اپوزیشن حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، اپوزیشن لیڈر بلوچستان اسمبلی

opposition will not be part of the government, opposition leader Balochistan Assembly
opposition will not be part of the government, opposition leader Balochistan Assembly

:کوئٹہ

بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع کا کہنا ہےکہ حکومت وزیراعلیٰ کے لیے متفقہ طور پر امیدوار سامنے لائے کیونکہ اپوزیشن حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔

بلوچستان اسمبلی میں گزشتہ روز وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی تھی لیکن اس سے قبل ہی نواب ثنااللہ زہری وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہوگئے جس کے بعد نئے قائد ایوان کے لیے جوڑ توڑ شروع کردی گئی ہے۔

ثنااللہ زہری کے استعفے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر نوازشریف نے اپوزیشن کو اپنا امیدوار لانے کی پیشکش کی تھی جسے اپوزیشن نے مسترد کردیا ہے۔

کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ آج میڈیا کے سامنے تین اہم اعلان کرنے آئے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر نے اعلان کیا کہ اپوزیشن، اپوزیشن میں ہی رہی گی اور حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، حکومت وزیراعلیٰ کے لیے متفقہ طور پر امیدوار سامنے لائے، اپوزیشن نئی حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی جب کہ کسی غیر جمہوری عمل کی بھی حمایت نہیں کریں گے۔

مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کو گرنے نہیں دے گی، مثبت حکومت کے لیے تعاون کریں گے، ہم سب اس حکومت کی تائید میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو تبدیل کرکے حکومت میں نہ جانا اصول کی تابعداری ہے، ہم حکومت اور وزارتیں نہیں چاہتے، اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کرتے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ حزب اختلاف میں شامل جماعتیں کسی غیر جمہوری عمل کی حمایت نہیں کریں گی۔

مولانا عبدالواسع کا کہنا تھا کہ ایک مدت میں تین حکومتیں بدلنا بھی صوبے کے مسائل میں سے ہے، عوام کی جو مشکلات ہیں انہیں کم کرنے کے لیے اتحاد و اتفاق ضروری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے لیے اب تک کسی اتحاد کا فیصلہ نہیں ہوا لیکن خواہش ہے سب جماعتیں متحد رہیں۔

اپوزیشن لیڈر کہنا تھا کہ بلوچستان میں کوئی آئینی بحران پیدا نہیں ہوگا، اپوزیشن قائد ایوان کی نامزدگی کے سارے اختیارات اکثریتی پارٹی کو دے گی۔

اس موقع پر بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ کسی غیر آئینی طریقہ کار کو استعمال کیا گیا تو اپنا فیصلہ جمہوریت کو بچانے کے لیے کریں گے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here