شمالی و جنوبی کوریا کا ملٹری ہاٹ لائن بحال کرنے پر اتفاق

North and South Korea agree to restore the military hotline
North and South Korea agree to restore the military hotline

:سیول

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات میں گزشتہ دو برس سے جمی برف پگھلنے لگی، دونوں ملکوں نے سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے عسکری مذاکرات کے انعقاد پر اتفاق کرلیا ہے۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران ہونے والے پہلے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شمالی و جنوبی کوریا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرحد پر کشیدگی کو کم کیا جائے گا اور اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان دو برس سے معطل عسکری ہاٹ لائن بحال کی جائے گی۔

اس کے علاوہ شمالی کوریا نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ آئندہ ماہ فروری میں جنوبی کوریا میں ہونے والے سرمائی اولمپکس میں بھی اپنا وفد بھیجے گا۔

مذاکرات میں شریک جنوبی کورین وفد نے بتایا کہ بات چیت کے دوران شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تاہم اس معاملے پر شمالی کوریا کا رویہ منفی تھا۔

امریکا نے شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا محتاط طریقے سے خیر مقدم کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا جنوبی کورین حکام سے رابطے میں ہے اور انہیں یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ شمالی کوریا کی ونٹر اولمپکس میں شرکت سے اقوام متحدہ کی پابندیاں متاثر نہ ہوں۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے وفد کی ونٹر اولمپکس میں شرکت کو سہل بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی مشاوت سے بعض پابندیاں عارضی طور پر ختم کرنے پر غور کررہا ہے۔

شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان مذاکرات دونوں ملکوں کی سرحد کے درمیان غیر عسکری علاقے پین منجوم ’’پِیس ولیج‘‘ میں منعقد ہوئے جس میں دونوں ملکوں کے پانچ پانچ سینئر عہدے داروں نے شرکت کی جبکہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے ویڈیو لنک کے ذریعے ان مذاکرات کو دیکھا۔

خیال رہے کہ سال نو کے پیغام میں شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان نے کہا تھا کہ وہ ونٹر اولمپکس میں اپنی ٹیم بھیجنے پر غور کررہے ہیں جبکہ جنوبی کوریا نے بھی کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے ایتھلیٹس کا خیر مقدم کرے گا۔

دونوں ملکوں کے درمیان آخری بار مذاکرات 2015 میں ہوئے تھے، اس کے بعد شمالی کوریا نے راکٹ لانچ اور جوہری تجربات کیے تھے جس کی وجہ سے جنوبی کوریا نے اس کے ساتھ مشترکہ اقتصادی پروجیکٹ معطل کردیا تھا اور دونوں ملکوں کے تعلقات بظاہر ختم ہوگئے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here