جھنگ سے بچوں کا پورنوگرافک مواد جاری کرنے والا شخص گرفتار

Man arrested on child pornographic material from Jhang
Man arrested on child pornographic material from Jhang

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انٹرپول کینیڈا سے ملنے والی معلومات کے مدد سے جھنگ شہر کے رہائشی تیمور مقصود کو بچوں کی پورنوگرافی پر مبنی ویڈیوز اور تصاویر رکھنے اور انٹرنیٹ پر جاری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے ایف آئی اے کے افسر خواجہ حماد نے بتایا کہ تیمور مقصود سوشل میڈیا ایپ ‘کِک’ کے ذریعے مغربی ممالک سےتعلق رکھنے والے، جنسی فعل کرتے ہوئے بچوں کی ویڈیوز ریکارڈ کرتا تھا اور بعد میں اسے انٹرنیٹ پر جاری کر دیتا تھا۔

خواجہ حماد کے مطابق تیمور مقصود کے ساتھ ‘کک’ پر موجود چیٹ گروپ میں دیگر ممالک کے افراد بھی شامل تھے جن میں سے اس کے کینیڈین ساتھی کو کینیڈا کی حکومت نے گرفتار کر لیا اور تفتیش کے بعد ملنے والی معلومات پاکستان میں ایف آئی اے کو فراہم کر دی۔

COURTESY FIA
COURTESY FIA

ایف آئی آے کے انوسٹیگیشن افسر خالد انیس نے نجی نیوز چینل کو بتایا کہ تیمور مقصود کے پاس سے 60 گیگا بائٹس کا مواد ملا جو بچوں کی پورنوگرافی پر مبنی تھا۔خالد انیس نے مزید بتایا کہ اب تک کی جانے والی ابتدائی تفتیش کے مطابق ملنے والے مواد میں غیر ملکی بچوں کی ویڈیوز ہیں لیکن حتمی نتائج کے لیے تفتیش ابھی جاری ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق ملزم تیمور مقصود نے لاہور کی یونیورسٹی آف انجنیئرنگ ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ جھنگ میں ایک نجی کمپنی میں نوکری کرتا ہے۔ نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق تیمور مقصود دو سال سے اس گروپ کا حصہ تھا اور اس نے کہا کہ وہ یہ کام ‘ذہنی سکون کے لیے کرتا تھا’۔

واضح رہے کہ ڈی جی ایف آئی اے نے بچوں کی پورنوگرافی کے معاملے میں تفتیش کے لیے ٹیم تشکیل دی ہے جو ملک بھر میں اس مواد کے سدباب کے لیے تحقیق کرے گا۔ ایک سال قبل بھی ایف آئی اے نے سرگودھا سے ایک شخص کو حراست میں لیا تھا جو بچوں کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز بناتا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here