اکتیس جنوری کو چاند گرھن، نیلا، سرخ اور نزدیک ترین

moon fall
moon fall

 

آئندہ ہفتے دنیا کے اُفق پر ایک انوکھا منظر دیکھا جانے والا ہے جب نہ صرف چاند گرہن ہو گا بلکہ چاند دنیا سے کم ترین فاصلے پر ہو گا اور اسے ماہرین ‘سپر بلیو بلڈ مون’ یعنی بڑا نیلگون اور خونی کا نام دے رہے ہیں۔

یہ منظر جنوری کی اکتیس تاریخ کو دیکھا جائے اور مغربی نصف کرۂ زمین پر رہنے والے اس کا نظارہ زیادہ بہتر طور پر کر سکیں گے۔ آخری مرتبہ اس نوعیت کا منظر دنیا میں بھسنے والوں نے 1866 میں دیکھا تھا۔

‘سپر بلو بلڈ مون’ یا عظیم نیلگون خُونی چاند دراصل نیلے چاند کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ نیلگوں چاند تو اس مہینے میں دوسری مرتبہ طلوع ہو گا لیکن گرہن کی وجہ سے چاند پر پڑنے والا زمین کا عکس سرخ رنگ کا نظر آئے گا اور اسی وجہ سے اسے بلڈ یا خونی چاند بھی کہا جاتا ہے۔ زمین اور چاند کا فاصلہ سات فیصد کم ہونے کی وجہ سے چاند معمول سے 14 فیصد زیادہ روشن ہو گا اور یہ معمول سے بڑا نظر آئے گا۔

ستاروں کے مشاہدے کے شوقین افراد امریکہ میں اس نیلگون خونی چاند کا نظارہ بدھ کو علی الصبح طلوع آفتاب سے پہلے کر سکیں گے۔

جو لوگوں اس چاند کا مشاہدہ مشرق وسطی، ایشیا، مشرقی روس، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے کرنا چاہیں گے انھیں بھی جلدی اٹھنا پڑے گا اور یہ اکتیس جنوری کی صبح نظر آئے گا۔

واشنگٹن میں امریکی خلائی ادارے ناسا کے ہیڈ کواٹر کے ماہر گورڈّن جونٹسن نے کہا کہ یہ چاند امریکہ کے مغربی حصہ الاسکا اور ہوائی میں سب سے واضح دکھائی دے گا۔ انھوں نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ شمال مغربی امریکہ، الاسکا اور ہوائی 31 جنوری کو چاندی میں نہا جائیں گے۔

اس رات کو اگر فضا ابر آلود نہ ہوئی اور آسمان صاف ہوا تو چاند گرھن صبح مقامی وقت کے مطابق چار بج کر اکاون منٹ پر شروع ہو گا اور چھ بج کر پانچ منٹ تک جاری رہے گا۔ دنیا کے مشرقی حصوں میں اس کا مشاہدہ کرنا ذرا مشکل ہو گا اور گرہن مشرقی وقت کے مطابق صبح پانچ بج کر اکاون منٹ پر شروع ہو گا۔ گرہن ایک گھنٹے تک جاری رہے گا۔

ناسا کا کہنا ہے کہ گرہن کی وجہ سے ماہرین اس بات کا مشاہدہ بھی کر سکیں گے جب چاند کی سطح تیزی سے ٹھنڈی ہوتی ہے تو اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔

امریکی یونیورسٹی کولاراڈو بولڈر میں خلا اور زمینی فضا کے ماہرین پال ہینی کا کہنا ہے کہ تھرمل کیمروں سے چاند کو دیکھنے سے یہ بالکل مخِتلف نظر آئے گا۔

چاند کو تاریکی میں دیکھنے سے اس کے خدوخل مزید واضح ہو جائیں گے اور چاند کے وہ حصے جو عام طور پر دیکھے نہیں جا سکتے وہ قدر واضخ نظر آئیں گے کیونکہ چاند کی گھاٹیوں کے ارد گرد چٹانیں چمکتی ہوئی دکھائی دیں گی کیونکہ انھیں سرد ہونے میں وقت لگے گا جب کہ گھاٹیاں جلد سرد پڑ جائیں گی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here