پاکستان کی خواہش ہے امریکا افغانستان میں مکمل امن آنے تک رہے : ترجمان پاک فوج

Pakistan positively relevant to region and beyond: DG ISPR
Pakistan positively relevant to region and beyond: DG ISPR

:لندن

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خطے میں امن کیلئے بہت قربانیاں ہیں، پاکستان اور خطے میں دیرپا امن کیلئے افغانستان میں امن ہونا بہت ضروری ہے۔

لندن کی وارک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دنیا میں القاعدہ کو کبھی بھی پاکستان کی مددکے بغیر شکست نہیں ہوسکتی تھی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دنیا کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے اور پاکستان کی خواہش ہے کہ امریکا افغانستان میں مکمل امن  آنے تک رہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے آپریشن سے دہشت گردوں کی کارروائیاں صفر ہوگئی ہیں، ملالہ یوسف زئی پر حملہ خواتین کی تعلیم کے مخالف دہشت گردوں نے کیا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے میں تعلیم کا معیار بڑھانا اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا نہایت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے چند برسوں میں متاثرہ قبائلی علاقوں کے 500 کے قریب نوجوانوں نے پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا اور اس کے پانچ گنا زیادہ بچوں کو آرمی کے زیر انتظام چلنے والے اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کی سہولیات دی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ غیرمسلم کمیونٹیز سمیت پاکستان سب کا ہے اور پاک فوج قومی سالمیت کی حقیقی عکاس ہے جب کہ چند لوگوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے مغربی دنیا میں چند واقعات کو منفی طور پر استعمال کیا لیکن منفی تصاویر دکھانے والے عناصر نے یہ نہیں بتایا کہ پاکستان میں 20 کروڑ لوگ بین المذاہب ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں

نوجوانوں کی قوت پر بات کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستانی نوجوان قابل، متحرک اور بڑی صلاحیتوں والا نوجوان ہے، 50 ہزار پاکستانی ڈاکٹر امریکا اور ددیگر ممالک میں میں کام کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی نوجوان پڑھ لکھ کر واپس آئیں اور ملک کی خدمت کریں، ریاست کی بھی ذمہ داری کے کہ وہ نوجوانوں کو مستقبل کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرے۔

ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ پاکستانی حکومت فاٹا میں مقامی افراد کے ساتھ مل کر بہت ترقیاتی کام کررہی ہے اور حکومت فاٹا والوں کے مسائل سے اچھی طرح واقف ہے، کسی کو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے یا قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here