یہ کالم 10 جولائی 2017 کوقومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ جے آئی ٹی اور شریف خاندان

AGHA WAQAR AHMED

جے آئی ٹی اور شریف خاندان

(یہ کالم 10 جولائی 2017 کو قومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے)

عوام کا مستقبل3ڈبوں کی صورت میں جو سر بہ مہر تھے ایک ہاتھ سے کھینچنے والی ریڑھی پر رکھ کر سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا گیا۔اس میں گیارہ جلدوں پر مشتمل رپورٹ تھی ۔اور جے آئی ۔ٹی کے سربراہ واجد ضیاءنے عدلیہ سے درخواست کی کہ جلد نمبر 10پبلک نہ کی جائے ۔تو سوال یہ جنم لیتا ہے کہ سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ بھی عوام کو حقائق سے دور رکھنا چاہتی ہے ؟اگر ایک انسان بھی عدلیہ ےا ان کے جج صاحبان کے متعلق کوئی منفی رائے دے تو اس پر توہین عدالت لاگو ہو جاتا ہے۔کیا یہ انصاف ہے کہ پوری قوم جاننا چاہتی ہے کہ سچ کیا ہے اور جس سیاسی جماعت پر الزام لگا ہے اس نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے بلکہ تمام افراد سے کی ہوئی گفتگو کی ریکارڈنگ بھی عوام الناس تک رسائی کرے ۔تا کہ عوام کو آئیندہ آنے والے انتخابات میں ووٹ دینے سے پہلے ان کے لیڈران کا اصل چہرہ نظر آئے ۔مگر جلد نمبر 10کو راز میں رکھنا وہ بھی عدلیہ اور جے۔آئی ۔ٹی کی طرف سے ہماری سمجھ سے باہر ہے۔

کچھ تو ہے جس کی رازداری ہے

ایس ۔ای۔سی۔پی کے ریکارڈ میںٹیمپرنگ کے مقابلے میں سپریم کورٹ نے ظفر حجازی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا جو کہ ماہین فاطمہ کے بیان پر ریکارڈمیں ردوبدل کرنے کا اعتراف تھا۔

جس سلسلے میں ماہیں فاطمہ نے بیان دیاکہ مجھے ریکارڈ میں ردوبدل کرنے کے لئے ظفر حجازی نے مجبور کیا تھا۔

جے ۔آئی ۔ٹی نے پہلی رپورٹ 22مئی دوسری 7جون تیسری 22جون حتمی اور چوتھی رپورٹ 10جولائی کو پیش کی۔جسٹس اعجاز احمد خان کی سربراہی میں 3رکنی بینچ کو پیش کی جس میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل ہیں

کمیٹی کے دیگر آراکین میں عامرعزیز(اسٹیٹ بینک آف پاکستان) ،بلال رسول (ایس ،ای،سی،پی)، عرفان نعیم مگی ،قومی احتساب بیورو(نیب) ،برگیڈیئر (ر) محمد نعمان سعید ،(ائی ،ایس ،آئی) اور برگیڈئیر کامران خورشید ،ملٹری انٹیلی جنس کے نمائندے شامل ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعظم نوازشریف ان کے دو بیٹوں حسین نواز،حسن نواز اور صاحب زادی مریم نواز سمیت شریف خاندان کے دیگر اہم افراد کے بیانات قلم بند کئے۔

