خان عبد الولی خان ایک زیرک اور دور اندیش سیاستدان

Khan Abdul Wali Khan, a wise politician
Khan Abdul Wali Khan, a wise politician

:پشاور

خان عبد الولی خان ایک زیرک اور دور اندیش سیاستدان تھے۔موصوف بیک وقت تین زمانوں یعنی ماضی، حال اور مستقبل میں رہا کرتے تھے۔ ان کی منہ سے نکلی ہوئی ہر بات کا ایک خاص پس منظر ہوا کرتا تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ولی خان باچا خان مرکز پشاور میں اپنی زندگی کی آخری پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے تو انہوں نے وصیت کی تھی کہ امریکہ افغانستا ن کو برباد کرکے بے یارو مدد گار چھوڑ کر نہ جائے۔اگر امریکہ نے افغانستان کو برباد کیا ہے تو وہ آباد بھی کرے۔ولی خان بابا کے اس موقف سے عوامی نیشنل پارٹی کی مقبولیت میں کسی حد تک کمی بھی آئی تھی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ولی خان بابا کی منطق ان کے حلیفوں اور حریفوں پر عیاں ہو گئی۔ انہوں نے مان لیا کہ ان کا موقف سو فیصد درست تھا۔امریکہ نے روس کے خلاف ہمارے خطے کو استعمال کیا تھا اورجنگ لڑنے کیلئے افغان مجاہدین کی فورس قائم تھی جس نے روس کی شکست کے بعد طالبان کی شکل اختیار کر لی۔ولی خان بابا کا موقف تھاکہ چونکہ افغانستان کی تباہی اور طالبان کی پرورش میں امریکہ ملوث ہے لہذا یہ اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ افغانستان کو آباد بھی کرے اور اپنی قائم کردہ تنظیم کو غیر مسلح بھی کرے۔ امریکہ نے ولی خان بابا کے اس موقف کو اہمیت نہ دی اور تباہ حال افغانستان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں آ ج امریکہ اور طالبان آپس میں بر سرپیکار ہیں اور جنگ و جدل کی آڑ میں افغانستان اور پاکستان میں ایک کاروباری جنگ جاری ہے۔اگر ماضی میں ولی خان کے موقف کو اہمیت دی جاتی تو صورت حال یکسر مختلف ہوتی۔یہ ولی خان کی دور اندیشی اور وسیع النظری تھی جو بعد میں سیاسی پنڈتوں پر کھلی اور ان کی سوچ اور فکر کو تسلیم کیا گیا اور عوام نے عوامی نیشنل پارٹی کو مسند اقتدار سونپا۔آج اگر ملکی سطح پرکسی کو امن اور صلح جوئی کی علامت سمجھا جاتاہے تو وہ اسفندیار ولی خان ہیں۔ملکی سطح پر حکومت، عدلیہ یا دیگر اداروں کے مابین جب کوئی تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو اسفندیار ہی کو آگے آنا پڑتا ہے کیونکہ وہ باچا خان اور ولی خان کی سوچ کے پیروکار ہیں۔خیبر یہ تو برسبیل تذکرہ میں نے ایک بات کہہ دی رہبر تحریک ولی خان نے اپنی ساری زندگی اپنے والد فخر افغان با چا خان کی طرح عدم تشدد اور پختونوں کے حقوق کے لئے گزاردی۔

