ہر دفعہ ایک قدم پیچھے

AGHA WAQAR AHMED

ہر دفعہ ایک قدم پیچھے

میاں نواز شریف  کو چند ہزار کارکنوں نے تاحیات پارٹی صدر منتخب کیا ہے وہ قائد 17 اپریل کو ایک کانفرنس بلا رہے ہیں ۔ یہ کانفرنس اپنی نوعیت کی منفرد کانفرنس ہےجس میں سیاسی جماعتوں میں ان کے حریف ، انکے ساتھی، حمایت یافتہ  وکلاء کی تنظیمیں ، سول سوسائٹی اور کچھ طلبا تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

گویہ نواز شریف انقلاب کی طرف پہلا قدم اٹھانا چاہتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ انقلابی نہیں۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نے سول ملٹری لڑائی کے پسِ منظر میں ایم آر ڈی یا اے آر ڈی کی طرز پر ایک ایسی سیاسی وجمہوری جدوجہد کا آغاز کرنا چاہتے ہیں جس میں نواز شریف کے ساتھ  دینےکیلئے وہ جنگ لڑی جائے جس کا فائدہ صرف نواز شریف کی ذات کو ہواورعوام بھاڑ میں جائیں، مگر اس دفعہ بھی نواز شریف اس ڈرامے میں ایک قدم پیچھے رہ گئے۔

نواز شریف نے 17 اپریل کو کانفرنس بلائی ہے کہ وہ اس کانفرنس میں وکلاء تنظیمیں، سول سوسائٹی، اپنے سیاسی دوست، اپنےسیاسی اتحادی، طلبا تنظیموں اور مزدر تنظیموں کو بلا کر اپنے ساتھ یکجہتی کا اعلان کروائیں گے مگر پھر بھی وہ ایک قدم پیچھےرہ گئے۔

7 اپریل کو فلیٹیزہوٹل میں دوپہر 11 بجے سے لیکر سہہ پہر4 بجے تک  ایک کانفرنس ہو رہی ہےجس کانفرنس میں پڑھے لکھے افراد، پاکستان کے گمنام ہیروز کو تلاش کریں گے اور ان کے سپرد ذمہ داریاں کریں گے کہ وہ اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ سیاستدانوں  پر نظر رکھیں۔ انتخابات میں دھاندلی نہ ہونے دیں اور جو وعدے سیاستدان کرتے ہیں وہ انتخابات کے بعد ان کو یاد دلائیں اور اگر انتخابات کے میدان سےمسلم لیگ ن بھاگ گئی یا مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی متفقہ طور پر نگران حکومت کیلئے وزیراعظم اور کابینہ تشکیل نہ دیں سکیں تو 7 تاریخ کی کانفرنس میں بیٹھے ہوئے افراد اس بات کا فیصلہ خود کریں گے کہ نگران حکومت کس طرح تشکیل پائے گی۔

30 مئی کو اسمبلیاں تحلیل ہونے سے پہلے پہلے ایک نگران حکومت معرضِ وجود میں آ جائے گی۔اسطرح نواز شریف اب بھی ایک قدم پیچھے رہ گئے کیونکہ 7 اور 17 میں 10 دن  کا فرق ہے۔

سیاست میں لمحے بڑے اہم ہوتے ہیں اور لمحوں کی اہمیت کھو جانے والا سیاستدان پیچھے رہ جاتا ہے۔ لمحوں کا کھونے والا سیاستدان اصغر خان بن جاتا ہے۔ اللہ پاک پاکستان کو اپنے تحفظ میں رکھےاور پاکستانی عوام کو اپنی حفظ و ایمان میں رکھے۔ پاکستان زندہ آباد۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here