شہیدِ جمہوریت – ذوالفقارعلی بھٹو

AGHA WAQAR AHMED

شہیدِ جمہوریت

۳اپریل 1979 کا دن تھا، اڈیالہ جیل میں خاص قسم کی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ یوں تو یکم اپریل سے ہی کچھ چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں لیکن 3 اپریل کو جب چاق و چوبند دستے فوج کے تبدیل ہوئے اور جیل کی سیکیورٹی پاک افواج کے پاس تھی اور جیل کے اندر محکمہ جیل کے چند افسران اور معمول کے مطابق سپاہی تھے۔ شام 7 بجے کا وقت ہوں گا، مکمل سناٹا تھا اور ابھی بینظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو جیل سے روانہ ہوئے۔ ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ اس وقت کہ کرنل رفیع جن کی ڈیوٹی ذوالفقارعلی بھٹو پر نظر رکھنا تھی، کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے ذوالفقارعلی بھٹو کو اشارے سے بتایا کہ انہیں سزائے موت ہونے والی ہے۔

ظلم کی یہ انتہا تھی کہ نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کو جب آخری دفعہ ملوایا گیا تو ذوالفقارعلی بھٹو اور ان کی فیملی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری ملا قات ہے۔ ایک غیرمعمولی کام تھا اس سے پہلے جب ان کی ملاقات ہوتی تھی تو جیل کی کوٹھری کے اندر ہوا کرتی تھی لیکن اس دفعہ ذوالفقارعلی بھٹو پنجرے میں بند تھا، سلاخوں کے اس طرف اس کی بیگم اور بیٹی کھڑی تھی۔ بیٹی محبت میں اپنے باپ کے ہاتھ چوم رہی تھی اور باپ بھی شفقت سے بیٹی کو پیار کر رہا تھا مگر نصرت بھٹو نجانے کس خوف میں مبتلا ہواؤں میں گھور رہی تھی۔

اسی دوران نصرت بھٹو کو احساس ہوا کہ یہ ذوالفقارعلی بھٹو کی آخری ملاقات ہے، وہ چیخی اور انہوں نے کہا کہ میں نے اس وقت کے حکمران جنرل ضیاء سے ملاقات کرنی ہے مگر ڈیوٹی پر مامور کرنل رفیع اور اس وقت کے میجر جنرل راحت لطیف نے انکار کر دیا اور نصرت بھٹو نے جیل کے اندر سے کاغذ مانگا اور پین کے ساتھ ایک درخواست لکھی جو کہ انہوں نے سپریٹینڈنٹ جیل کو دی وہ مرسی پیٹیشن تھی جو جیل سپریٹینڈنٹ نے اپنے افسرانِ بالا کو دی اور اس طرح یہ تحریر کرنل رفیع اور میجر جنرل راحت کے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی ڈپٹی چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر کے پاس پہنچی مگر اس پر کچھ عمل نہ ہوا۔

شام 7 بجے جب کرنل رفیع نے اشاروں کے ساتھ ذوالفقارعلی بھٹو بتایا کہ ان کو پھانسی ہونے والی ہے تو اس پھانسی کے قیدی نے پوچھا کتنے مہینے بعد، اس پر جواب ملا مہینوں کی بات نہیں ہے۔ پھر ذوالفقارعلی بھٹو نے پوچھا تو کب؟ کتنے ہفتوں بعد؟ اس نے کہا ہفتوں کی بات نہیں ہے۔ بھٹو نے پریشانی میں کہا کتنے دنوں بعد؟ جواب ملا دنوں کی بات بھی نہیں ہے اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا اور کہا 7 گھنٹے بعد۔

جیل کے قوانین کے مطابق کسی کو فجر کی نماز سے پہلے پھانسی نہیں ملتی لیکن ذوالفقارعلی بھٹو کو رات 2 بجے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ یہاں پر میں اپنے پڑھنے والوں کو بتاتا چلوں کہ اس سے پہلے جیل کی بدسلوکیوں سے تنگ آ کر ذوالفقارعلی بھٹو بھوک ہڑتال پر تھے اور 7 دن سے انہوں نے کچھ کھایا پیا نہیں تھا۔

سزائے موت کا سننے کے بعد وہ انتظار کرنے لگے کہ سپریٹینڈنٹ جیل اور مجسٹریٹ کب آ کر بتائے گا، اس دوران کرنل رفیع نے ان کی بھوک ہڑتال ختم کروائی اور پانی پلایا۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ کافی کا ایک کپ پیئے لیکن جیل پر مامور میجر جنرل راحت لطیف نے معذرت کی اور جیلر سے کہا کہ انہیں کہہ دیں کہ کافی نہیں مل سکتی۔

یہ سب کو تشویش تھی کہ بھٹو مسلمان ہیں یا ہندو؟؟ اس لیے اخلاقیات کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے اس وقت کے امیرالمؤمنین جنہوں نے ایک معصوم کو سزائے موت دی اور قتل کے مرتکب ہوئے – تو فرماتے ہیں کہ جب ذوالفقارعلی بھٹو  کو سزائے موت دے دو تو  اُسکی لاش کی برہنہ تصویریں اتارو اور دیکھو کہ اسکے ختنہ ہوئے ہیں یا نہیں؟؟

