تعاون کی ایک عظیم مثال ہوگی۔

انہوں نے گوادر کی بندرگاہ، صنعتی زونز اور بجلی گھروں سمیت سی پیک کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں چین کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

قبل ازیں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور علی بابا گروپ کے چیئرمین جیک ما سے بھی ملاقات کی۔

2050 تک پاکستان دنیا کی 15 ویں بڑی معیشت بن جائے گا، وزیراعظم

وزیراعظم نے چین میں باؤ فورم سے خطاب بھی کیا اور کہا کہ 2050 تک پاکستان دنیا کی 15 ویں بڑی معیشت بن جائے گا۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان اور چین کے تعلقات کو مثالی قراردیا اور کہا کہ ایک خطہ ایک سڑک منصوبہ عالمی اہمیت اختیار کر گیا ہے، تاریخ میں پاکستان چین دوستی کی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے جنوبی حصے میں قائم گوادر بندرگاہ پرکام تیزی سے جاری ہے، تکمیل کے بعد یہ بندرگاہ نہ صرف ٹرانزٹ کیلئے استعمال ہوگی بلکہ ایک اقتصادی مرکز کا کرداراداکرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2050 میں پاکستان دنیا کی 15 ویں بڑی معیشت ہوگا، اقتصادی ترقی اور خوشحالی امن اور برداشت کو فروغ دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت سالانہ 6 فیصد کی شرح سے ترقی کررہی ہے جو دہائی میں سب سے زیادہ ہے، ہماری کیپیٹل مارکیٹس، فرنٹیئرایمرجنگ مارکیٹ اسٹینڈرڈز سے اپ گریڈ ہورہی ہے، امید ہے ہماری ترقی شرح عالمی اوسط سے آگے بڑھ جائے گی اور 2050 تک ہم دنیا کی 15 ویں معیشت بن جائیں گے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here