پاکستانی کرکٹ مداح کے بھارت میں چرچے

Pakistani woman shares how she felt after pictures went viral during Asia Cup
Pakistani woman shares how she felt after pictures went viral during Asia Cup

:دبئی

ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کو تو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا لیکن پاکستانی مداح رضلا ریحان کا ہر میچ میں شرکت کرنا بھارت میں ان کی شہرت کا باعث بن گیا۔

رضلا ریحان پاکستانی شہری ہیں لیکن دبئی میں اپنے خاوند کے ساتھ مقیم ہیں، وہ امن کی خواہاں ہیں اور غریب و نادار افراد اور انسانیت کی بہتری کے لیے کام کرتی ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ رضلا کرکٹ کی دیوانی بھی ہیں اور ہر حال میں اپنی قومی ٹیم کو سپورٹ کرتی ہیں۔

انہوں نے ایشیا کپ میں قومی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اپنے دوستوں کے ساتھ ہر میچ میں شرکت کی اور بھرپور جوش و جذبے سے میچز کو انجوائے بھی کیا۔

اسٹیڈیم میں گھومتے کیمروں میں ایک میچ کے دوران اُن پر فوکس کیا گیا جس کے بعد دوسرے میچ میں انہیں دوبارہ فوکس کیا گیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے میچ کے دوران ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

بعد ازاں سوشل میڈیا پر ان کی کرکٹ دیوانگی کے بھی چرچے شروع ہوگئے اور ساتھ ہی ان کی خوبصورتی کی بھی خوب تعریفیں ہونے لگیں، حتیٰ کہ ان کی تصاویر پر متعدد میمز بھی بنائی گئیں۔

رضلا ریحان پاکستانی کرکٹ مداح ہونے کے باوجود سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت میں اتنی مقبول ہوئیں کہ ان کے بارے میں جاننے کے لیے بھارتی میڈیا نے ان سے رابطہ کر ڈالا۔

بھارتی نیوز چینل ‘نیوز 18’ کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران بھارتی میزبان نے رضلا کو بتایا کہ بھارت میں سب ان کے مداح ہوچکے ہیں اور لوگ انہیں ‘نیویا نوورا’ کے نام سے جانتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران رضلا نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ ‘میرا نام نیویا ہے ہی نہیں، بہت غلط افواہیں گردش کر رہی ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے کبھی اپنے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس طرح میڈیا مجھے ڈھونڈے گا یا میں اس طرح سوشل میڈیا پر اچانک مقبول ہوجاؤں گی’۔

رضلا نے بتایا، ‘دلچسپ بات یہ ہے کہ میں اس سے قبل بھی میچز دیکھنے آئی ہوں لیکن مجھے لگتا ہے تب کیمرہ مین شاید سو رہا تھا، جس کی وجہ سے اس نے تب غور نہیں کیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پہلے مجھے یقین نہیں آیا لیکن جب ایک کے بعد ایک دوستوں کی کالز آنے لگیں اور میرے خاوند نے بھی مجھے سوشل میڈیا دکھایا تو مجھے بہت حیرانی ہوئی’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘مجھے اس وقت بھی بہت حیرانی ہوئی تھی جب بھارتی کمنٹیٹر روی شاستری نے تھمبز اپ (Thumbs up) کیا تھا’۔

انٹرویو کے دوران جب میزبان نے ان سے پوچھا ‘کیا آپ کا بھارت سے کوئی تعلق ہے؟’ تو رضلا نے بتایا کہ ‘میرے والد صاحب وہاں پیدا ہوئے، جبکہ میرے دادا دادی کا تعلق بھارت سے ہے، میرا بھارت سے کوئی تعلق نہیں، میں کراچی پاکستان سے ہوں’۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ‘آپ بھارت میں اتنی مقبول ہوچکی ہیں، وہاں کے لوگ آپ کو پسند کر رہے ہیں، آپ سے ملنا چاہتے ہیں تو کیا آپ بھارت کا دورہ کریں گی؟’

جس پر رضلا ریحان نے جواب دیا کہ ‘اگر بھارت مجھے ویزا دے گا تو میں ضرور آنا چاہوں گی، مجھے وہاں کے فلمی ستارے شاہ رخ خان اور سلمان خان بہت پسند ہیں، وہاں کے ملبوسات اور دیگر چیزیں بھی عمدہ ہیں، اگرچہ پاکستان کی بھی بہت اچھی ہیں لیکن بھارت کی بھی اچھی لگتی ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دبئی میں میرے بہت سے بھارتی دوست ہیں، ہم سب امن کے خواہاں ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان ایک اچھا ماحول چاہتے ہیں’۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ‘جو مجھے پسند کرتے ہیں میں ان سے درخواست کروں گی کہ میری ایک ذاتی زندگی ہے، تصاویر پسند کریں لیکن احتیاط کریں کہ کوئی منفی اثرات نہ پیدا ہوں، میرا صرف ‘دی پاکستانی فین’ کے نام سے انسٹاگرام اکاؤنٹ ہے، اُسی کو فولو کریں’۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here