ان کی زندگی کے کئی برس جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزرے لیکن کبھی بھی اُصولوں پر سودے بازی نہیں کی یہی وجہ ہے کہ عبد الولی خان بابا کی خدمات کو فرامو ش نہیں کیا جا سکتا جب بھی ملک میں جمہوریت کی بات ہو تی ہے ولی خان باباکی خدمات کا اعتراف لازمی ہو تاہے۔ ولی خان11 جنوری 1917ء کو اتمانزئی چارسدہ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم آزاد اسلامیہ ہائی سکول سے حاصل کی جس کی بنیاد ان کے والد با چا خان نے رکھی تھی ولی خان بابا اس سکول کے پہلے طالب علم تھے اس کے بعد وہ ڈیرہ دون پبلک سکول چلے گئے 1933 ء میں اُنہوں نے سنیئر کیمرج کیا ان دنوں اُن کی آنکھ میں تکلیف شروع ہو گئی اور ڈاکٹروں نے اُنہیں مزید پڑھائی سے منع کیا اُنہوں نے 1942 ء میں خدائی خدمت گار تحریک سے سیا ست کا آغاز کیا اس تحریک کے دوران پہلی مرتبہ1943 ء میں انہیں ایف سی آر کے تحت جیل بھیج دیا گیا ۔ اس کے بعد انہیں 15 جون1948 ء کو گرفتار کیا گیا اور ہری پور جیل میں رکھا گیا اس دوران بارہ اگست کو با بڑہ کا واقعہ رونما ہوا یہ ایک احتجاجی جلسہ تھا جو با چا خان، ولی خان اور دیگر خدائی خدمت گار رہنماؤں کی رہائی کے سلسلے میں منعقد ہوا تھا اس جلسہ کے حاضرین پر گولیاں بر سائی گئیں جس سے سینکڑوں افراد شہید ہوئے ۔ 1953 ء میں فیڈرل کورٹ نے انہیں رہا کیا اس طرح ولی خان مسلسل پانچ سال،پانچ مہینے اور پانچ دن جیل میں رہے۔ رہائی کے بعد با چا خان بابا کی اجازت پرحکومت سے مہینوں پر محیط مذاکرات کے لئے اپنے مدبرانہ، دانشمندانہ، حقیقت پسندانہ، واضح اور دو ٹوک موقف کی وجہ سے حکومت وقت کو قائل کیا اور خدائی خدمت گار تحریک کے حوالے سے غلط فہمیوں کا ازالہ کیاجس کی وجہ سے خدائی خدمت گاروں کے لئے عام معافی کا اعلان ہو ااور وہ رہا کردیئے گئے جبکہ ضبط شدہ جائیدادیں بھی واپس کردی گئیں1954 ء میں ون یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا، جسے توڑنے کے لئے با چا خان نے سرتوڑ کو ششیں کیں، ولی خان بھی پیش پیش تھے ان کی کو ششوں سے ملکی سطح پر1957ء میں ایک نئی پارٹی عمل میں لائی گئی جس کا نام عوامی نیشنل پارٹی (نیپ) رکھا گیا۔1969 ء میں ولی خان نیپ کے مرکزی صدر بنے 13 نومبر1968 ء میں ولی خان کو ایو ب خان کے خلاف بیانات دینے کے جرم میں ایک بار پھر گرفتار کیا گیا اور مارچ1969 ء کو رہا ہوئے 26 نومبر1971 ء کو یحیٰ خان نے نیپ پر پابندی لگا دی ۔بعد میں بھٹو نے پابندی ہٹالی۔8 فروری1975 ء کو سرحد کے گورنر اور پیپلز پارٹی کے رہنما حیات شیر پاؤ ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہو گئے پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان کے قتل کا الزام ولی خان پر لگایا اور انہیں اسی رات لاہور سے پشاور آتے ہوئے گجرات کے قریب گرفتار کر لیا گیا اسی طرح نیپ کے تمام سرکردہ رہنما صوبہ سرحد، بلوچستان، پنجاب اور سندھ سے گرفتار ہوئے۔ بھٹو امریکہ کے دورے پر تھے وہاں سے فوراً لو ٹ آئے اور 9 فروری1975 ء کو اُنہوں نے نیپ(عوامی نیشنل پارٹی)ُ پر پابندی لگا دی اور ولی خان اور ان کے ساتھیوں پر حیدر آباد سازش کیس کا مقدمہ بنایا گیا ولی خان پر چار مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے دو دفعہ ملاکنڈ ایجنسی میں اور دو حملے پنجاب میں مگر خدا نے ان کو بچا لیا۔ جنوری1977 ء میں بھٹو نے عام انتخابات کا اعلان کیا، مرکزی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور انتخابات کی تیاریاں شروع ہوئیں اپو زیشن کی تمام پارٹیاں اکٹھی ہوگئیں اور اُنہوں نے یو ڈی ایف کی بجائے پی این اے (قومی اتحاد) بنایا۔

