او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں متنازع امریکی اعلان کی شدید مذمت

OIC foreign ministers meeting condemns the controversial US announcement

:استنبول

امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے اعلان کی 57 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے شدید مذمت کی ہے۔

ترکی کے شہر استنبول میں 57 ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے نمائندوں اور سربراہان مملکت پر مشتمل اعلیٰ سطح کے اجلاس میں امریکی متنازع اعلان پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوگا۔

اس سے قبل استنبول میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جاری ہے جس میں خواجہ آصف پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں ۔

OIC meeting

اجلاس کے دوران امریکی متنازع اعلان کی شدید مخالفت کی گئی اور فلسطین سے اظہار یکجہتی کیا جارہا ہے۔

وزرا ئے خارجہ اجلاس میں فلسطین کے مسئلے پر مشترکہ قرارداد منظور کی جائے گی جسے اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں بھی پیش کیا جائے گا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان او آئی سی کانفرنس کی صدارت کریں گے اور اس کے افتتاحی اور اختتامی سیشن سے خطاب بھی کریں گے۔

فلسطینی صدر محمود عباسی، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم، پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، آذربائیجان کے صدر الہام الیو، ایرانی صدر حسن روحانی اور بنگلہ دیش کے صدر عبدالحامد سمیت 22 اسلامی ممالک کے سربراہان اور 25 ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

کانفرنس میں مصر، متحدہ عرب امارات، موروکو اور قازقستان کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے جب کہ سعودی عرب کی جانب سے اسلامک افئیر کے وزیر صالح بن عبدالعزیز الشیخ ریاض کی نمائندگی کریں گے۔

ترک وزیر خارجہ میولوت کیوی سوگلو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کے بعد بعض عرب ممالک کی جانب سے واشنگٹن کو مناسب جواب نہیں دیا گیا اور وہ خوف زدہ ہیں اور لگتا ہے کہ عرب ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں۔

ایران کی ایلیٹ ریولیوشنری گارڈ کے کمانڈر قاسم سلیمانی کا گزشتہ روز بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایران فلسطین میں اسلامی مزاحمتی طاقتوں کی حمایت کے لئے تیار ہے جب کہ ایرانی پارلیمنٹ نے مسلم ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ امریکا سے اقتصادی تعلقات ختم کریں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here