نواز شریف چُھپا تماش بین

Nawaz Sharif hidden spectator
Nawaz Sharif hidden spectator

میاں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بن چکے ہیں ۔ انہوں  نے  جس  انداز  سے  بریف کیس  کے ذریعے اور مختلف  شخصیات کے کندھوں پر چڑھ کر اپنی سیاست  کو چمکایا ۔ وہ اپنی جگہ ایک تاریخ ہے ۔پاکستان میں ان کے مخالفین اور حمایتی دونوں کی تعداد کروڑوں میں گنی جاتی ہے ۔ عام زندگی میں انہیں معصوم اور سیدھا سادھا نسان گردانا جاتا ہے ۔ مگر ذاتی زندگی میں ان کا کردار بھی دوسرے سیاستدانوں  میں کچھ مختلف نہیں ۔ مشہور گلو کارہ طاہرہ سید سے  اس کے معاشقے کے قصے  ایک عرصہ تک  لوگون کی زبان پر رہے ۔ اور جب طاہرہ سید اور ان کے شوہر نعیم بخاری  کے درمیان  یہ تنازعہ طلاق کی  صورت اختیار کر گیا ۔ توتب بھی  سب لوگ  اس کا ذمہ دار نواز شریف کو گردانتے تھے ۔ علیحدگی کے بعد نعیم بخاری نے بڑے دکھی دل سے کہا  کہ میں ہی گاڑی کو گھسیٹ رہا تھا  ، گاڑی کے طاہرہ سید والے پہیے نے تو ابتدا ہی میں   زندگی کی گاڑی چلانے سے انکار کر دیا تھا  ۔ کہا جاتا ہے کہ  نواز شریف کو  طاہرہ سید کی زلفوں کے جال سے  ان کی بیگم کلثوم نواز شریف  نے نکالا ۔ اور صورت حال کو سنبھالتے ہوئے  اپنے شوہر اور ان کے سیاسی کیرئیر کو  سنبھالا دیا ۔ جبکہ نواز شریف کے  پہلے دور حکومت میں  طاہرہ سید کو وزیراعظم ہاؤس میں ” خاتون اوّل ”  کی طرح پذیرائی حاصل تھی ۔

٣١ اکتوبر1993ء  کو کراچی  کے ایک  اخبار  نے  رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا  کہ مری کے دلفریب مقام پر  پنجاب  ٹورزم  ڈویلپمنٹ کارپوریشن  کی چئیر لفٹ سے  گلو کارہ طاہرہ  سید کو  پیپلز پارٹی کی حکومت  نے محروم کر دیا  ہے۔  طاہرہ سید کو یہ چئیر  لفٹ  نواز شریف نے اپنے پہلے دور حکومت میں عطا کی تھی ۔ اس لفٹ سے  طاہرہ کو  روزانہ  ہزاروں روپے کی آمدن  ہوتی تھی ۔ اور نواز شریف کی منظور نظر ہونے کی بدولت  وہ حکومت کے مقرر کردہ  کرایہ  سے  زائد  بھی وصول کرتی تھی   جس سے ادارے کو شدید نقصان اٹھانا پڑتا تھا اخبار نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھا کہ  گلو کارہ طاہرہ سید  کمپئیر نعیم بخاری کی اہلیہ تھیں  ۔ مگر 1990ء میں  نواز شریف کے برسر اقتدار میں آنے کے بعد  دونوں میں شدید اختلافات رونما ہو گئے  جو بعد ازاں طلاق پر منتج ہوئے ۔

حال میں ہی روزانہ خبریں نے  اپنے سنڈے میگزین میں  معروف صحافی نجم سیٹھی  سے انٹر ویو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ  معروف گلوکارہ طاہرہ سید کو  نواز شریف کے قریبی ساتھی ، سابق  سینٹیر  سیف الرحمٰن کی کمپنی ” ریڈ کو” کی جانب سے  ہر ماہ 5 لاکھ ملتے تھے۔

(روزنامہ خبریں  سنڈے میگزین  9 جنوری 2000ء) 

طاہرہ سید کے بعد  میاں نواز شریف کا دوسرا  سکینڈل  جو منظر عام پر آیا ۔ وہ ان کے مشیروں کی غلط بیانی کا نتیجہ تھا۔ جو مسلم لیگ ، عمران خان کی سیاسی مقبولیت کو ختم کرنے کے لئے  سیتا وائٹ کو منظر عام پر لائی ۔ تو دوسری طرف نواز شریف کا  داغداردامن بھی عوام کے سامنے آ گیا ۔

……ابھی جاری ہے

ادارے کا  اس رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں  چونکہ یہ کہانی  ( پارلیمنٹ سے بازار حسن تک)  سے ماخذ ہے ۔

میرا آپ کو مشورہ ہے کہ لیڈروں کے انتخابات میں ہمیشہ احتیاط کریں۔ آدھی جنگ تو لیڈروں کے صحیح انتخابات سے ہی جیت لی جاتی ہے۔

بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح’جلسہ عام حیدرآباد دکن 11 جولائی 1946ء

2 تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here