مارچ 1977 ء میں قومی اسمبلی کے الیکشن ہوئے جن میں سرکاری اعلان کے مطابق پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کرلی۔ پی این اے نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور دس مارچ 1977 ء کے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ۔ اپوزیشن کے منتخب ارکان قومی اسمبلی نے احتجاجاً استعفے دیئے اور تحریک شروع کی۔ ضیا ء الحق نے جولائی1977 ء میں مارشل لاء لگایا اور بھٹو کو گرفتار تقریباً تین ہفتے بعد ولی خان اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ملاقا ت کے لئے ضیاء الحق خود حیدر آباد جیل گئے ان سے مذاکرات کئے اور آخر کا ر حید ر آباد سازش کیس میں ملوث تمام افراد کو رہا کردیا گیا جنرل ضیا ء الحق کی حکومت کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک میں عبد الولی خان بابا کو ایک اہم حیثیت حاصل تھی اور اس تحریک کے دوران وہ متعدد بار گرفتار ہوئے1985 ء کے غیر جماعتی انتخابات میں این ڈی پی نے حصہ لیا تھا ولی خان غیر جماعتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے حق میں تھے ان دنوں سردار شیر باز مزاری این ڈی پی کے مرکزی صدر تھے ۔1986ء میں کراچی میں این ڈی پی کو عوامی نیشنل پارٹی میں تبدیل کردیا گیا جس کے بعد ملک کے کئی نامورقوم پر ست رہنماؤں نے خان عبدالولی خان کی قیادت میں اے این پی سے نیا سیاسی سفرشروع کیا ۔1988 ء میں خان عبدالولی خان این اے 5 چارسدہ سے ایم این اے منتخب ہوئے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے اہم رہنما کے طور پر پیش پیش رہے۔1993 میں خان عبدالولی خان نے این اے۔ 5 چارسدہ سے الیکشن میں ناکامی کے بعد اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے پارٹی کی صدارت چھوڑ دی اجمل خٹک ان کی جگہ اے این پی کے صدر منتخب ہوئے اور خان عبدالولی خان نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی خان عبدالولی خان کا یہ کردار پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔پاکستان کی سیاسی، تاریخ فلسفہ عدم تشدد کے بانی عظیم سرخ پوش لیڈر فخر افغان جناب باچا خان کے عظیم سپوت خان عبد الولی خان کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی وہ آخری دم تک اپنے والد محترم کے سیاسی فلسفے اور نظریات پر پورے اعتماد کے ساتھ کار بند رہے اور اصولی سیاست کرتے رہے جس کی پاداش میں انہیں متعدد بار جیلوں کی صعوبتیں اور ذہنی اذیتوں سے گزرنا پڑا لیکن مجال ہے کہ باچا خان کے اس عظیم سپوت کے پاؤں کسی موقع پر ڈگمگائے ہوں وہ ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنے سیاسی نظریات کا دفاع کرتے رہے ۔ یہ نظریات کیا تھے؟ اور وہ اس ملک کوکسی طرح دیکھنا چاہتے تھے ۔ آئیے اس امر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ جناب محترم ولی خان کا جھگڑا اسلام یا سوشلزم سے نہیں تھا وہ مذکورہ دونوں ضابطہ حیات سے سیاسی طور پر مختلف نظریہ رکھتے تھے اور وہ ترقی پسندانہ قوم پرست سیاسی نظریہ نیشنل ازم کے حامی تھا ۔ وہ اپنی مٹی یعنی دھرتی ماں سے بے پناہ پیار کرتے تھے اور وہ اپنی تاریخ ،ثقافت ، تہذیب اور جدید تقاضوں کے حواے سے قوم کا اُن کے وسائل پر مکمل اختیار چاہتے تھے ۔اور وہ قوم کو دُنیا میں ممتاز مقام دلانے کے لئے بھی کو شاں تھے اپنی قوم کی طرح دیگر اقوام کو بھی مقام دلانے کے حامی تھے یعنی وہ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر گامزن تھے۔

