یہ کالم 8 جولائی 2017 کوقومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ شہادت اور جدوجہد

AGHA WAQAR AHMED

شہادت اور جدوجہد

(یہ کالم 8 جولائی 2017 کوقومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے)

پاکستان بننے کے فوراََ بعد بھارت نے پاکستان میں شامل ریاست کشمیر پرحملہ کر دیا اور اس کے ایک حصے پر قابض ہو گیا۔جس کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستانی افواج کے ساتھ مظلوم کشمیریوں کے علاوہ آج کے خیبر پختونخواہ اور علاقہ غیر کی ایجنسیوں کے بہادر اور نڈر پختونون نے شانہ بشانہ ساتھ دے کر پاک افواج کی طاقت کو بڑھایا۔

مگر موجودہ جموں کشمیر جسے ہم مقبوضہ کشمیر کہتے ہیں ،بھارت کے نا جائز قبضے میں شامل ہو گیا اور اقوامِ متحدہ کی قرار داد کے با وجود بھی مقبوضہ کشمیر کے رہائشی افراد کی رائے شماری نہ کروائی گئی،کہ وہ کس ریاست میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔کیونکہ بھارت کو یقین تھا کہ تمام مقبوضہ کشمیر کے مسلمان اور سکھ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے ۔

آج تقریباََ ستر سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے تقریباََ سات لاکھ فوج نہتے کشمیریوں پر قابض ہیں اس کے باوجودبھارت آزادی کی تحریک کو کچل نہیں سکا۔کشمیریوں پر جاری ظلم کی داستان بیان کریں تو روح کانپ جاتی ہے۔

برہان مظفر وانی جموں کشمیر کے ایک قصبے تریال میں 19ستمبر1994 کو پیدا ہوا۔برہان نے مقبول بھٹ کی پھانسی کے دس سال بعد جنم لیا جبکہ مقبول بھٹ کو ۱۱ فروری 1984 ؁ میں تہاڑ جیل نیو دہلی میں پھانسی دی گئی۔مقبول بھٹ پر یہ الزام تھا کہ وہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا بانی ہے ۔ جو کہ آزادی کی جنگ لڑ رہی تھی ۔اور یہ جنگ لڑنے کے جرم میں مقبول بھٹ کو پھانسی دے دی گئی۔

تحریک نے زور پکڑا اور کشمیر کے ہر نوجوان نے مقبول بھٹ کو اپنا ہیرو بنا لیا۔برہان مظفر وانی بھی ان میں سے ایک تھا ۔ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدائش کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔مگر اسے یہ احساس ہو گیا کہ ہم محکوم ہیں اور حکمران کبھی بھی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو ان کا حق دینے کے لئے تیار نہیں ۔انتہائی کم عمری میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی اورجذبہ آزادی کو مقدم جان کر اس نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے 16اکتوبر 2010کو حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی اور کم عمری میں ہی اپنی پہچان ایک کمانڈر کی حیثیت سے کروائی۔16سال کی عمر میں اس نے اپنے وطن کی آزادی کے لئے جان قربان کر دی ۔مقبول بھٹ ہو یا برہان وانی مقصد ایک ہی تھا ۔ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروایا جائے۔

قریباََ دو لاکھ کے قریب گمنام شہید اور دس لاکھ کے قریب زخمی ہونے والے مجاہدین ستر سال سے اپنا حق مانگ رہے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی آوازبلند کرنے والی عالمی تنظیمیں اس کو نظر انداز کر رہی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی حالت میں مسلمانوں کو محکوم بنا کر رکھنا چاہتی ہیں ۔صرف 2016کے اعداد و شمار کے مطابق 90کے قریب نوجوانوں نے جامِ شہادت نوش فرمایا 15000کے قریب عام شہری بھارتی افواج کے تشدد کا نشانہ بنے جن میں سے بیشتر افراد گولیوں کی بوچھاڑ کی وجہ سے اپنی بینائی کھو بیٹھے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2016میں چار ہزار کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد بھی زخمی ہوئے۔

