ثابت ہوگیا مسئلہ سینیٹ کی سیٹ کا نہیں ایم کیو ایم پر قبضے کا ہے، فاروق ستار

its proved that issue is not a Senate seat but MQM occupation, Farooq Sattar
its proved that issue is not a Senate seat but MQM occupation, Farooq Sattar

:کراچی

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی جانب سے کنوینر کے عہدے سے برطرف کیے جانے کے بعد پی آئی بی کالونی میں فاروق ستار کی رہائش گاہ پر ہنگامی اجلاس ہوا جس کے بعد فاروق ستار نے جوابی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ ثابت ہوگیا کہ مسئلہ سینیٹ کی ایک سیٹ کا نہیں بلکہ ایم کیو ایم پر قبضے کا ہے۔

پریس کانفرنس میں فاروق ستار نے کہا کہ آج صرف انہیں نہیں بلکہ ایم کیو ایم کے ایک ایک کارکن کو نکالا گیا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ بالآخر میرے نادان ساتھیوں نےثابت کر دیا کہ مسئلہ ایک فرد کا نہیں، ثابت ہوگیا کہ مسئلہ سینیٹ کی سیٹ کا نہیں، مسئلہ ایم کیوایم پاکستان کی سربراہی اور ایم کیو ایم پر قبضے کا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ سازش بے نقاب ہوگئی،بلی تھیلے سے باہرآگئی، آج ایم کیوایم حقیقی ٹو کے قیام کی بنیاد رکھی گئی ہے، آج ایم کیوایم کی سربراہی سے مجھے نہیں جفاکش کارکنوں کونکالا گیا، مسئلہ ایک فرد کا نہیں،تمام نشستوں پر اپنے من پسند لوگوں کونامزد کرنےکاتھا۔

فاروق ستار نے ازراہ مذاق کہا کہ ’’پھر بھی میں یہ نہیں کہوں گا کہ مجھے کیوں نکالا؟‘‘

انہوں نے کہا کہ کچھ دیر بعد کے ایم سی گراؤنڈ میں کارکنوں کے اجلاس میں کرارا جواب دیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں رابطہ کمیٹی کو تحلیل کرنے پر مشاورت کی گئی ہے جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

اس حوالے سے فاروق ستار کے گروپ میں شامل علی رضا عابدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ مشکل کی گھڑی ہے، مشاورت جاری ہے، فاروق بھائی جلد کچھ فیصلے کرینگے‘‘۔

خیال رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے پارٹی کے سربراہ فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔

رابطہ کمیٹی کے رکن کنور نوید جمیل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے فارغ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے علم میں لائے بغیر پارٹی آئین تبدیل کیا، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو بتائے بغیر ارکان کو چننے اور فارغ کرنے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔

ایم کیو ایم پاکستان میں تنظیمی بحران کی وجہ

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کی جانب سے کامران ٹیسوری کا نام سینیٹ امیدوار کے طور پر سامنے آنے پر پارٹی میں اختلافات نے سر اٹھایا جو بحران کی صورت میں تبدیل ہوگیا۔

رابطہ کمیٹی نے 6 فروری کو اجلاس بلاکر کامران ٹیسوری کی نہ صرف 6 ماہ کے لیے رکنیت معطل کی بلکہ انہیں رابطہ کمیٹی سے بھی خارج کیا جس کے بعد فاروق ستار نے اجلاس کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اجلاس میں شریک رہنماؤں کی رکنیت کچھ دیر کے لیے معطل کی۔

رابطہ کمیٹی کے رکن خالد مقبول صدیقی کے مطابق روایات، اصولوں اور طریقہ کار کے تحت رابطہ کمیٹی نے ترتیب وار 6 امیدواروں کے نام سینیٹ کی نشستوں کے لیے تجویز کیے تھے۔

جن میں ڈپٹی کنوینئر نسرین جلیل، فروغ نسیم، امین الحق، شبیر قائم خامی، عامر خان اور کامران ٹیسوری شامل تھے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ فاروق ستار کی خواہش تھی کہ ہم دو ساتھیوں کی قربانیاں دے کر ہر حالت میں کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا امیدوار بنائیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here