یہ کالم 18 جولائی 2017 کوقومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ پانامہ کا ہنگامہ

AGHA WAQAR AHMED

پانامہ کا ہنگامہ

(یہ کالم 18 جولائی 2017 کو قومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے)

ایک سال سے زائد عرصے سے پاکستانی میڈیا اور سیاسی رہنما یہ دعویٰ کرتے آ رہے ہیں کہ پانامہ پیپرز ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پانامہ پیپرز اسکینڈل موجودہ دور میں نہ صرف پاکستان ، بلکہ شائد دنیا کا سب سے بڑا میگا اسکینڈل ہے کیونکہ اس کے ذریعے اپریل 2016 میں برطانیہ ،امریکہ ،جرمنی،فرانس ،چین،روس،بھارت ،آسٹریلیا،سعودی عرب ،قطر،سویڈن،آئس لینڈ،ارجنٹینا،میکسیکواور دنیا کے 100سے زائد ممالک کے ہزاروں افراد کی ایک کروڑ 15لاکھ دستاویزات جاری کی گئیں۔

پانامہ پیپرز اسکینڈل میں پاکستان کے تقریباَ 500 افراد ملوث  ہیں مگرشریف خاندان کے علاوہ قابل ذکر افراد جن میں عمران خان کے علاوہ کچھ عدلیہ اور اعلیٰ عہدہ پر فائز بیورو کریٹس اورماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے افراد بھی شامل ہیں ۔

 دستاویزات جاری ہونے کے پہلے ہی 3ہفتوں میں فوری طور پر دنیا کے 35ممالک نے ان انکشافات پر تحقیق کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ آف شور کمپنی بنانے والے ان افراد سے ان کی دولت کے حصول  کے ذرائع معلوم کریں گےاور اگر وہ اپنی دولت کے متعلق عدلیہ کو مطمئن نہیں کر سکے تو ان افراد کو آئین و قانون کے تحت سزادی جائے گی۔

پانامہ گیٹ پر پاکستان میں پورا سال بحث ہوتی رہی ۔سپریم کورٹ سے لے کر میڈیا تک عوام سے لے کر حکومتی دفاتر تک اس معاملے پر چہ مگوئیاں ہوتی رہیں ۔سپریم کورٹ نے مئی 2017 میں پانامہ پیپرز کے لئے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جےآئی ٹی )تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ۔

 آج کل عدلیہ اور عوام میں یہی موغوع زیر ِ بحث ہے۔عین ممکن ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے ملکی سیاست اور حکومت کو دھچکا لگنے والا کوئی فیصلہ آئے یا اس کیس کا  گہری نظر سے مطالعہ و معائنہ کرنے کے لئے نیب اور ایف آئی اے (احتساب عدالت اور ٹرائل کورٹ) کے حوالے کر دیا جائے۔ یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں کہ ایسا کوئی فیصلہ ہی نہ آئے جس سے حکومتی ایوانوں اور عام عوام پر کوئی اثر ہی نہ پڑے مگر ےہ حقیقت ہے کہ اس نے عام آرمی کی زندگی میں پریشانی اور مایوسی کو جنم دیا۔

یکم نومبر 2016سے پاکستان ایک ایسی مشکل میں الجھ گیا ہے جس سے نکلنا نہ صرف بظاہر  مشکل بلکہ پاکستانیوں کو انفرادی و اجتماعی طور پر بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کیونکہ نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستانی حکمران پانامہ لیکس کے بعد عدلیہ اور حزب اختلاف کی نظر اور سوچ کے مطابق صادق اور امین نہیں رہے ۔جس کی اصل وجہ نااہل مشیرانِ وزیراعظم پاکستان اور کم عقل حکومتی وزراءکا ٹولہ ہے جب پانامہ لیکس ہوئیں تو وزیر اعظم پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ خود ہی اس حقیقت کو تسلیم کر لیتے کہ پانامہ لیکس میں جن جائیدادوں ںکاتذکرہ ہے وہ ان کی ہی ملکیت ہیں ۔