وقت گزرتا گیا، رات کے پونے 2 بجے حکم ہوا کہ چلو چلیں۔ بھٹو صاحب نے پوچھا کہ میری کافی کہاں ہے، اتنے میں قیدی جو ان کی خدمت پر مامور تھا وہ چائے کا کپ بنا کر لایا لیکن موت کے سوداگروں نے ذوالفقارعلی بھٹو کو سٹریچر پر ڈالا اور موت کی کوٹھری کی طرف چل دیے۔ ذوالفقارعلی بھٹو ترسی ہوئی آنکھوں کے ساتھ چائے کے کپ کی طرف دیکھتا رہا اور اس وقت کے حکمرانوں نے ظلم کی انتہا کر دی کی ایک معصوم قیدی جس کو سزائے موت دی جانی ہے اسکی آخری خواہش کافی نہیں تو چائے کا کپ – لیکن پینے کی اجازت نہیں تھی۔ سر پکڑ کے اس پرغلاف چڑھایا اور تارا مسیح کو حکم دیا کہ پھندا ڈالو۔ بھٹو نے کہا ختم کرو اور اس نے لیور کھینچ دیا۔

مکمل سناٹا چھا گیا، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ پھانسی کے بعد بھٹو کی لاش کو پھندے سے اتارا گیا تو اس وقت کی ایجنسیز کے فوٹوگرافر آئے انہوں نے بھٹو کو برہنہ کیا اور تصویریں لیں جو کی بعد میں ضیاءالحق کو پہنچا دی گئیں جو اپنے آپ کو امیرالمؤمنین کہلاتا تھا۔ ایک ایسا امیرالمؤمنین جس نے انتظار کیا کہ جس وقت ذوالفقارعلی بھٹو کو سزائے موت دی جائے اُسی وقت  اُسکو پیغام دیا جائے اور اُس وقت وہ اُس زمانے کے مواصلاتی رابطے میں موجود تھا اور جب ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی تو اسکا سگنل جو دیا گیا وہ بھی جنرل ضیاء نے بڑے غور سے سنا۔

قدرت کا کرنا کیا ہوا کہ ذوالفقارعلی بھٹو مکمل مسلمان تھے اور وہ تصویریں جنرل ضیاءالحق خودساختہ امیرالمؤمنین کو بھیج دی گئیں۔ اس کو کہتے ہیں کہ رب جس کو چاہے عزت دیتا ہے اور جسکو چاہے ذلت دیتا ہے۔ لیکن 1979 میں ذوالفقارعلی بھٹو کو آج کے دن پھانسی دی گئی۔ بھٹو تو آج بھی زندہ ہے۔

مگر بھٹو کو سزائے موت دینے والے تمام افراد ایک ایک کر کے اس جہانِ فانی سے رخصت ہو چکے ہیں اور جس امیرالمؤمنین نے ذوالفقارعلی بھٹو کو سزائے موت کے پھندے پر چڑھایا اسکی موت جیسے آئی یہ بھی پڑھنے والوں کو بخوب معلوم ہو گا اور مولوی مشتاق جس نے  بھٹو کو سزائے موت کا حکم ہائی کورٹ لاہور سے دیا اسکے جنازے پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کیا، لو گ اسکا جنازہ سڑک پر پھینک کر بھاگ گئے یہ بھی سب کومعلوم ہو گا۔

میں یہ نہیں کہتا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کو بہت نیک انسان تھا لیکن حقائق کی نظر میں دیکھا جائے تو اسے سزائے موت غلط دی گئی۔ وہ کیمونسٹ، سوشلسٹ اور سچ بولنے والا تھا اور ایک امیرالمؤمنین جنرل جس نے ناصرف پاکستان کا آئین توڑا بلکہ عہد شکنی کی اور ساتھ ایک مسلمان کی توقیر مٹی میں ملانے کی کوششں کی لیکن رب کو جو منظور تھا وہی ہوا اور ذوالفقارعلی بھٹو مسلمان پائے گئے۔

سزائے موت کا قیدی جس کی 2 بیویاں ہوں، 2 بیٹے ہوں اور 2 بیٹیاں ہوں اور اسے اپنے اہلخانہ کے ساتھ آخری بار ملاقات نہ کرائی جائے یہ بھی تاریخ نے رقم کیا۔

سزائے موت پانے کے بعد اسکا جسدِ خاکی سی ون 30 سے لاڑکانہ گیا اور اسے علاقہ کی ایک مولوی اور چند ملازمین کے علاوہ کسی کو چہرہ دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اہلخانہ کو مرحوم کا چہرہ نہیں دیکھایا گیا یہ کس قسم کا اسلامی دورِحکومت تھا اور یہ کس قسم کا امیرالمؤمنین تھا جس نے مرحوم کی 2 بیواؤں، 2 بیٹوں اور 2 بیٹیوں کو اسکا آخری دیدار کرنے سے محروم کیا اور اسکا جسدِ خاکی وقت کے حکمرانوں نے پاک افواج کے زیرِ نگرانی سپردِ خاک کیا۔ ایسا نہ تو کبھی تاریخ میں ہوا اور نہ اس کی مثال ملتی ہے – ہاں اس سے پہلے بھگت سنگھ اور اسکے ساتھی کو سزائے موت دینے کے بعد لاہور کی سینٹرل جیل میں دفن کیا گیا تھا انکے لواحقین کو بھی چہرہ نہیں دیکھایا گیا مگر اسکی آخری ملاقات ضرور ہوئی تھی۔  ذوالفقارعلی بھٹو کو اسی لئے شہیدِ جمہوریت کا خطاب دیتا ہوں، قائدِ عوام تو تھے — ہیں اور رہیں گے۔ اسی طرح وہ شہیدِ جمہوریت تھے، ہیں اور رہیں گے۔

شہیدِ جمہوریت تمھیں میرا سلام۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here