نیشنل کانفرنس نے کشمیر سے متعلق مودی حکومت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

National Conference challenges the Modi government's decision on Kashmir in Supreme Court
National Conference challenges the Modi government's decision on Kashmir in Supreme Court

:نئی دلی

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس نے مقبوضہ وادی سے متعلق مودی حکومت کا اقدام بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عمر عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس کے ایم پی اکبر لون اور حسنین مسعودی کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔

نیشنل کانفرنس نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہےکہ بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور اسے دو یونین میں تقسیم کرنے کا اقدام غیر قانونی ہے۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق کشمیری وکیل شاکر شبیر کی جانب سے بھی سپریم کورٹ میں مودی حکومت کے اقدام کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق صدارتی حکم نامے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہےکہ عدالت حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکے۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال کا پس منظر

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

بھارت نے اب یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔

بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

کشمیر میں اب کیا ہورہا ہے؟

بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کردیے تھے کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ کشمیری اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد اس وقت 9 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے۔

بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو چھاؤنی میں تبدیل کررکھا ہے، 7 اگست کو کشمیری شہریوں نے بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاج کیا لیکن قابض بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 6 کشمیری شہید اور 100 کے قریب زخمی ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے 8 اگست کو کشمیر میں احتجاج کرنے والے تقریباً 500 کشمیریوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے جبکہ حریت قیادت سمیت بھارت کے حامی رہنما محموبہ مفتی اور فاروق عبداللہ بھی نظر بند ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here