وزیر اعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز ایک ،ایک دفعہ جبکہ ان کے بڑے بیٹے حسین نواز چھ اور حسن نواز تین دفعہ جے،آئی ،ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ،وزیر اعظم کے قریبی عزیز طارق شفیع ،جاوید کیانی ،وزیر اعظم کے کلاس فیلو اور نیشنل بینک کے صدر سعید احمد چمن کے بیانات بھی قلم بند کیئے ، جبکہ چئیر مین نیب قمر زمان چوہدری سے حدیبیہ پیپر ملز کے بارے میں ریکارڈ لیا گیا۔سوال ےہ پیدا ہوتا ہے کہ جے۔ آئی ۔ٹی کی تشکیل کس مقدمے کے لئے کی گئی تھی ۔ ”جے۔ آئی ۔ٹی“کی تشکیل کے وقت کئی ایسے افراد جو طلب کئے گئے ان کا وجود نہ تھا ۔اور عدلیہ سے قبل از معافی کے ساتھ یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ ایک طرف تو الیکشن کمیشن نے عمران خان کے کیس میں 10جولائی کو فیصلہ سنانا تھا اور ان پہ کرم نوازی اتنی کہ ان کے وکیل کی ایک درخواست پر عدالتی مفرور اور غیرملکی سرمایا سے پاکستان میں سیاسی جدو جہد کرنے والے کو 15اگست کا وقت دیا گیا۔جبکہ جس دن عدالت نے فیصلہ سنانا ہوتا ہے اس د ن کبھی بھی ملزمان کی اس طرح کی کوئی درخواست کو زیر غور نہیں لایا جاتاجبکہ عرصہ درازسے وہ ان جج صاحبان کے سامنے ایک دفعہ بھی پیش نہ ہوا ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور حیرت انگیز عدالتی حکم عوام کی نظروں سے گزرا کہ نہال ہاشمی کی غیر مشروط معافی کے با وجود اس پر فرد جرم عائدکر دی گئی اس سے پہلے عدلیہ کے رویے میں کوئی مثال نہیں ملتی۔مزید تحریر کروں گا تو مجھ پر توہین عدالت لاگو ہونے کا خطرہ ہے ۔اس لیئے میں پاکستان کے 20کروڑ با شعور افراد کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیئے سوال چھوڑے جا رہاہوں ۔

”جے۔ آئی ۔ٹی“کی ایک اور حیرت انگیز کاروائی ےہ بھی ہے کہ انہوں نے حدیبیہ پیپر ملز کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے کے ڈائیریکٹر بشارت شہزاد اور جاتی عمرہ پراپرٹی کی تحقیقات کرنے والے سابق ایف ،آئی،اے کے افسر جاوید علی شاہ سے بھی کیس کا پسِ منظر معلوم کیا۔

”جے۔ آئی ۔ٹی“نے تو اپنے دورانیئے میں اپنی تفتیشی رپورٹ تو عدالت عظمیٰ میں دائر کر دی مگر جو سب سے اہم ثبوت قطری شہزادے کے بیان کا تھا وہ سوال حاصل طلب رہا لیکن اس کی تمام خط و کتابت اور بیانات کی ایک الگ فائل بنائی گئی جو کہ سمجھ سے باہر ہے۔ماضی میں کئی مقدمات میں جے،آئی ،ٹی پاکستان سے باہر گئی،اوروہاں کے نامزد افراد کا بیان ان ممالک کی حدود میں لیا جیسا کہ بینظیر مقدمات میں مارک سی گل اور جنرل پرویز مشرف کے معاملات میں پاکستانی عدلیہ کی اجازت”جے۔ آئی ۔ٹی“

ان ممالک میں جا کر ان کے بیانات ریکارڈ کرتی رہی مگر یہ اچھنبے کی بات ہے کہ 20کروڑ عوام کا مستقبل داو ¿ پر ہے اور”جے۔ آئی ۔ٹی“نے قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ نہیں کیا ۔

”جے۔ آئی ۔ٹی“کے اہم سوالات میَں یہاں ےہ بھی رقم کرتا چلوں تو وہ کچھ ےوں تھے۔

٭وزیر اعظم نواز شریف یا ان کے زیر ِ کفالت افراد کے اثاثے ان کے ظاہر کردہ اثاثوںسے مطابقت رکھتے ہیں ؟ےا پھر اس سے ذیادہ ہیں ؟یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کی پانامہ کیس کے متعلق”جے۔ آئی ۔ٹی“کو تحقیقات کرنا تھیں۔

