انصاف دینے کے لیے کسی چیز کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، چیف جسٹس

Nothing to be done to give justice, Chief Justice
Nothing to be done to give justice, Chief Justice

:اسلام آباد 

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار  کا کہنا ہے کہ انصاف دینے کے لیے کسی چیز کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، مجھے ٹارگٹ دل اور جذبے سے چاہئیں۔

عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میرے پاس کیسز آرہے ہیں جس میں ایک ایک سال بعد فیصلے لکھے گئے، میں تھک گیا ہوں کہہ کہہ کر ایک مہینے میں فیصلہ دیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قیامت کے دن ایک عادل قاضی کو اللہ کی رحمت کی چھاؤں نصیب ہوگی، یہ بڑا جید کام ہے، لہذا اپنی ذمے داریاں نوکری سمجھ کر نہیں فرض سمجھ کر اداکریں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایک سال کے لیے آپ اپنا وقت قوم کو تحفے میں دے دیں اور ایک سال بعد دیکھیے گا کہ کیا تبدیلی آئی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں عظیم لیڈر اور عظیم منصف آجائیں تو ملک کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے مگرمچھوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے، خدا کے واسطے انصاف کی فراہمی کے لیے جو کرسکتے ہیں کر گزریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اور آئین سازی پارلیمنٹ نے کرنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل کیا قانون آئے گا ہمیں اس کا انتظار نہیں کرنا، ہمیں موجودہ حالات اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے۔

اجلاس سے خطاب میں چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اس ملک میں عدلیہ سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے سرکاری اہلکار ہیں لیکن کیا ہم اس کا حق ادا کر رہے ہیں ۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے مقدمات میں تاخیر کی چھان پھٹک اور زیر التوا مقدمات کی بڑھتی تعداد سے نمٹنے کے لیے پوری عدلیہ کو نئے رہنما پالیسی خطوط جاری کیے تھے۔

نئی گائیڈ لائنز میں یہ ہدایات بھی شامل ہیں کہ احکام امتناع، کرایہ اور وراثت سے متعلق مقدمات کا فیصلہ 6 ماہ میں ہوجانا چاہیے، ضلعی عدلیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ دلائل سننے کے بعد 30 دن میں فیصلہ دے جبکہ ہائی کورٹس میں فیصلہ 3 ماہ سے زائد عرصے کے لیے محفوظ نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب محفوظ فیصلے بھی جلد سنانے کا ٹائم فریم مقرر کردیا گیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here