چینی گاؤں کے باسی لالچ کےباعث بلامعاوضہ ملنے والے پُرتعیش گھروں سے محروم

Luxury homes gifted by Chinese tycoon sit empty as greedy villagers row over ownership
Luxury homes gifted by Chinese tycoon sit empty as greedy villagers row over ownership

:بیجنگ

سچ ہی کہتے ہیں کہ لالچ بُری بلا ہے۔ حرص و طمع کی وجہ سے انسان خود تو نقصان اٹھاتا ہی ہے مگر بعض اوقات دوسروں کو بھی فائدے سے محروم کر دیتا ہے۔ چین کے ایک گاؤں کے سارے کے سارے باسی اس طرح لالچ میں مبتلا ہوئے کہ گاؤں کا کوئی ایک بھی شخص فائدہ نہ اٹھا سکا۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے گاؤں میں مشروب ساز کمپنی کے کھرب پتی مالک نے گاؤں والوں کے لیے پُرتعیش رہائش گاہیں بنانے کا فیصلہ کیا۔ دیہاتیوں کو یہ رہائش گاہیں بلامعاوضہ اور بطور تحفہ دی جانی تھیں۔ اس منصوبے کے لیے گاؤں کے ساتھ ہی زمین مقامی حکومت نے مہیا کردی تھی۔

چین شینگ نامی کھرب پتی نے 258 پرتعیش تین منزلہ گھر تعمیر کروائیں۔ ہر گھر میں پانچ بیڈرومز، دو ڈرائنگ رومز، ایک گیراج اور ایک چھوٹا سا باغیچہ  بنوایا اور ہر گھر کا رقبہ 280 مربع میٹر ہے۔

گھروں کے بیچوں بیچ نہر گزرتی ہے جس پر کئی پل بھی بنائے گئے ہیں، علاوہ ازیں باسکٹ بال اور بیڈمنٹن کورٹس اور ثقافتی تقاریب کے لیے ایک عوامی اسٹیج بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ غرض یہ کہ گاؤں کا یہ حصہ کسی جدید شہر کا منظر پیش کرتا ہے۔

گزشتہ برس اس منصوبے کی تکمیل بھی ہو گئی لیکن کئی ماہ گزر جانے کے باوجود یہ پرتعیش رہائش گاہیں مکینوں کی منتظر ہیں۔

Luxury homes gifted by Chinese tycoon
کچھ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے بڑھتے ہوئے کنبے کے لیے دو یا تین گھر درکار ہوں گے۔ فوٹو: ویبو

اس کی وجہ یہ نہیں کہ چین شینگ نے ارادہ تبدیل کرتے ہوئے گاؤں کے باسیوں سے ان شاندار گھروں کی قیمت طلب کرلی ہے، بلکہ قضیہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ گاؤں کا ہر خاندان اپنے لیے ایک سے زائد گھر لینے کا خواہش مند ہے۔

کچھ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے بڑھتے ہوئے کنبے کے لیے دو یا تین گھر درکار ہوں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو کسان گاؤں چھوڑ کر چلے گئے تھے، مفت گھر حاصل کرنے کے لیے وہ بھی لوٹ آئے ہیں۔

Luxury homes gifted by Chinese tycoon
جو کسان گاؤں چھوڑ کر چلے گئے تھے، مفت گھر حاصل کرنے کے لیے وہ بھی لوٹ آئے ہیں۔ فوٹو: ویبو

چین شینگ نے اس بارے میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد وہ جب گاؤں پہنچے تو لوگوں نے ان سے مختلف مطالبات شروع کردیے جن میں ایک سے زائد گھروں کا حصول بھی شامل تھا۔

چین شینگ کا کہنا تھا کہ وہ گاؤں کے لوگوں کے رویے سے سخت مایوس ہوا ہے۔

شینگ دیہاتیوں کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر واپس چلاگیا اور نوتعمیر شدہ پُرتعیش رہائش گاہیں ہنوز خالی پڑی ہیں۔ دوسری جانب گاؤں کے باسی اپنے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here