ان کی اسی قوم پرستانہ نظریہ کو مخصوص سیاسی حلقے اور خفیہ قوتیں انکی زندگی میں پوری چابک دستی کے ساتھ ہدف تنقید بناتی رہیں اور عوام کے سامنے انکے سیاسی قد کاٹ کو گرانے کی مزموم اور ناکام کوششیں کرتی رہیں۔ انہیں غدار اور علیحدگی پسند سیاستدان کے منفی القابات سے نوازا جاتا رہا اور وہ ان سب الزامات کا جواب ترکی بہ ترکی دیتے رہے مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ مرحوم ضیاء الحق نے اخبارات میں انکے خلاف ایک سیاسی بیان داغا جس میں موصوف نے کہا کہ ’’ پاکستان کو ایک درجن ولی خان بھی نہیں توڑ سکتے جس پر ولی خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘ ایک درجن ولی خانوں کو پاکستان توڑنے کی کیا ضرورت ہے پاکستان توڑنے کے لئے پہلے بھی ایک جرنیل کافی تھا اور اب بھی ایک جرنیل کافی ہے۔ خیر یہ تو ٓضمنی سے بات تھی میں بات کر رہا تھا نیشنل ازم کی، ولی خان بابا کا نیشنل ازم صرف پختونوں تک محدود نہیں تھا جیسا کہ اغیار پروپیگنڈہ کر رہے تھے انکے نزدیک تو نیشنل ازم پاکستان کی چاروں اکائیوں کے حقوق کی بازیابی اور وسائل پر اپنے اختیار کا حق تھا ولی بابا پنجابیوں‘ بلوچیوں‘ سندھیوں اور پختونوں کو اپنے مخصوص ثقافتی حد بندیوں میں خوش و خرم اور اپنے وسائل کے حوالے سے خود مختار دیکھنا چاہتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ صوبہ پختون خوا کے علاوہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ موجود تھا اور موجود ہے انہو ں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ عام پنجابی عام پختون کا استحصال کر رہا ہے اس سے انکی مراد صوبہ پنجاب کی بیورو کریسی‘ جاگیر دار اور صنعت کار طبقہ تھا جو اپنے مفادات کے حصول کے لئے نہ صرف صوبہ پختون خوا بلکہ دیگر صوبوں کا بھی استحصال کر رہا تھا۔پاکستان میں انکے خیالات اور نظریات کو مخصوص حلقوں نے ہمیشہ غلط معنی پہنائے ہیں۔قیام پاکستان کے فورا بعد ملک میں سیاست کو قتل کرنے کی کوششوں کا آغاز ہو چکا تھا سیاسی راہنماؤں کی کردار کشی روز کا معمول بن چکا تھا اور اس ضمن میں ملک میں زرد صحافت کو فروغ دیا گیا اور قومی اخبارات کو اس منفی کام کو سرانجام دینے کا ٹاسک سونپا گیا اور ولی خان بابا کو مخصوص قو تیں منفی تنقید کا نشانہ بنا تی رہیں ۔ بقول شاعر’’خلقت نے آواز ے کسے طعنے دیئے فتوے گڑے‘‘’’وہ سخت جاں ہنستا رہا گو خود کشی پل پل میں تھی‘‘جناب ولی خان کرسی اور اقتدار کی سیاست کے سخت خلاف تھے وہ وحدت فکر اور عمل پر یقین رکھتے تھے وہ کہا کرتے تھے کہ اچھی لیڈر شپ وحدت فکر سے پیدا ہوتی ہے اور پاکستان میں وحدت فکر کے بجائے انتشار ہے یکسانیت کی بجائے شخصیت اور انا پرستی ہے وہ نیشنل کریکٹر کے فقدان پر بھی رنجیدہ تھے اور کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں ادارے مقدم نہیں شخصیات مقدم ہیں ہمارے ہاں ادارے اور سیاسی جماعتیں مستحکم نہیں اور ولی بابا اپنے سینے میں یہ حسرت لے کر اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہو گئے۔ اس میں شک نہیں کہ خان عبد الولی خان ملکی سیاست میں ایک متنازعہ شخصیت رہے لیکن اگر ایماندارانہ طور پر انکی سیاسی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو کردار کی استقامت اور چاروں طرف بڑھتی پھیلتی ہوئی کرپٹ کلچر میں اپنے ملبوس کو پاک اور صاف رکھنے کی ہمت جن چند شخصیات میں نظر آتی ہے عبد الولی خان باباانکی پہلی صف کے آدمی تھے ۔

