نواز شریف، مریم اور صفدر نے حکومت کو نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دے دی

Nawaz Sharif, Maryam and Safdar ask the interior ministry to take their names off the ECLNawaz Sharif, Maryam and Safdar ask the interior ministry to take their names off the ECL
Nawaz Sharif, Maryam and Safdar ask the interior ministry to take their names off the ECL

:اسلام آباد

سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر نے حکومت کو نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی درخواست دے دی۔

وزارت داخلہ کو 4 اکتوبر کو پٹیشن لیٹر بھیجا گیا تھا میں جس میں نام فوری طور پر ای سی ایل سے نکالنے کے لیے کہا گیا تھا۔

شریف خاندان کے ذرائع کے مطابق ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی وزارت داخلہ نے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر نے وفاقی وزارت داخلہ کو بھیجے گئے الگ الگ خطوط میں مؤقف اپنایا ہے کہ آئین پاکستان ہر شہری کو جان ومال کے تحفظ کے ساتھ نقل و حرکت کی آزادی فراہم کرتا ہے، نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنا وفاقی حکومت کا غیرآئینی اورغیر قانونی اقدام ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ‘بدعنوانی، اختیارات کے ناجائزاستعمال، دہشت گردی یا سازش جیسے کسی جرم میں ملوث نہیں ہیں، احتساب عدالت نے بھی نیب کے عائد کردہ بدعنوانی کے جھوٹے الزامات سے بری کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کی غیر قانونی سزا کو معطل کردیا، ملک کی کسی عدالت نے بھی نام ای سی ایل پر رکھنے کی ہدایت نہیں دی لہٰذا وفاقی حکومت نظر ثانی کرتے ہوئے نام فوری طور پر ای سی ایل سے نکالے۔

تاہم وزارت داخلہ نے ان کی درخواست کا تاحال جواب نہیں دیا۔ نواز شریف کا مؤقف ہے کہ وہ احتساب عدالت نمبر2 کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہیں جائیں گے جہاں ان کے خلاف مزید 2 مقدمات زیر سماعت ہیں جبکہ انہوں نے احتساب عدالت میں حاضری کی بھی ضمانت دے رکھی ہے۔

خیال رہے کہ 20 اگست 2018 کو وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس ہوا تھا جس میں نواز شریف خاندان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے رواں برس 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 سال اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

شریف فیملی کی جانب سے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی درخواستیں دائر کی گئیں جن پر سماعت کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے تینوں شخصیات کی رہائی کا حکم دیا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here