برہان مظفر وانی نے ہتھیار اٹھانے سے پہلے سوشل میڈیا کے ذرئیعے بھارت کو شکست دینے کی کوشش کی جس سے دنیا بھر میں کشمیر کا مقدمہ مدت کے بعد لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ۔16اکتوبر 2016کو برہان مظفر وانی نے اپنا گھر بار چھوڑنے کا فیصلہ کیا کہ دنیا بھر کی تمام بڑی طاقتیں مقبوضہ کشمیر کے سلسلے میں اندھی اور بہری ہو چکی ہیں 15سالہ لڑکے کے نزدیک ہتھیار اٹھانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ رہا ۔اور برہان مظفر وانی نے اپنے ایک دوست خالد کے ہمراہ حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کر لی ۔خالد کو بھی بھارتی افواج نے شہید کر دیا خالد پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ مجاہدین کے لئے ہمدردی رکھتا ہے اور ان کا سہولت کار ہے۔جبکہ مقبوضہ کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کا خواہش مند ہے اور جہادی تنظیموں سے محبت کرتا ہے ۔اور اپنے آخری سانس تک آزادی کی جدو جہد میں کرنے کا خواہش مند ہے تو اس نظریے کے تحت بھارتی افواج کومقبوضہ کشمیر کے ہر شہری کو شہید کرنا پڑے گا۔ورنہ عالمی اقوام کو حقوق آزادی ِ جموں کشمیر پر کوئی مثبت قدم اٹھانہ پڑے گا۔مقبوضہ کشمیر کی آزادی کشمیر کے ہر شہری کا حق اور مطالبہ ہے۔

 اقوام ِ متحدہ اپنی آنکھیں اور کان بند کر کے مسلہ کشمیر پر توجہ نہیں دے رہی اورانسانی حقوق کی پامالی ہر روز مقبوضہ کشمیر میں ہوتی ہے اور حقوق انسانی کی دعوادار تنظیمیں اور ممالک بھارت کے ساتھ یہ مسلہء اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔

ایک 16سال کے لڑکے نے سات لاکھ کی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے اوربھارت کی فوج نے برہان مظفر وانی کے متعلق معلومات مہیا کرنے والوں کو دس لاکھ روپے دینے کا اعلان رکھا تھا۔بھارتی افواج ڈر گئی کہ یہ بچہ جس طرح سوشل میڈیا پر چھا گیا ہے ۔اس سے وہ خوفزدہ تھے اور عالمی طور پر ایک تاثر بن رہا تھا کہ کشمیر دوسرا فلسطین ہے۔8جولائی 2016کا بد قسمت دن تھاجس دن برہان مظفر وانی اور اس کے ساتھی سراج احمد شیر اور پرویز احمد لاشاری کو شہید کیا گیا۔برہان مظفر وانی نے 15گھنٹے تک دنیا کی تیسری بڑی اور بہترین اسلحہ رکھنے والی بھارتی فوج کا تن تنہا مقابلہ کیا ۔اور جام شہادت نوش فرمایا۔

برہان مظفر وانی کی شہادت سے لے کر آج تک ایک سال گزرچکا ہے ۔اور یہ سال اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جہاد کشمیر میں برہان مظفر وانی کے خون نے ایک نئی روح پھونک دی ہے۔جہاں اس کی نماز جنازہ میں 50ہزار افراد شریک ہوئے وہیں 5لاکھ سے زائد افراد نے اس بات کا عہد کیا کہ برہان وانی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ۔اور کشمیر بھارت سے آزاد ہو کر رہے گا چاہے اس آزادی کے لئے ہر کشمیری وہی راستہ اختیار کرے جس کی بنیاد شہید برہان مظفر وانی نے ڈالی ۔

پریہ بات بھارتی حکمرانوں کو سمجھائے گا کون؟؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here