نقیب قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں آج پھر ہوگی

Naqib murder suo moto notice case hearing today in Supreme Court
Naqib murder suo moto notice case hearing today in Supreme Court

:اسلام آباد

نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں پھر ہوگی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ نقیب قتل کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرے گا۔

عدالت عظمیٰ نے آئی جی سندھ، ڈی جی ایف آئی اے، سیکریٹری داخلہ، چاروں صوبائی ہوم سیکریٹریز،  سیکریٹری اطلاعات اور چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو آج طلب کر رکھا ہے۔

دوسری جانب ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی آئی بی کو بھی نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

واضح رہے کہ یکم فروری کو عدالت عظمیٰ نے سندھ پولیس کو مقدمے میں نامزد سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو 10 دن میں گرفتار کرنے کی مہلت دی تھی۔

سپریم کورٹ میں سندھ پولیس آج خالی ہاتھ پیش ہوگی کیونکہ اس عرصے میں راؤ انوار سمیت نقیب اللہ محسود قتل کیس میں ملوث کسی پولیس اہلکار کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

پولیس نے میڈیا پر چھاپوں کی خبریں جاری کرنے، مدد کے لیے اداروں کو خط لکھنے اور غیر متعلقہ پولیس اہلکاروں کی گرفتاریوں میں کافی پھرتیاں دکھائیں مگر سب بے سود رہا، دوسری جانب جو پولیس اہلکار پکڑے گئے، تفتیشی ٹیم ان سے مقدمے کے لیے سودمند بیانات لینے میں بھی ناکام رہی۔

اس کیس کے اہم تحقیقاتی افسر اور ڈی آئی جی ایسٹ سلطان علی خواجہ گزشتہ روز عہدے کا چارج چھوڑ کر چلے گئے مگر انہیں روکنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔

نقیب اللہ کا ماورائے عدالت قتل اور تحقیقات

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 13 جنوری کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، جن میں 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود بھی شامل تھا۔

بعدازاں نقیب اللہ محسود کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔

بعدازاں نقیب کے قتل کا مقدمہ سچل تھانے میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر پولیس افسران کے خلاف درج کیا گیا اور آئی جی سندھ کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کی، جس کے باعث انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لیا۔

گذشتہ ماہ 27 جنوری کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پولیس کو راؤ انوار کو گرفتار کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

بعدازاں یکم فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مقدمے میں مفرور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ کو مزید 10 دن کی مہلت دی تھی اور ساتھ ہی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سندھ پولیس کی معاونت کی بھی ہدایت کی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here