لاٹری شہباز کے نام

AGHA WAQAR AHMED

لاٹری شہباز کے نام

دسمبر جاتے جاتے  مسلم لیگ (ن) کے بنیادی کارکنوں کو  خوشی کا پیغام دے گیا   کیونکہ مسلم لیگ کے بنیادی کارکنوں کی خواہش  تھی کہ ان کی سیاسی جماعت  پر پابندی نہ لگے  اور ان کے درمیان جلا وطنی   کے دور میں رہنے والا کارکن  حمزہ شہباز ہی ان کے  سیاسی امور  سر انجام دے اور کثیر التعداد  مسلم لیگی  کارکن جو مذہبی رجحان کی وجہ سے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر چکے تھے ان کے نزدیک جس قدر کُفر بینظیر کے  سربراہ مملکت ہونے پر تھا  اتنا ہی  کُفر  مریم نواز  کو  سربراہ مملکت  بنانے پر ہو گا۔

نواز شریف نے جب سیاسی زندگی میں  قدم رکھا  اس وقت وہ لندن میں کاروں کے ایک شو روم میں کھڑے اپنا من پسند رنگ منتخب کر رہے تھے کہ جب  ان کے والد میاں محمد شریف کی کال آئی اور انہیں فل فور پاکستان آنے کا حکم ملا۔ پس پردہ میاں  نواز شریف کو سیا ست میں لانے  کی ذمہ داری  سعودی عرب کے فرماں روا ، نے جنرل ضیاءالحق کو  دی  کیونکہ جنرل ضیاء الحق  پاکستان میں دنیا بھر جہادیوں کو منظم کر کے  براستہ افغانستان  روس کو  توڑنے کا منصوبہ بنا چکے تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے اسامہ بن لادن کو بھی  یمن سے  پاکستان آنے کی دعوت دی اور أيمن الظواهريکا مصر سے  منتخب کیا اور مولانا سمیع الحق کے مدرسے سے  فارغ التحصیل  ملّا عمر  کے ساتھ اسامہ بن لادن  اور  أيمن الظواهريکا الحاق  کروادیا اور اس کے ساتھ ساتھ نواز شریف کو پنجاب کی حکومت میں  ایک اہم وزارت  تحفے میں دے دی کیونکہ سعودی عرب کے شہنشاہ  کی خواہش پر ذہنی ہم آہنگی رکھنے والے افراد  کو  ایک گروپ کی شکل دے دی گئی  اس سوچ کے ساتھ کہ روس کو تقسیم کر کے دنیا کے نقشے میں ایک اہم تبدیلی لائی جائے گی  اور افغانستان کی سر زمین سے  مسلمانوں  کے لئے  خلیفہ وقت مقرر کیا جائے گا۔

ہم ضیاء الحق کی اس سوچ کا احترام کرتے ہیں مگر ضیاء الحق  چونکہ خود اس دور کا پہلا خلیفہ یا امیر المومنین بننا چاہتا تھا  جبکہ بنیادی طور پر وہ آمر اور ایسا جرنیل تھا کہ  جس نے پاکستان کی پہلی عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر  اس وقت کے سربراہ ذولفقار علی بھٹو کو  تختہ دار پر لٹکا دیا  اور بعد ازاں مبینہ طور پر ان کےبدن سے  کپڑے  اتروا کر نٰعش کی تصویریں حاصل کیں  کیونکہ  اس  کے ذہن میں  ایک  فتور جنم لے چکا تھا کہ ذولفقار علی بھٹو  ایک ہندو ہے مگر اسے منہ کی کھانا پڑی  اور الحمد للہ  ذولفقار علی بھٹو ایک سچے اور پیدائشی مسلمان تھےاور یہ وہ مسلمان تھے جنہوں  نے دنیا میں دوسری  اسلامی سربراہی  کانفرنس  کا انقعاد  لاہور میں کیا  جس میں تمام اسلامی ممالک  کے سربراہان  تشریف لائے  اور ان کی  اسلام سے محبت کی  مثال یہ بھی ہے  کہ انہوں نے بنگلہ دیش کے سربراہ  شیخ مجیب الرحمٰن کو بھی شرکت کی دعوت دی  ۔میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا  مگر  ہر پاکستانی پر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے  کہ ذولفقار علی بھٹو نے مسلم اُمّہ کو ان کی طاقت کا احساس دلوایا  اور پہلی دفعہ پٹرول کی سپلائی کو روک کر  امریکہ کو  ناکوں چنے  چبوا دئیے۔

اب ذرا اپنے موضوع کی طرف آئیں کہ  نواز شریف بنیادی طور پر ایک آمر کی پیدا وار ہے اور یہ وہ شخص ہے  جس نے ضیاء الحق کی قبر پر کھڑے ہو کر عوام اور خداوند کریم سے یہ وعدہ کیا تھا  کہ وہ  ضیاء الحق کے ادھورے مشن کو  پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری لیتے  ہیں  کیونکہ نواز شریف ضیاء الحق کو  اپنا روحانی باپ  کہتا تھا   اس طرح ایک آمر کا  روحانی بیٹا  جمہوریت کی حروف تہجی کو کیسے سمجھے گا  ؟  نواز شریف کا حال ہی میں عدلیہ  کے متعلق رویہ اور ان کے الفاظ ” ہم کوئی پاگل ہیں ،  بے وقوف ہیں ، یا بھیڑ بکریاں ہیں” جی میاں صاحب  آپ   بالکل سچ فرما رہے ہیں  پاکستان میں ” پاگل ، بے وقوف ،   اور بھیڑ بکریاں  پاکستانی عوام ہیں ” جنہوں نے  آپ کو  3 بار وزیر اعظم  پاکستان منتخب کیا  اور آج آپ اداروں کے خلاف اعلان جنگ کرنے جا رہے ہیں  مگر یہ پاکستانی عوام پاکستان کی  سیاست کے ساتھ کسی کو کھلواڑ نہیں کرنے دیں گے  اور دیکھیں نواز شریف  صاحب پاکستانی عوام نے  بغیر کسی  احتجاج  اور جلسے جلوس کے  محض اپنی دعاؤں سے  اپنا مستقبل  کا وزیر اعظم منتخب کر لیا  ہے  اور امید ہے کہ  شہباز شریف اپنی  اہلیت کا استعمال کرتے ہوئے  عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here