ولی بابا اپنے اصولوں کی خاطر جتنی جیل کاٹی وہ شاہد ہی کسی اور سیاسی لیڈر نے کاٹی ہو قیام پاکستان سے پہلے انگریز حکومت اور وطن عزیز کی آزادی کے بعد کم و بیش ہر حکومت نے عملی سیاست سے ریٹائرمنٹ سے پہلے تک انہیں کسی نہ کسی بہانے اسیر زنداں رکھنے کی کوشش کی اور بارہا ان پر غداری کا الزام بھی لگایا گیا جس کی اصل وجہ ہماری سیاست میں اختلاف رائے کو برداشت نہ کرنے کی روش ہے۔ یہاں ہر حاکم خود بخود پاکستان کا محافظ اور ٹھیکیدار بن جاتا ہے ۔ ولی بابا ایک صاحب کردار انسان تھے وہ جب تک سیاست میں رہے اپنے نظریات پر مضبوطی سے ڈٹے رہے اور اپنے آدرشوں کی حفاظت کرتے رہے اپنے طویل سیاسی کیرئیر میں انہیں بہت اچھے مواقع بھی ملے وہ اگر چاہتے تو با آسانی اپنے ہم عصروں کی طرح دولت کے انبار جمع کر سکتے تھے لیکن موصوف مادہ پرست دنیا کے آدمی تھے ہی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کا بڑے سے بڑا مخالف بھی ان پر مالی بد دیانتی کا الزام عائد نہ کر سکا۔ انہو ں نے ساری زندگی ہر پلیٹ فارم پر کھل کر بات کی انہیں اس بات کا خوف نہیں تھا کہ مخالفین انکے بارے میں کیا کہیں گے انہو ں نے اپنے عقائد و نظریات کے حوالے سے منافقت سے کام لے کر سیاست نہیں چمکائی وہ جمہوریت کے داعی تھے ان کا شمار قائد اعظم کے مخالفین میں ہوتا تھا لیکن جب جمہوریت اور آمریت میں کسی ایک انتخا ب کا معاملہ آیا تو انہو ں نے اصول پسندی کی بناء پر قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کا اعلان کرکے سب کو حیران کر دیا وہ ایک نڈر اور بہادر سیاست دان تھے انہو ں نے پختونوں کو خواب غفلت سے بیدار کیا انکے پختون قوم اور ثقافت پربے پناہ احسانات ہیں جب انہوں نے سمجھا کہ کالا باغ ڈیم پختونوں کے مفاد میں نہیں تو انکی زندگی میں طاقتور سے طاقتور حکمران کالا باغ ڈیم نہ بنا سکا انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ڈیم کی تعمیر روکنے کے لئے ہم آخری حد تک جائیں گے اور اگر مجھے جسم سے بم باندھ کر ڈیم کو اڑانا پڑا تو اس سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔

تحریر:  شاہ بابا غلام حبیب

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here