نازیہ حسن کے سابق شوہر کو ان کی زندگی پر فلم بنانے کا کوئی حق نہیں، ذوہیب حسن

Nazia Hassan's ex-husband has no legal right to make film on her: Zoheb
Nazia Hassan's ex-husband has no legal right to make film on her: Zoheb

گلوکار ذوہیب حسن نے خبردار کیا ہے کہ ان کی مرحوم بہن نازیہ حسن کے سابق شوہر کو ان کی زندگی پر فلم بنانے کا کوئی حق نہیں اور اگر کسی نے ان کا ساتھ دینے کی کوشش کی تو ان پر مقدمہ کیا جائے گا۔

پاکستان میں پاپ میوزک کی ملکہ کہلائی جانے والی نازیہ حسن کی شادی 30 مارچ 1995 کو بزنس مین مرزا اشتیاق بیگ سے ہوئی لیکن یہ شادی چل نہ سکی اور نازیہ کے دنیا سے رخصت ہونے سے 10 دن قبل دونوں میں طلاق ہوگئی۔

 13 اگست 2000 کو محض 35 سال کی عمر میں نازیہ حسن کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر لندن کے اسپتال میں دورانِ علاج خالق حقیقی سے جاملی تھیں۔

مرحوم گلوگارہ کے بھائی ذوہیب حسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا، ‘ہمیں معلوم ہوا ہے کہ نازیہ کے سابق شوہر ان کی زندگی پر فلم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں وہ اپنے آپ کو پیش کرسکیں اور نازیہ حسن کے نام اور شہرت کو استعمال کرتے ہوئے منافع کماسکیں۔’

ذوہیب حسن نے مزید لکھا، ‘اس شخص (نازیہ حسن کے سابق شوہر) کی معاونت کرنے والے پر ہمارے خاندان کی جانب سے قانونی مقدمہ کیا جائے گا، کیوں کہ انہیں ایسا کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔’

واضح رہے کہ نازیہ حسن نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے پروگرام ‘سنگ سنگ’ اور ‘کلیوں کی مالا’ سے کیریئر کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد انہیں شہرت ملی اور وہ 70 اور 80 کی دہائی میں ملک کی پاپ انڈسٹری پر راج کرنے لگیں۔

انہوں نے 13 برس کی عمر میں بھارتی فلم ‘قربانی’ کے لیے گانا ‘آپ جیسا کوئی’ گایا، جس سے وہ پورے جنوبی ایشیاء میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔

نازیہ حسن کو 15 برس کی عمر میں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی بنیں۔

نازیہ اور ان کے بھائی ذوہیب حسن کا مشہور زمانہ میوزک البم ‘ڈسکو دیوانے’ 1981 میں ریلیز کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here