پیر عمران نیازی کی نظر

AGHA WAQAR AHMED

پیر عمران نیازی کی نظر

بقول عمران نیازی کہ وہ سابقہ 30 سال سے روحانیت کی منزل طے کر رہا ہے۔ 30 سال پہلے 1988 تھا۔ حیرت اس بات پر کہ وہ صاحب اُس دور میں سیتا وائٹ کے ساتھ تھے اس کے بعد نیازی صاحب کا دورِجمائمہ شروع ہوا، اس کے بعد اور بھی اوراک تھے پھر 2014 میں ریحام خان کا دور تھا اور آج کل وہ پیرنی کے چکر میں ہیں اور شادی بھی ہو چکی ہے جس کا اعلان اسلام کی روح سے لازم ہے۔

نکاح کیا ہے؟ نکاح چار افراد یا اس سے زیادہ افراد کے درمیان اعلان ہے کہ فلاں بنت فلاں کو چند شرائظ کے ساتھ اپنی زندگی کا ساتھی منتخب کیا مگر، ریحام سے نکاح اور اس سے انکار کرنے والے شخص نے بعد میں اقرار کیا اور اب بشریٰ وٹو سے نکاح کر لیا مگر سنت رسول پر عمل درامد نہیں کر رہے اور اعلانِ نکاح سے دانستہ طور پر پرہیز فرما رہے ہیں۔

اور اس بات کا دعوہ بھی کرتے ہیں کہ وہ روحانیت کی منزل طے کر رہے ہیں جسکا اظہار انہوں نے کامران شاھد کے ساتھ پروگرام میں کیا۔

یہ دوہرا معیارِ زندگی اور زندگی کے حقائق کی چشم پوشی ایک سیاسی لیڈر کو زیب نہیں دیتا دیتی۔

میں مزید تفصیل میں نہیں جاؤں گا کیونکہ پی ٹی آئی کے کارکن اپنے لیڈر کے متعلق سچ سننے کے عادی نہیں اور حقائق جاننے کے بعد مرنے مارنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور مجھے ابھی اپنی زندگی پیاری ہے۔

حقائق قوم کے سامنے ہیں، عمران نیازی کا انٹرویو کامران شاھد کے ساتھ سُن لیں۔

پھر فیصلہ کریں کہ کیا عمران طریقیت کے معیار پر پُرا اترتے ہیں؟

کیا عمران نیازی اسلام اور سنت کے مطابق عمل پیرا ہیں؟

اس سوال کو حل کرنے سے قاصر ہوں اس لیے آپ کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں۔

درخواست ہے کہ اسلام اور روحانیت کو سیاست سے دور رکھیں اور مذہب کا مذاق اُڑانے کی کوششں نہ کریں کہیں اللہ پاک کی پکڑ میں نہ آ جائیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here