اس کا فائدہ یہ ہونا تھاکہ پاکستان میں مزید 5سو افراد ایسے اور بھی ہیں جن کا تذکرہ پانامہ لیکس میں ہے مگر وہ آزاد پھر رہے ہیں۔ آپ یہ سن کر حیران رہ جائیں گے کہ سب سے پرانی پراپرٹی جو آف شور کمپنی سے خریدی گئی وہ محترم عمران خان کی ملکیت تھی وہ تسلیم بھی کرتے ہیں۔ کچھ جج صاحبان بیوروکریٹس کے علاوہ کچھ ایسے افراد کا بھی تذکرہ ہے جو کبھی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہوا کرتے تھے اُن کے نام بھی پانامہ کی لسٹ میں دیئے ہوئے افراد میں شامل ہیں۔

میرے نذدیک سیاست ایک عبادت ہے۔کیونکہ اہل علم کو معلوم ہو گا کہ دور قدیم میں خطہ عرب کے قبائل میں سردار ہوا کرتے تھے اور وہ قبائلی سیاست انتہائی ایمان داری سے کیا کرتے تھے۔جس کی ایک مثال ابو جہل کی ہے ۔جو اپنے قبیلے کا سردار تھااورکافر ہونے کے باوجودایک اچھا سیاستدان تھا۔

ابو جہل حضور اکرم ﷺ کا چچا ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کا سب سے بڑا دشمن بھی تھا مگر ابو جہل اپنی سیاست کی سچائی پر اس قدر قائم تھا کہا کرتا تھا کہ میں جانتا ہوں محمد ﷺ ایک سچے انسان ہیں اور وہ جو کچھ بھی کہ رہے ہیں وہ سچ ہے مگر میں اپنے بتوں کی پوجا اور قبیلے کا سردار ہونے کی حیثیت سے اس قبیلے سے بے وفائی نہیں کر سکتاجب ابو جہل ایک کافرسیاست دان ہونے کی حیثیت سے اپنے عوام کو سچ بتاتا تھا تو مجھے یہ سن کر دکھ اور شرمندگی بھی ہوتی ہے کہ ہمارے دور کے سیاست دان اسمبلیوں میں تقاریر کرتے ہیں جس پہ کروڑوں روپے کا خرچ آتا ہے اور عوام انہیں سننے کے لئے بے چین ہوتے ہیں اور وہ خطاب کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ سچ نہیں تھا بلکہ محض ایک سیاسی بیان تھا

انہیں میرا مشورہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے فرمان پر عمل نہیں کر سکتے تو وہ ابو جہل کو ہی دیکھ لیں کہ اس کا میعار کیا تھا۔اگر وزیر اعظم پاکستان پہلے روز ہی قوم سے خطاب میں سچ بولتے اور قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اس بات کا دعویٰ نہ کرتے کہ ان کے پاس تمام کاروباری رقوم کی منتقلی و ملکیت کے ثبوت ہیں جس کو منی ٹریل کے نام سے پکارا جا رہا ہے۔