٭جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجر بینچ نے پانامہ کیس کی سماعت کے بعد فیصلے میں کئی سوالات اٹھائے وہ ےہ کہ میاںمحمد نواز شریف کی ملکیت گلف اسٹیل مل کیسے وجود میں آئی ؟ اسے فروخت کیوں کیا گیا ؟مل فروخت کرنے سے حاصل ہونے والی رقم کہاں استعمال ہوئی ؟ اور ےہ پھر جدہ ،قطر، اور پھر پرطانیہ کیسے منتقل ہوئی ؟

٭نوے کی دہائی کے اوائل میں حسن اور حسین نواز اپنی کم عمری کے باوجود کیا اس قابل تھے کہ وہ فلیٹس خریدتے ؟

٭قطری شہزادے حماد بن جاسم الثانی کے خطوط کا اچانک منظر عام پر آنا حقیقت ہے ےا افسانہ ؟

٭نیلسن اورنیسکول نامی کمپنیوں کے اصل مالکان کون ہیں ؟ان کمپنیوں کے شیئرز فلیٹس میں کیسے تبدیل ہوئے؟ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ نامی کمپنی کیسے وجود میں آئی؟

٭حسن نواز کی زیر ملکیت فلیگ شپ انوسٹمنٹ اور دیگر کمپنیوں کے قیام کے لیئے رقم کہاں سے آئی؟ ان کمپنیوں کو چلانے کے لئے سرمایا کہاں سے آیا؟

٭حسین نواز نے اپنے والد میاں محمد نواز شریف کو جو کروڑوں روپے تحفتاََ دیئے وہ کہاں سے آئے؟

جبکہ”جے۔ آئی ۔ٹی“ ان سوالات پر محدود رہی ےا ان کے علاوہ بھی سوالات کیئے گئے ےہ ایک ایسا راز ہے۔ جو 20کروڑ عوام جاننا چاہتے ہیں ۔مگر اس راز سے پردہ اٹھانے کے لئے اس رپورٹ کی 11کی11جلدوں کا پبلک ہونا 20کروڑ عوام کا حق ہے۔

ایک بات تو روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ”جے۔ آئی ۔ٹی“میں میاں محمد نواز شریف پر کسی قسم کی فرد جرم عائد نہیں ہو سکتی مگر ایک گومگوں کی کیفیت طاری ہو گئی اور نہال ہاشمی کے بعد آصف کرمانی ،طلال چوہدری ، اور سعد رفیق پر بھی توہینِ عدالت کی کاروائی ہونے کا امکان روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے ۔

اور آزادی رائے تحریر و تقریر جو کہ 1973 ءکے آئین کے تحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اس کی حق تلفی ہونے کے واضح امکانات ہیں ۔ان حالات میں صحافت اور صحافی اپنے قلم سے سچائی کی وہ کہانیاں اپنے سینوں میں دفن رکھیں گے اور وقت آنے پر تحریر کریں گے جیسا کہ ذولفقار علی بھٹو پھانسی کیس میں ہوا ۔

سیاسی حالات کچھ اس طرح تبدیل ہوتے نظر آ رہے ہیں کہ انتخابات اپنے وقت سے پہلے منعقد ہوں گے ۔اور تمام سیاسی پارٹیاں معصوم عوام کو سڑکوں پرلانے کے لئے تیار ہیں ۔اور ہمارا دشمن سافٹ ٹارگٹ کے انتظار میں ہے۔

میں نے یکم جولائی 2017کو ”متوقع فیصلہ “ کے نام سے کالم تحریر کر دیا تھا جو اب بھی ہمارے اخبار کی ویب سائٹ پر موجود ہے جس کے تحت (جے۔ آئی ۔ٹی) نے صرف ایک اور جج کو اپنے دلائل سے قائل کرنا ہے اور فیصلہ 3/2کا آ جائے گا ۔اس لیئے عوام کو ذہنی طور پر وقت سے پہلے الیکشن کو قبول کر لینا چاہیے ۔مگر ا فسوس کہ اس حقیقت سے حکمران جماعت کو سمجھائے گا کون؟؟؟؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here