امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے اور نفرتیں ختم کرے: خطبہ حج

More than two million Hajj pilgrims converge at Arafat as main rituals begin
More than two million Hajj pilgrims converge at Arafat as main rituals begin

امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبہ حج کے دوران مسلمانوں کی توجہ قرآن پاک کی تعلیمات کی مبذول کراتے ہوئے کہا کہ نجات کا راستہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے میں ہے۔

سعودی عرب میں فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمین کی منیٰ سے میدان عرفات میں جمع ہیں انہوں نے مسجد نمرہ میں حج کا خطبہ سنا۔

گزشتہ روز منیٰ میں قیام کے بعد عازمین آج صبح یعنی 9 ذی الحج کو میدان عرفات میں جمع ہیں جہاں وہ حج کا رکن اعظم یعنی وقوف عرفہ ادا کر رہے ہیں۔

وقوف عرفہ کے دوران مسجد نمرہ میں الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ حج کا خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے، اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ جدا جدا راستے نہ اختیار کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ رسول ﷺنے فرمایا، تم زمین والوں پر رحم کرو، اللہ تم پر رحم فرمائے گا، اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کریں، والدین کے بعد رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ انسان ہو یا جانور، سب سے رحمت کا معاملہ کریں، امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے اور نفرتیں ختم کرے، بیشک اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے۔

خطبہ حج میں کہا گیا کہ تمام مسلمان اپنے نفس کا تزکیہ کریں کیونکہ جو اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے، اللہ اسے پاکی عطا فرماتا ہے۔

امام محمد بن حسن آل الشیخ نے کہا کہ رسول ﷺنےفرمایا، جنت میں اللہ کے رحم و فضل کے بغیر کوئی داخل نہیں ہو گا، اگر اللہ کا فضل نا ہوتا تو سب شیطان کی ہی اتباع کرتے۔

انہوں نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ تلاوت قرآن پاک کی عادت بنائیں اور اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہیں، جس بارے میں معلوم نہ ہو، اس پر علمائے کرام سے رابطہ کریں۔

حجاج کرام کو مخاطب کرتے ہوئے امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے کہا کہ آپ لوگ وہاں موجود ہیں جہاں رحمتوں کا نزول ہو رہا ہے، دعاؤں میں مشغول رہیں اور سب کے لیے دعائیں کریں۔

امام الشیخ محمدبن حسن آل الشیخ نے مسلمانوں کو نماز قائم کرنے اور برائی سے روکنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی رحمت سے وہی مایوس ہوتا ہے جو گمراہ ہو چکا ہو۔

انہوں نے کہا کہ اے مسلمانو! اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو، اپنےگناہوں سے توبہ کرو، اللہ کی رحمت کے دروازےکھلے ہیں، فرشتے بھی اہل ایمان کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔

حج کا خطبہ سننے کے بعد عزام کرام نے نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی۔

واضح  رہے کہ رواں برس سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار فرزندان اسلام مسلسل تین روز تک 3 خطبے سنیں گے۔

پہلا خطبہ گزشتہ روز جمعہ کا سنا گیا جب کہ دوسرا خطبہ آج  خطبہ حج تھا اور تیسرا خطبہ کل نماز عید الاضحٰی کا سنا جائے گا۔

عازمین حج غروب آفتاب کے ساتھ ہی میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ نمازِ مغرب اور عشاء ایک ساتھ ادا کریں گے، عازمین رات بھر کھلے آسمان تلے قیام کریں گے اور رمی کے لیے کنکریاں چنیں گے۔

دس ذی الحج کو طلوع آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ سے رمی کے لیے جمرات جائیں گے پھر قربانی کے بعد سر منڈوا کر احرام کھول دیں گے اور طواف زیارت کریں گے۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی سعودی حکام نے فرزندان اسلام کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی ہیں، تاکہ مناسک حج کی ادائیگی کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

حج ہیلپ لائن:

عرب میڈیا کے مطابق مکہ مکرمہ میں دفتر امور حج پاکستان نے عازمین حج کو ہدایت کی ہے کہ گرم موسم کے پیش نظروہ پانی کا زیادہ استعمال کریں اور دھوپ کی تمازت سے بچنے کے لیے اپنے ساتھ چھتری رکھیں۔ دوران حج اپنے ساتھ کم سے کم سامان رکھیں اور کسی پریشانی کی صورت میں معاون حج سے مدد لیں یا مفت ہیلپ لائن 8001166622 پر کال کریں۔

خیال رہے کہ رواں برس 22 لاکھ سے زائد عازمین فریضہ حج ادا کر رہے ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد انڈونیشیا کے عازمین کی ہے جب کہ دوسرے نمبر پر پاکستانی عزام کا ہے۔

امسال انڈونیشیا سے ڈھائی لاکھ عازمین جب کہ پاکستان سے 2 لاکھ عازمین فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here