نواز شریف چُھپا تماش بین – پارٹ 2

Nawaz Sharif hidden Spectator Part 2
Nawaz Sharif hidden Spectator Part 2

١٢ جنوری  1997ء کو ایک ہندوستانی  اخبار  ” سما چار”  نے انکشاف کیا کہ  نواز شریف انڈین اداکار  فیروز خان  اور سنجے خان کی بہن  دلشاد بیگم  کی زلفوں کے اسیر  رہے ہیں ۔ اخبار میں  دلشاد بیگم  کا انٹرویو بھی شائع ہوا ۔ جس میں اس نے اپنے  تعلقات سے پردہ اٹھاتے ہوئے  کہا کہ  نواز شریف ،  دل پھینک ، عاشق مزاج  اور صرف نام کے شریف ہیں۔ اس نے بتا یا کہ 1991ء میں میرے کہنے پر نواز شریف نے  کشمیر میں فوجی کاروائیاں بند کروا دیں  اور اپنے ملک کی سب سے بڑی ( جماعت اسلامی) سے ٹکر لے لی۔

دلشاد بیگم کے انکشافات  کو نواز شریف کے دور حکومت میں  روزنامہ ” مساوات” نے بھی شائع کیا  ۔ مگر نواز شریف نے اس کی اس وقت تردید نہیں کی ۔ مگر جب انتخابات کے دوران یہی واقعات مزید تفصیلات کے ساتھ  لاہور ہی کے ایک ہفت روزہ  “سیاسی لوگ ” نے شائع کیئے تو اس کے ایڈیٹر  غلام حسین پر  قاتلانہ حملہ کروایا گیا ۔ ذرائع کے مطابق اس  حملے میں آئی ،بی کے اہلکار ملوث تھے ۔

دلشاد بیگم نے لندن سے شائع ہونے والے   جریدے  ” لباس انٹر نیشنل” کو ایک انٹر ویو میں بتایا کہ  اس کے شوہر  میاں جاوید لکڑی کا کاروبار کرتے تھے ۔ ان سے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں  بعد ازاں وہ انتقال کر گئے ۔ جس کے بعد  اس نے آزاد زندگی گزارنا شروع کی ۔ اس کی خوبصورتی، ساڑی باھندنے کے انداز ، اور دلفریب اداؤں سے  ایک حلقہ اس کا اسیر تھا ۔ پاکستان میں اس کی آمد  سہگل فیملی  کے ایک  صنعت کار  کی بیگم  کے زر یعے  ہوئی اور اس نے ہی بھور  بن میں منعقدہ ایک تقریب  میں اس کی ملاقات  میاں نواز شریف سے کروائی۔

نواز شریف دلشاد بیگم کی اداؤں پر  ایسے مر مٹے تھے کہ اسے پاکستان میں  سرکاری مہمان کی حیثیت حاصل ہو گئی حتیٰ کہ قومی اسمبلی میں  اس معاملے پر  باقاعدہ  سوال اٹھایا  گیا، کہ  ایک  غیر  ملکی خاتون کس طرح پاکستان میں  سرکاری پروٹوکول  کی مستحق قرار دی جا رہی تھی  جبکہ اس کا تعلق دشمن ملک سے ہے  مگر “عشق نہ پچھے ذات کوئی ” کے مصادق  ہیر رانجھا کا یہ سفر جاری رہا۔

نواز شریف چُھپا تماش بین

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ  کہ ان دونوں کی پہلی ملاقات بھوربن میں ہوئی تھی  اس کے بعد ہجر کے لمحات نے کئی  واقعات کو بھی جنم دیا ۔ایک دن جبکہ نواز شریف لاہور میں  تھے۔بھوربن کے خوشگوار موسم کو دیکھتے ہوئے  دلشاد بیگم نے انہیں فون کر کے اصرار کیا ۔ کہ وہ فوری طور پر بھوربن پہنچیں  تا ہم میاں نواز شریف نے سرکاری کاموں کی وجہ سے   معذرت کرتے ہوئے فون پر ایک گانا سنایا  جسے اس وقت انٹیلی جنس بیورو نے   ٹیپ کر لیا تھا    یہ طلعت محمود کا گانا تھا   جس کے بول تھے

شام غم کی قسم آج غمگین ہیں ہم
آ بھی جا آ بھی جا آج میرے صنم
رت حسیں ہے تو کیا  چاندنی ہے تو کیا
زندگی دور ہے اور جدائی ستم

ہجر  و وصال کے اس دور  میں عشق کے راستے پر دونوں اس قدر دور چلے  گئے۔ کہ طاہرہ سید کے معاملے کی طرح  خاندان کے بزرگوں  کو اس بار بھی مداخلت کرنا پڑی ۔

ایک دفعہ نواز شریف اسلام آباد سے لاہور آ رہے تھے کہ  انہیں جہاز میں دلشاد بیگم کا خصوصی پیغام ملا   اور انہوں نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر  فوری طور پر  جہاز  اسلام آباد  لے جانے کا حکم دیا  جہاں سے وہ سیدھے وصال یار کے لئے بھور بن چلے گئے۔

یہ سلسلہ ان کی وزارت عظمیٰ تک چلااور ٹیلی فون پر رومانی  گیت گانے ، خصوصی ملاقاتوں  اور ہیلی کاپٹر  پر  خصوصی سیر و تفریح  کے واقعات سامنے آئے اور خصوصی طور پر دلشاد بیگم  سے ٹیلی فون پر گانوں کی فرمائش  “آج کوئی ایسا گیت گاؤ کہ ہمارے جذبات جاگ اٹھیں ” ہے، جو ریکارڈ کی صورت میں ایک خفیہ ادارے کے پاس موجود ہے ۔ حال ہی میں حکومت کی جبری بر طرفی کے بعد پرائم منسٹر ہاؤس  سے  فوجی حکام نے  پرائم منسٹر  ہاؤس  سے جو سامان بر آمد کی ہے  ۔ ان سے بھی موصوف کے مزاج کا اندازہ ہوتا ہے ۔

……ابھی جاری ہے

ادارے کا  اس رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں  چونکہ یہ کہانی  ( پارلیمنٹ سے بازار حسن تک)  سے ماخذ ہے ۔

میرا آپ کو مشورہ ہے کہ لیڈروں کے انتخابات میں ہمیشہ احتیاط کریں۔ آدھی جنگ تو لیڈروں کے صحیح انتخابات سے ہی جیت لی جاتی ہے۔

بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح’جلسہ عام حیدرآباد دکن 11 جولائی 1946ء

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here