بلکہ عقل مندی کا تقاضہ تو یہی تھا کہ اسی روز کرسی چھوڑ دیتے اور اپنی جماعت کے کسی فرد کو قومی و صوبائی اسمبلی سے پرائم منسٹر منتخب کروالیتے تو آج وہ اور ان کے تمام خاندان پر تلوار نہ لٹک رہی ہوتی۔ جب کسی بھی حکومت کا سربراہ صادق اور امین نہیں رہتا تو اس سے پہلے کہ عوام سڑکوں پر نکل آئیں وہ غلطی تسلیم کر کے اپنا عہدہ چھوڑ دیتا ہے۔لیکن جب وزیر اعظم قوم سے خطاب میں اور اس کے بعد قومی اسمبلی میں جھوٹ بول چکے تو پاکستان میں ٹیکس دینے والے افراد حرکت میں آئے اور انہوں نے حسب اختلاف کے ساتھ مل کراحتجاج کرنا شروع کیا جب انہوں نے محسوس کیا کہ حکمران ٹولہ اور حواری اپنی غلط بیانی تسلیم نہیں کر رہے تو انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیامگر افسوس کہ حکمران ٹولے نے اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے پاکستان کی سب سے بڑی عدلیہ ،عدالت عظمیٰ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی اور اپنے دفاع میں عدالت عظمیٰ میں جو کاغذات اور ثبوت پیش کیئے وہ تمام کے تمام جھوٹ کاپلندہ ثابت ہوئے اور اس وقت عدالت عظمیٰ اس چیز کا فیصلہ کرنے والی ہے کہ سچا کون ہے حکمران یا عوام؟؟

وزیر اعظم کو اس مقام تک لانے میں ان کے چند درباری اور ان کے خاندان کے چند افراد کی ضد تھی جس وجہ سے آج ان کے ساتھ ساتھ ساری پاکستانی قوم کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس حالت میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے تمام پاکستانی قوم اس امتحان میں ہے کہ سامنے حقیقت عیاں ہو اور انہیں بھی ادراک ہو کہ انہوں نے اپنے ووٹ سے جس شخص کو وزیر اعظم پاکستان منتخب کیا ہوا ہے اس کا اصل چہرہ کیا ہے؟

عدلیہ دن رات کی کوشش سے عوام کے اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مصروف ِ عمل ہے کہ عوام کو حکمران طبقہ کی حقیقت تلاش کر کے دے جس سے ان کا اصل چہرہ بیس کروڑ افرادکے سامنے بے نقاب کرے

افسوس اس بات پر ہے کہ بیس کروڑ افراد کی نمائندگی کرنے والا وزیر اعظم پاکستان اس بات سے بھی آشنا نہیں کہ اس کے پاس کتنی دولت ہے اور کہاں سے آئی؟ کس کس جگہ کاروبار میں لگائی؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس عہدے پر رہتے ہوئے وہ کسی قسم کا کاروبار نہیں کر سکتے ۔انہوں نے نہ صرف کاروبار کیا بلکہ تحقیقات کے بعد انکشاف ہوا کہ جناب ایک کاروباری کمپنی کے چئیر مین ہیں اور چئیر مین ہونے کی حیثیت سے تنخواہ کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات بھی حاصل کرتے رہے ہیں ۔

1973 کے آئین کے مطابق ایسا کوئی شخص جس کا کوئی ذاتی کاروبار ہو وہ سرکاری رتبے کے علاوہ کسی جگہ پر نوکری کرتا ہووہ پاکستان کے وزیر اعظم کے عہدہ پر رہنے کا اہل نہیں ہوتا ۔

وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے یہ تمام حقائق دانستہ طور پر اعلیٰ عدلیہ سے چھپائے جس کی وجہ سے وہ پاکستانی عوام کی نظروں میں صادق اور امین نہیں رہے۔

یہ مسلمٰہ حقیقت ہے انتظار صرف اس بات کا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ قانونی تقاضے پورے کر کے اس کیس کا فیصلہ سنائے تا کہ عوام اس ذہنی انتشار سےنجات حاصل کر سکیں۔

وقت کے حکمرانو ! اور حکمرانوں کی مخالفت کرنے والے لیڈرو ! عوام کی نظر میں تم دونوں جھوٹ کا سہارا لیا ہے ۔ سچ کیا ہے اس کی اُمید عدلیہ سے ہی لگائی جا سکتی ہے اور وہ عدلیہ ہی ہو گی جو عوام کو سچ سے روشناس کروائے گی۔

ان مفاد پرست سیاست دانوں سے ملک کو نجات دلائے گا کون؟؟؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here