پاکستان داعش کیخلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہے: وزیراعظم عمران خان

Pakistan, Turkey vow to support each other on core national interest issues
Pakistan, Turkey vow to support each other on core national interest issues

:انقرہ

وزیراعظم عمران خان کا ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہنا ہے کہ پاکستان داعش کیخلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان اور ترکی کے سربراہان حکومت کے درمیان انقرہ میں ہونے والی ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک ساتھ نماز جمعہ بھی ادا کی۔

ترک صدر اور وزیراعظم کی مشترکہ پریس کانفرنس

دوسری جانب انقرہ میں ترک صدر نے وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفد کا انقرہ میں خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستان اور ترکی کے درمیان دو طرفہ تعلقات ہیں جو مستحکم ہورہے ہیں اور تعلقات میں گرم جوشی پائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترک فاؤنڈیشن سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پاکستان میں تبدیلی کے لیے بہت جہدوجہد کی۔

پاکستان داعش کیخلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہے: عمران خان

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اگلے 5 سال میں 50 لاکھ گھر تعمیر کرنےکا منصوبہ ہے، اس لیے ہاؤسنگ شعبے میں ترک کمپنیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں مدینےکی ریاست کی طرز بھی نظام لانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان داعش کیخلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان، پاکستان اور ترکی کا سربراہ اجلاس استبول میں ہوگا، ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں اور افغان مسئلے کے حل میں علاقائی طاقتوں کا کردار اہم ہے۔

وزیراعظم نے ایک بار پھر سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے لیے بھارت کے ساتھ بھی مذاکرات کے خواہاں ہیں لیکن بھارت سے مرکزی تنازع کشمیر ہے جس پر نئی دہلی بات کرنے کو تیار نہیں۔

وزیر اعظم کے دورہ ترکی کا مشترکہ اعلامیہ جاری

وزیراعظم عمران خان کے دورہ ترکی کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ترک صدر طیب اردوان کی دعوت پر وزیراعظم نے ترکی کا 2 روزہ سرکاری دورہ کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ سطح وفد بھی وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ تھا جہاں وزیراعظم اور ترک صدر کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی اور دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بات چیت میں دو طرفہ، خطے اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان مثالی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں جو کہ اب اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

اعلامیے میں کہاگیا ہے کہ پاکستان اور ترکی نے باہمی تعاون کو تمام شعبوں تک وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں دونوں ملکوں نے ہر قسم کی دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے اور فتح اللہ گولن کی دہشت گرد تنظیم کیخلاف بھی عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں ممالک کے تمام عالمی فورمز پر دو طرفہ تعاون پر اظہار اطمینان کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور ترکی نے سلامتی کونسل کی قراردادوں اور مذاکراتی عمل سے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیوکلئیرسپلائرز گروپ میں شمولیت کے لیے پاکستان ترکی کی حمایت کو سراہتا ہے جب کہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام تمام فریقین کے درمیان مصالحت کے ذریعے ہی آسکتا ہے۔

وفود کی سطح پر مذاکرات

اس کے علاوہ پاکستان اور ترکی کے درمیان انقرہ میں وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔

پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی جب کہ ترک وفد کی قیادت وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے کی۔

مذاکرات میں پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تجارت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے دفود کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ سمیت دیگر اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان اور ترکی نے افغان مسئلے کے جلد پُرامن حل کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔

میولوت چاوش اولو کا کہنا تھا کہ ترکی افغان امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کا معترف ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان،کشمیر سمیت اہم امور پر پاکستان اور ترکی کے مؤقف میں یکسانیت خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات حکومتوں تک محدود نہیں ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری محبت کے پیچھے ثقافت، مذہب اور عوام کی محبت کارفرما ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here