مشال قتل کیس کا مرکزی ملزم عارف خان مردان سے گرفتار

Mashal murder case the centerpiece acceused caught in mardan
Mashal murder case the centerpiece acceused caught in mardan

:لاھور

خیبرپختون خوا پولیس نے مشال قتل کیس کے روپوش مرکزی ملزم عارف خان کو مردان سے گرفتار کر لیا۔

عبدالولی خان یونیورسٹی میں گزشتہ برس 13 اپریل کو جرنلزم کے 23 سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔

مشال خان کے قتل کیس میں مجموعی طور پر 61 ملزمان نامزد ہوئے جن میں سے 58 گرفتار ہوئے جن میں سے 57 کے خلاف ایبٹ آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

لیکن مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق  تحصیل کونسلر عارف خان سمیت 3 ملزمان روپوش تھے۔

ڈی پی او مردان میاں سعید کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم عارف ولد طور خان کو مردان کے علاقہ رنگ روڈ چمتار سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ڈی پی او مردان کے مطابق گرفتار ملزم عارف پی ٹی آئی کاکونسلرہے، ملزم ترکی فرار ہوگیا تھا اور پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے پر غیر قانونی طور پر ترکی گیا تھا جب کہ ملزم عارف چند روز قبل ہی ترکی سے واپس آیا تھا۔

واضح رہے کہ اس کیس کے دیگر دو ملزمان طلباء تنظیم کا رہنما صابر مایار اور یونیورسٹی کا ایک ملازم اسد ضیاء تاحال روپوش ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گرفتار 58 افراد میں سے 57 کے خلاف کیس کی سماعت کے بعد 27 جنوری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کہ 7 فروری کو سنایا گیا ۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں 58 گرفتار ملزمان میں سے ایک ملزم عمران کو قتل کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جب کہ دیگر 5 ملزمان میں سے فضل رازق، مجیب اللہ، اشفاق خان کو عمر قید جب کہ ملزمان مدثر بشیر اور بلال بخش کو عمر قید کے ساتھ ساتھ ایک، ایک لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزائیں سنائیں تھیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں 25 دیگر ملزمان کو ہنگامہ آرائی، تشدد، مذہبی منافرت پھیلانے اور مجرمانہ اقدام کے لیے ہو نے والے اجتماع کا حصہ بننے پر 4، 4 سال قید جب کہ 26 افراد کو عدم ثبوت پر بری کرنے کا حکم دیا۔

تاہم، مشال خان قتل کیس کے فیصلے کے خلاف مقتول کے اہل خانہ نے پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here