انصاف کا متلاشی

column Agha Waqar Ahmed
column Agha Waqar Ahmed

انصاف کا متلاشی

ایک گمنام سرکاری ملازم جو اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کے درمیان شدید تشدد کا شکار ہوا وہ کس سے التجا کرے، کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کرے، وہ کس سے انصاف کی امید رکھے، وہ کس کو اپنا مجرم پکاڑے۔ کون اس کو انصاف دے گا۔ یہ وہ سوال ہے جو اس وقت کی حکومت اور عدلیہ دونوں پر واجب ہے۔ غور سے دیکھیں اس کی ویڈیو کو، ڈھونڈیں تلاش کریں اس ملازم کو اور اس کو انصاف دیں تب میں مانو گا کہ واقع ہی پاکستان میں حکومت یا عدلیہ عام عوام کو بھی انصاف دے سکتی ہے۔

دھرنے کے دنوں کی بات ہے ایک گمنام زخمی اپنی ڈیوٹی کے درمیان پی ٹی آئی کارکنوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنا۔ موٹروے پر سرکارِ پاکستان کے حکم کے مطابق آخری وقت تک تن تنہا کھڑا رہا جبکہ اسکے تمام ساتھی دوڑ لگا چکے تھے۔

حکومتِ وقت بھی یہی تھی، آئی ایس آئی اور ایم آئی بھی یہی ہے، آئی بی یہی ہے اور سی آئی اے بھی  یہی ہے۔  حکمران بھی پاکستان مسلم لیگ ن کے ہیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان بھی وہی ہے۔مگر یہ گمنام مظلوم انصاف کا منتظر آخر کیوں؟

کون تلاش کرے گا اس کے مجرموں کو، کون گرفتار کرے گا، کون قانون کے کٹھہرے میں لائے گا اس  کے مجرموں کو—- کوئی نہیں—- کیونکہ نا تو  یہ بڑا سیاستدان ہےاور نا ہی قانون دان

کسی کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ اس مظلوم کو انصاف دلائےاور کیوں دلایا جائے— غریب ہے ، پولیس میں ادنٰی ملازم ہے—یہ کوئی ایس پی تو نہیں جسے پی ٹی آئی والوں نے سرِ عام مارا ہو۔۔ ایک سپاہی ہے اور ایک سپاہی کی زندگی کی کیا حیثیت ہے۔۔ اس کو کیوں انصاف ملے؟

مگر یہ انصاف کا متلاشی آج بھی انصاف کا منتظر ہے اس کو انصاف دلائے گا کون؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here