ترک صدر اور بھارتی شخصیات کی وزیراعظم عمران خان کی امن اور مذاکرات کی کوششوں کی تعریف

PM Imran receives praise for decision to release Indian pilot
PM Imran receives praise for decision to release Indian pilot

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے اعلان کا بھارتی صحافیوں اور سیاستدانوں کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ترک صدر طیب اردگان اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق ترک صدر طیب اردگان اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان پاک بھارت حالیہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی امن کی کوششوں پر طیب اردگان کو اعتماد میں لیا جبکہ ترک صدر نے وزیراعظم عمران خان کی امن اور مذاکرات کی کوششوں کی تعریف کی۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے اعلان کا بھارتی صحافیوں اور سیاستدانوں کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں گرفتار بھارتی ائیر فورس کے پائلٹ ابھی نندن کو جذبہ خیر سگالی کے طور پر کل رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان نے گزشتہ روز لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے دو بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا اور ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کر لیا تھا۔

عمران خان کا قدم اربوں لوگوں کی خوشی کا سبب بنا، سدھو

بھارتی وزیراورسابق کرکٹرنوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ ‘عمران خان آپ کا خیرسگالی کا اقدام اربوں لوگوں اور قوم کی خوشی کا سبب بنا ہے۔

سدھو نے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ میں عمران خان کے اعلان کے بعد بھارتی قیدی کے والدین اور چاہنے والوں کی خوشی محسوس کرسکتے ہیں ۔

کشیدگی میں کمی کا دروازہ کھل گیا، برکھا دت

نامور اور ایوارڈ یافتہ بھارتی صحافی برکھا دت نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

برکھا دت نے کہا کہ عمران خان کے فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کے اس اقدام سے کشیدگی میں کمی کا دروازہ کھل گیا ہے۔

برکھا دت نے مزید کہا کہ یہ بھارتی ٹی وی اینکروں کی بےوقوفی کا وقت نہیں ہے۔

پاکستان نے تاثرکی جنگ جیت لی، اجے شکلا

سینئر بھارتی صحافی اور بزنس اسٹینڈرڈ کے کالم نگار اجے شکلا نے وزیراعظم عمران خان کے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے فیصلے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اصل لڑائی میں چاہے کچھ بھی ہو لیکن پاکستان نے تاثر کی جنگ جیت لی ہے۔

بھارتی صحافی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کا پبلک ریلیشنز ہر قدم پر ہم سے آگے تھا۔

عمران خان کا اعلان غیر متوقع تھا، ادتیہ مینن

معروف بھارتی صحافی ادتیہ مینن نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کے لیے عمران خان کا اعلان بالکل غیر متوقع تھا۔

ادتیہ مینن نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کے اس اقدام کا سہرا بھارت میں کسی کے بھی سر نہیں جاتا ۔

عمران خان کا اعلان امن کا اقدام ہے، ساگریکا گھوش

سینئر صحافی اور مصنفہ ساگریکا گھوش نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کو رہاکرنے کا اقدام امن کا اقدام ہے ۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ یہ اخلاقی فیصلہ بھی ہے۔

انہوں نے ‘ ویل ڈن عمران خان’ لکھ کر وزیراعظم پاکستان کے فیصلے کو سراہا۔

پاکستان کشیدگی بڑھا سکتا تھا لیکن امن کی بات کی، محبوبہ مفتی

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے ۔

ایک بیان میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ پاکستان کا اچھا اقدام ہے،اسے یک طرفہ نہیں دیکھنا چاہیے، یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا جب پاکستان کشیدگی بڑھا سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اس اقدام کو مفاہمت کے طورپردیکھتی ہوں، بھارتی حکومت کوبھی اس کا جواب دینا چاہیے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے حقیقی لیڈرشپ کا مظاہرہ کیا ہے، اب ہماری سیاسی قیادت کا فرض ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کے اقدامات کرے، جموں کشمیرکے لوگ ناقابل بیان حالات میں رہ رہے ہیں، ہم کب تک ایسے جیئیں گے؟

عمران خان کا اقدام باعث اطمینان ہے، عمرعبداللہ

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا ہے کہ انھیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی کا اعلان کر دیا ہے۔

انھوں نے عمران خان کے اس اقدام پر اپنے اطمینان کا اظہار بھی کیا۔

اخلاقی اعتبار سے جیت عمران خان کی ہورہی ہے، راج دیپ سرڈیسائی

بھارت کےنامور سینئر صحافی اور مصنف راج دیپ سرڈیسائی نے کہا ہے کہ بھارت میں چاہے ہمیں پسند آئے یا نہیں ، لیکن اخلاقی اعتبار سے اس وقت جیت عمران خان کی ہو رہی ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے وقت میں ہمارے لیڈر اپنےووٹ گننے میں مصروف ہیں۔

پاک بھارت حالیہ کشیدگی کا پس منظر

14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوجی قافلے پر خود کش حملہ ہوا تھا جس میں 45 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے حملہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا شروع کردیا تھا۔

اس کے بعد 26 فروری کو شب 3 بجے سے ساڑھے تین بجے کے قریب تین مقامات سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی جن میں سے دو مقامات سیالکوٹ، بہاولپور پر پاک فضائیہ نے ان کی دراندازی کی کوشش ناکام بنادی تاہم آزاد کشمیر کی طرف سے بھارتی طیارے اندر کی طرف آئے جنہیں پاک فضائیہ کے طیاروں نے روکا جس پر بھارتی طیارے اپنے ‘پے لوڈ’ گراکر واپس بھاگ گئے۔

پاکستان نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور بھارت کو واضح پیغام دیا کہ اس اشتعال انگیزی کا پاکستان اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر جواب دے گا، اب بھارت پاکستان کے سرپرائز کا انتظار کرے۔

بعد ازاں 27 فروری کی صبح پاک فضائیہ کے طیاروں نے لائن آف کنٹرول پر مقبوضہ کشمیر میں 6 ٹارگٹ کو انگیج کیا، فضائیہ نے اپنی حدود میں رہ کر ہدف مقرر کیے، پائلٹس نے ٹارگٹ کو لاک کیا لیکن ٹارگٹ پر نہیں بلکہ محفوظ فاصلے اور کھلی جگہ پر اسٹرائیک کی جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ پاکستان کے پاس جوابی صلاحیت موجود ہے لیکن پاکستان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہتا جو اسے غیر ذمہ دار ثابت کرے۔

جب پاک فضائیہ نے ہدف لے لیے تو اس کے بعد بھارتی فضائیہ کے 2 جہاز ایک بار پھر ایل او سی کی خلاف ورزی کرکے پاکستان کی طرف آئے لیکن اس بار پاک فضائیہ تیار تھی جس نے دونوں بھارتی طیاروں کو مار گرایا، ایک جہاز آزاد کشمیر جبکہ دوسرا مقبوضہ کشمیر کی حدود میں گرا۔

پاکستان حدود میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ کو پاکستان نے حراست میں لیا جس کا نام ونگ کمانڈر ابھی نندن ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here