والدین میں اسمارٹ فون کا استعمال بچوں کو باغی بنانے کا باعث

Parents use smartphones which cause children to rebel
Parents use smartphones which cause children to rebel

:مشی گن

توجہ کے طلب گار یا ضد کرتے ہوئے بچوں کو والدین اگر نظر انداز کرتے ہوئے اسمارٹ فون میں چھپنا چاہیں تو یہ ان کے لیے مزید مصیبت کی وجہ بن سکتا ہے کیونکہ اس عدم توجہی سے بچے مزید خودسر، ضدی اور بدتمیز ہوسکتے ہیں اور والدین یہ تبدیلی صرف چند ماہ میں دیکھ سکتے ہیں۔

ذہنی تناؤ کے شکار والدین بچوں سے جان چھڑانے کے لیے اپنی نظرین اسمارٹ فون کی اسکرین پر جماتے ہیں لیکن اس سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ اس ضمن میں مشی گن یونیورسٹی میں 183 جوڑوں کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ والدین بچوں کی بجائے اپنا اسمارٹ فون زیادہ دیکھتے ہیں اس سے بچے مزید باغی ہوجاتے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ اس عمل میں اسمارٹ فون کو دوش نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ عمل ’ٹیکنو مداخلت یا ٹیکنو فیریئنس‘ کہلاتا ہے جس میں والدین بچوں کے سامنے حاضر نہیں ہوتے اور توجہ کے طالب بچوں پر دھیان نہیں دے پاتے۔ تحقیق سے وابستہ پروفیسر جینی ریڈسکی یونیورسٹی آف مشی گن میڈیکل اسکول میں بچوں کے امور کی ماہر ہیں۔ 

ڈاکٹر جینی کہتی ہیں کہ چھوٹے بچوں کا رویہ پڑھنا مشکل ہوتا ہے  پھر جب آپ مختلف کاموں میں الجھے ہوں اور توجہ کسی اور جانب ہو تو بچوں کا مزاج جاننا اور مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے ردِ عمل میں بچے پھر ایسا کام کرتے ہیں جن سے وہ مزید توجہ حاصل کرسکیں۔ اس ضمن میں وہ الٹا سیدھا بہت کچھ کرجاتے ہیں اور والدین پریشان ہوتے رہتے ہیں۔

دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں برے رویے اور بدمزاجی کی کئی وجوہ ہوتی ہیں ان میں سرِفہرست بچوں کو ہر وقت تنقید کا نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو غور سے دیکھیں اور جب جب انہیں توجہ کی ضرورت ہو وہ انہیں مہیا کریں۔ اس سے قبل والدین بچوں سے منہ پھیرنے کے لیے کتاب، رسالے یا میگزین کا سہارا لیتے تھے لیکن اب فون کی آمد سے یہ کام دن میں کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے اور فون دیکھ کر بچوں کو نظرانداز کرنا بہت آسان ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ اسمارٹ فون کا استعمال بچوں اور والدین میں روابط کمزور کررہا ہےاور اس سے بچوں کا برتاؤ بدل رہا ہے۔

اس سروے میں ایسے والدین کو شامل کیا گیا تھا جن کے بچے 6 سال سے کم عمر کے تھے۔ پھر چھ چھ ماہ کے بعد ان کا جائزہ لیا گیا اور والدین سے بعض سوالات کیے گئے جن میں ان کے بچوں کے رویوں کے متعلق بطورِ خاص پوچھا گیا۔ جن والدین نے بچوں کی موجودگی میں اسمارٹ فون کے زائد استعمال کا اعتراف کیا انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے بچوں کا رویہ خراب ہورہا ہے۔

اس تعلق کے بعد ماہرین نے کہا ہے کہ والدین بے شک اسمارٹ فون استعمال کریں لیکن جب جب ان کے بچے ان سے توجہ مانگیں وہ ضرور انہیں فراہم کریں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here