پیارے جاوید ہاشمی

Javed Hashmi
Javed Hashmi

:لاہور

سیاستدانوں میں چند چند چیزیں  مشترک ہیں جیسے کہ نواز شریف “شریف ” نہیں ، عمران نیازی ” خان” نہیں ، بلاول زرداری” بھٹو ” نہیں، شیخ رشید ” شیخ” نہیں، اسی طرح جاوید ہاشمی “مخدوم نہیں” وہ صرف جاوید ہاشمی ہے اور جاوید ہاشمی کی بھی کیا قسمت ہے  کہ جماعت اسلامی کی “طلبا تنظیم ” میں قدم رکھا تو جمعیت کو متنازعہ بنا دیا ، جنرل ضیا ء کے دور میں وزارت  ملی تو ” مسٹر ویاگرہ” کے نام سے مشہور ہوا،  نواز شریف کے لئے  جیلیں کاٹیں، تو “وائس چیئر مین شپ” پاکستان تحریک انصاف کی ملی،  جب تحریک انصاف  سے بغاوت کی تو الیکشن ہار گیا”

اب مسلم لیگ میں دوبارہ شمولیت اختیار کی تو مسلم لیگ کا مستقبل  ڈگمگاتا نظر آ رہا ہے

میرے اندازے کے مطابق  نواز شریف جلا وطن ہونے والے ہیں اور جاوید ہاشمی کی باقی ماندہ زندگی  نواز شریف کے جرائم کو مظلومیت کی شکل  دینے میں گزر جائے گی ۔

 سیاست بھی کیا گورکھ دھندہ ہے  جسے سمجھ آیا وہ “زرداری” اور وہی اس گندھے کھیل کا کامیاب کھلاڑی ہے۔

تو پھر سب سے بہتر آغا سورش کشمیری تھے جنہیں یہ گورکھ دھندہ سمجھ بھی آیا مگر وہ سیاست کی نحوست سے محفوظ رہے ۔

کچھ کچھ حبیب جالؔب کو بھی سمجھ آیا اور جو بچ گیا وہ استاد دامن کی قسمت میں آیا تذکرہ بالا ان شاعروں اور ادیبوں  کا موازنہ سیاست دانوں سے کیا جائے تو  ایک چیز رو زِروشن کی طرح عیاں ہو جائے گی  کہ سیاست دان دولت کا انبار تو اکٹھا کر چکے  مگر عزت کی دولت ان شعرا کے حصے میں آئی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here