مفتاح اسماعیل وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مقرر

Miftah Ismail appointed as Finance Advisor to PM
Miftah Ismail appointed as Finance Advisor to PM

:اسلام آباد

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان کے معروف سیاستدان و اقتصادی شخصیت مفتاح اسماعیل کو وزیر اعظم کا مشیر برائے خزانہ و اقتصادی امور مقرر کر د یا گیا ہے، ان کا درجہ وفاقی وزیر کے برا بر ہو گا۔

وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت نے ان کی تقرری کی منظوری دی جس کے بعد کا بینہ ڈویژن نے با ضابطہ نو ٹیفیکیشن جاری کیا۔

مفتاح اسماعیل کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1985ء میں بی ایس ڈکوئسن یونیورسٹی سے بزنس کے مضمون میں جب کہ 1990ء میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے وارٹن اسکول سے پبلک فنانس اور پولیٹیکل اکنامی میں پی ایچ ڈی کیا۔

مفتاح اسماعیل نے 90ء کی دہائی کے آغاز میں آئی ایم ایف کے ساتھ بطور ماہر معاشیات کام کیا۔ 1993ء میں اپنا فیملی بزنس سنبھالنے کے لئے پاکستان واپس آئے۔ ان کی فیملی کے بنک آف خیبر میں بھی کافی شیئرز ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے 2011ء میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں 2012ءاور 2013 میں پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے سربراہ اور وائس چیئرمین کے طورپر خدمات انجام دیں۔

مفتاح اسماعیل بورڈ آف انوسٹمنٹ کے چیئرمین رہے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے دی وارٹن سکول سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔ وہ سوئی سدرن گیس کمپنی، پی آئی اے اور دیگر کئی معروف کمپنیوں کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔

مفتاح اسماعیل آسٹروپلاسٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل ہیں، وہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے چیئرمین کے علاوہ پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔

وہ اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ کے مالک ہیں، اسماعیل انڈسٹریز پاکستان میں ایک سب سے بڑی فوڈ کمپنی ہے جو کنفیکشنری، بسکٹ، سنیکس بناتی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے اقتصادی امور کی حیثیت سے چند ہفتے قبل قومی اخبارات و جرائد اور میڈیا مین کو تفصیلی آف دی ریکارڈ بریفنگ پرنسپل انفارمیشن آفیسر حکومت پاکستان محمد سلیم بیگ کی دعوت پر دی انہیں ملکی معاشی صورتحال کا کماحقہُ علم ہے اور اقتصادی اعدادوشمار ان کے ازبر ہیں۔

اکتوبر 2013ء کے الیکشن میں مفتاح اسماعیل نے الیکشن اسٹریٹیجی ٹیم اور (ن) لیگ کی منشور کمیٹی کے ممبر طورپر خدمات انجام دیں۔ مفتاح پی آئی اے کے بورڈ کے ممبر بنے۔ نومبر2013ء میں وہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے بورڈ کے ممبر بنے۔ وہ 4 جنوری 2014ء تک ان دونوں پوزیشنوں پر رہے۔

اس کے بعد انہیں فیڈرل بورڈ آف انویسٹمنٹ کا سربراہ بنا دیا گیا اور وزیراعظم نوازشریف کی کابینہ میں جونیئر ممبر کے طور پر شامل کیا گیا۔ ان کی قیادت میں بورڈ آف انویسٹمنٹ میں وسیع پیمانے پر تنظیم نو کی گئی جس میں اس کے ریجنل آفسز کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔ ان کے دور میں حکومت نے نئی آٹو پالیسی بھی بنائی جس نے آٹو موبائل سیکٹر میں کئی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

مفتاح اسماعیل نے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے ممبر اور چیئرمین آف دی بورڈ کراچی امریکن اسکول کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں۔ مفتاح اسماعیل کے بڑے بھائی ایکسپورٹ پروسیسنگ اتھارٹی کے چیئرمین رہے ہیں۔

ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’میں وزیر اعظم کا مشیر برائے خزانہ مقرر ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ میں میاں نواز شریف ،شہباز شریف ،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مشیر خزانہ کی ذمہ داری دیکر مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اپنی پارٹی کے دیگر رہنمائوں کا بھی شکر گزار ہوں کہ ان کی رہنمائی میرے شامل حال رہی جن میں پہلے سیاسی باس میاں شہباز شریف ،خواجہ آصف،پروفیسر احسن اقبال اور سینیٹر پرویز رشید شامل ہیں‘۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’گو کہ میں وزارت میں مشیر کی ذمہ داری صرف 5ماہ کیلئے نبھاؤں گا تاہم وزیراعظم نے مجھے ٹاسک دیا ہے کہ میں میاں نواز شریف کے وژن کے مطابق ایجنڈا سیٹ کرنے میں ان کی مدد کروں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ انفرادی ٹیکس کی شرح کم کرنے،ٹیکس نیٹ وسیع کرنے ،مخصوص کارپوریٹ ٹیکسز نظام میں اصلاحات کرنے میں ان کی مدد کروں ۔اس کے علاوہ غیر رجسٹرڈ منی کو ملک کی اقتصادیات میں شامل کرنے کے حوالے سے بھی پیش رفت کروں۔اس کے ساتھ ہی ہم بجٹ خسارے اور کرنٹ اکائونٹ خسارے کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جبکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں گراں قدر اضافہ کریں‘۔

 انہوں نے کہا ’وزیراعظم نے جو مذکورہ اہداف سیٹ کئے ہیں انکا حصول آسان نہیں ہے تاہم میاں نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ ن مشکلوں سے کبھی نہیں گھبرائی ۔مجھے امید ہے کہ میں اپنے لیڈروں کی رہنمائی میں وزیر اعظم کے متعین کردہ ٹارگٹس کو حاصل کرنے کی کوشش کروں گا‘۔

واضح رہےکہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار وزارت خزانہ کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوچکے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here