اسرائیل نے یاسر عرفات کو قتل کرنے کی بے پناہ کوشش کی، امریکی اخبار

Israel tried many times to kill Yasser Arafat, American newspaper
Israel tried many times to kill Yasser Arafat, American newspaper

:نیویارک

امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے یاسر عرفات کو قتل کرنے کی بے پناہ کوشش کی۔

نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سابق اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون سابق فلسیطینی صدر یاسر عرفات کو قتل کرانے کے لیے بے چین تھے اور انہوں نے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کے سربراہ کو قتل کرنے کے لئے کئی منصوبے بھی بنوائے تھے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی صحافی رینون برگمین نے سابق فلسطینی صدر کی موت کے کئی سالوں بعد اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے یاسر عرفات کے جہاز کو غرق کروانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا جبکہ یاسرعرفات کو قتل کرنے کے بعض منصوبے تو بالکل فلمی سین کی طرح تھے۔

کتاب کے مطابق ایتھنزایئرپورٹ پراسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار یاسرعرفات کےمنتظرتھے، ایک مرتبہ ایف 16 نے بوئنگ 707 کے قریب پہنچ کرمواصلات میں خلل ڈالا۔

یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایف16 طیاروں نے 5دفعہ مختلف مسافر طیاروں کی جانب اڑان بھری، جنگی طیاروں کو یاسرعرفات کا مسافر طیارہ تباہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

جنگی طیارے نومبر 1982 سے جنوری 1983 تک اسٹینڈ بائی رکھے گئے تھے، اسرائیل نے یاسرعرفات کے قتل کیلیے 4 ایف 16 طیارے تیار رکھے تھے۔

کتاب میں مصنف نے کہا ہے کہ اسرائیل سمجھتا تھا کہ عرفات کا خاتمہ فلسطینی ریاست کاخاتمہ ہوگا، یاسرعرفات کو انٹرویو کے دوران صحافی سمیت مارنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ پیرس کے ایک اسپتال میں زیرعلاج یاسرعرفات گیارہ نومبر 2004 کو نامعلوم بیماری کےباعث 75 سال کی عمر میں انتقال کرگئے تھے اور ان کی موت کو مشکوک قرار دیا گیا تھا جبکہ اس کی تحقیقات اب بھی کی جارہی ہے۔

آزادی فلسطین کی جدوجہد کرنے والے یاسر عرفات کی زندگی تو ختم ہوگئی، لیکن فلسطین میں آج بھی صیہونی طاقتوں سے آزادی کی جدوجہد جاری ہے۔

چوبیس اگست 1929کو قاہرہ میں پیدا ہونے والے یاسرعرفات نے آزاد فلسطین کی جدوجہد کی ابتداء 1948میں عرب اسرائیل جنگ سے کی، گوریلا لڑائیوں کے لیے مشہور یاسرعرفات نے اپنی جدوجہد کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سیاسی جماعت الفتح بنائی اور پھر پی ایل او کے قیام کے بعد طویل جدوجہد اور شدید مخالفت کے باوجود 1993 میں اوسلو معاہدے کے تحت فلسطین میں حکومت قائم کی۔

ایک وقت میں دہشت گرد کہلانے والے یاسرعرفات کو فلسطینی ریاست کے قیام اور امن کی کوششوں پر امن کے نوبیل انعام سے بھی نوازا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here