فرانس میں جیل سے مجرم کا فلمی انداز میں فرار، ‘کمانڈو طرز ایکشن’ میں 10 منٹ لگے

Massive Manhunt Launched in France After Movie-Like Helicopter Prison Break
Massive Manhunt Launched in France After Movie-Like Helicopter Prison Break

:پیرس

فرانس میں جیل سے ایک مجرم کا فلمی انداز میں فرار ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں گینگسٹر ریڈوئن فائد کے 2 مسلح ساتھیوں نے پہلے ہیلی کاپٹر ہائی جیک کیا، پھر اسموک بم اور گرائنڈر کی مدد سے جیل کے اندر جا گھسے اور ساتھی کو فرار کرا لیا،کمانڈو طرز کی اس کارروائی میں 10 منٹ سے بھی کم لگے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جیل سے سزا یافتہ 46 سالہ ریڈوئن فائد کے 2 ساتھی اسموک بموں اور گرینڈر کی مدد سے  پیرس کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع جیل کے اندر جا پہنچے، اُس وقت ڈیوٹی پر موجود وارڈن مسلح نہیں تھے۔

رپورٹ کے مطابق وارڈنز نے بھاگ کر جان بچائی اور الارم بجائے، تاہم ملزمان مجرم ریڈوئن کو لے کر ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر فرار ہو گئے۔

کارروائی میں استعمال ہونے والا ہیلی کاپٹر ایک فلائٹ انسٹرکٹر سے ہائی جیک کیا گیا تھا، جس نے جیل کی حدود میں صبح 11 بجکر 15 منٹ پر لینڈ کیا، جو بعدازاں پیرس کے شمال مشرقی علاقے میں ایک جگہ پر موجود پایا گیا۔

پولیس کے مطابق ہیلی کاپٹر کا پائلٹ ایک فلائٹ انسٹرکٹر تھا جو اپنے ایک اسٹوڈنٹ کا انتظار کر رہا تھا کہ مجرم کے ساتھیوں نے اسے یرغمال بنایا اور اسے ہیلی کاپٹر کو جیل لے جانے پر مجبور کیا۔

یہ  واقعہ اُس وقت پیش آیا جب مجرم ریڈوئن فائد ملاقاتی کمرے میں اپنے بھائی سے بات کر رہا تھا۔

پولیس نے مجرم کے بھائی کو حراست میں لے لیا، جبکہ ملزمان کی تلاش بھی جاری ہے۔

ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ 29 سو پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو متحرک کیا جاچکا ہے جو ملزمان کو تلاش کر رہے ہیں۔

جیل کے ایک عہدیدار مارشل ڈیلابروئے نے بتایا کہ ملزمان کو اس ساری کارروائی میں محض 10 منٹ لگے اور جس جگہ ہیلی کاپٹر نے لینڈ کیا، یہ وہ واحد جگہ تھی جہاں اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم نہیں تھا، کیونکہ اس جگہ کو قیدی کبھی استعمال نہیں کرتے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے بظاہر ایک کار بھی استعمال کی، جو بعدازاں ایک شاپنگ مال کے کار پارکنگ ایریا میں ملی، جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔

فرانس کے وزیر انصاف نکولے بیلونیٹ کے مطابق ، ‘ان کمانڈوز نے علاقے کے سروے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا ہوگا، لیکن اس حوالے سے انکوائری کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہا جاسکے گا۔’

واضح رہے کہ ریڈوئن فائد کو اپریل میں 2010 میں ہونے والے ایک ڈکیتی کے واقعے کی منصوبہ بندی پر 25 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس میں ایک خاتون پولیس اہلکار ہلاک ہوئی تھیں۔

یہ دوسری مرتبہ ہے کہ ریڈوئن فائد جیل سے فرار ہوا ہے، اس سے قبل بھی وہ 2013 میں ڈائنامائٹ کی مدد سے راستہ بنا کر جیل سے فرار ہوا تھا۔

اس واقعے میں اس نے جیل کے 4 گارڈز کو پستول کی مدد سے یرغمال بنایا تھا اور دروازے کے باہر موجود کار میں فرار ہوگیا تھا، تاہم 6 ماہ بعد ہی اسے پیرس کے ایک نواحی علاقے سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

جیل حکام کے مطابق ریڈوئن فائد نے کبھی بھی عملے کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں کیا، وہ بہت نرم مزاج کا تھا، لیکن اس کے دماغ کے ایک کونے میں جیل سے فرار کی کوئی نہ کوئی ترکیب موجود ہوتی تھی۔

رپورٹس کے مطابق ریڈوئن فائد ایک مجرمانہ پس منظر رکھتا ہے اور ڈکیتی اور جعلسازی کے مختلف واقعات میں ملوث رہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here