بھارت کا پلوامہ حملے سے متعلق ڈوزئیر دفتر خارجہ کو موصول

Pakistan receives Indian dossier on Pulwama attack
Pakistan receives Indian dossier on Pulwama attack

:اسلام آباد

بھارت کی جانب سے پلوامہ حملے سے متعلق ڈوزئیر دفتر خارجہ کو موصول ہوگیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کی جانب سے دیے گئے ڈوزئیر کا مشاہدہ اور اس میں موجود قانونی شواہد کا جائزہ لیا جائے گا، اگر پلوامہ حملے سے متعلق ایکشن کے قابل ثبوت ہوئے تو پاکستان کارروائی کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم بھی پلوامہ حملے کے حوالے سے واضح اعلان کرچکے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور کو بالا کوٹ لے کر جائیں گے، مختلف رپورٹس دیکھی ہیں لیکن ہم ہر جارحیت کا جواب دینے کو تیار ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ صورتحال پر دونوں ممالک عالمی برادی سے رابطے میں ہیں، اس موقع پر کس ملک کا کیا کردار ہوسکتا ہے وہ واضح نہیں، جن ممالک نے دہشت گردی کی بات کی ان پر پاکستان نے پوزیشن واضح کردی ہے، اگر دہشت گردی کا کوئی وجود تھا بھی تو بھارت کو بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف کارروائی کا کوئی قانونی جواز گھڑا جائے تو پھر پاکستان بھی کل کسی پر حملہ کرسکتا ہے، پاکستان نیشنل ایکشن پلان پر پہلے ہی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، میڈیا کا ذمہ دار ہونا بہت ضروری ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اگر ابھینندن جیسا واقعہ بھارت میں ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی، خوشی ہے کہ ہمارا میڈیا امن کو فروغ دے رہا ہے، بھارت ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے، ہم پر جب جنگ مسلط کی گئی تو ہم نے جواب دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال پر اب بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، ہم نے پہلے بھی کہا بھارت تباہی کے راستہ پر ہے، بی جے پی کے لوگ کہتے ہیں 22 سیٹوں کیلیے خطے کو جنگ میں دھکیلا جارہا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دفاع کیلئے کسی کی طرف نہیں دیکھ رہا،پاکستان اپنے عوام اور افواج کی طرف دیکھ رہا ہے، پاکستان ساری صورتحال پر عالمی برادری کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے، پاکستان کبھی بھارت سے مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر ہی بنیادی مسئلہ ہے، کوئی بھی بات چیت اسی تناظر میں ہوتی ہے اور ہوگی، ہم معصوم کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو اقوام متحدہ کو بھی آگاہ کریں گے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی پائلٹ سے متعلق پاکستان کی پوزیشن واضح ہے، جو محفوظ اور صحت مند ہے، بھارتی پائلٹ کو عوام نے پکڑا اور فورسز نے اسے بچایا جب کہ بھارت نے پائلٹ کا معاملہ پاکستان کے ساتھ اٹھایا ہے تاہم بھارتی پائلٹ کو جنگی قیدی کا درجہ دینا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ بعد میں ہوگا اور پائلٹ پر کون سا کنونشن لگنا ہے اس کا فیصلہ ایک دو روز میں ہوجائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج او آئی سی میں جائیں گی تو شاہ محمود قریشی شریک نہیں ہوں گے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here