امریکا اور اتحادیوں نے شام پر حملہ کرکے ’جرم‘ کیا، آیت اللہ خامنہ ای

Iran's Khamenei slams 'criminals' Trump, Macron, May
Iran's Khamenei slams 'criminals' Trump, Macron, May

:ایران

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے شام میں امریکا، برطانیہ اور فرانس کے مشترکہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جرم سے تشبیہ دیتے ہوئے تینوں مغربی ریاستوں کے رہنماؤں کو ’ مجرم‘ قرار دے دیا۔

ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ’ میں واضح طور پر امریکی صدر، فرانسیسی صدر اور برطانوی وزیر اعظم کو مجرم قرار دیاتا ہوں اور انہوں نے جرم کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ان تینوں ممالک کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، جیسا کہ انہوں نے گزشتہ کچھ برسوں میں عراق، شام اور افغانستان میں جرم کیا لیکن وہاں سے کچھ حاصل نہیں ہوسکا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ جو لوگ عسکریت پسند گروپ داعش کی پہلے خفیہ طور پر حمایت کر رہے تھے وہ آج دہشت گردوں سے لڑنے اور انہیں شکست دینے کا دعویٰ کر رہے ہیں! یہ جھوٹ ہے اور اس تنظیم کو شکست دینے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اس جنگ میں شامل ہوا جب بھی دہشت گردوں کو مشکلات ہوئی اور وہ شکست کے قریب پہنچنے لگے تو امریکا نے داعش کی مدد کی۔

ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ امریکا نے داعش کے نام سے ’شاطانی مخلوق‘ کو بنایا اور اس میں وہ رقم استعمال کی جو آل سعود حکومت اور ان جیسے لوگوں کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ امریکا اور اس کے ایجنٹوں کے خلاف مزاحمت نے شامی اور عراقی قوم کو محفوظ کیا تھا۔

پریس ٹی وی نے رپورٹ میں مزید بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر کے گزشتہ ماہ دیے گئے اس بیان پر کہ ان کے ملک نے مشرق وسطیٰ میں 70 کھرب ڈالر ڈالر خرچ کیے لیکن اب تک کچھ حاصل نہیں ہوا‘، پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ٹھیک کہتے ہیں، انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا اور چاہے کتنی ہی رقم خرچ کردی جائے امریکا کو مستقبل میں بھی کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔

اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ نے شام میں امریکا، برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور ایک آزاد ملک کے خلاف اس طرح کی کارروائی پر خبردار بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی خلاف ورزی سے شام کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ مذہبی، بنیادی اور اخلاقی قوانین کے تحت ایران کسی بھی طرح کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ہے لیکن اسے بہانہ بنا کر ایک آزاد ملک پر حملہ کرنا قابل مذمت ہے۔

شام پر امریکا اور اتحادیوں کا حملہ

یاد رہے کہ 13 اور 14 اپریل کی درمیانی شب امریکا کی جانب سے اپنے اتحادی برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر شام پر حملہ کیا گیا تھا جبکہ اس حملے کا جواز شامی صدر بشارالاسد کی جانب سے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو بنایا گیا تھا۔

امریکا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس کے حکام کی جانب سے شام میں حملے کے دوران اہداف کی نشاندہی کی گئی تھی اور اس میں عام شہریوں کی کم سے کم اموات کی کوشش کی گئی۔

پینٹاگون میں جیمز میٹس، برطانوی اور فرانسیسی فوجی افسران کی مشترکہ نیوز کانفرنس میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں مغربی شام کے 3 خاص حصوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم شامی ٹیلی ویژن نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ شامی ایئر ڈیفنس پہلے سے ہی فعال تھا اور اس نے امریکا اور اس کے اتحادی افواج کے کئی حملوں کو ناکام بنادیا۔

شامی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہفتے کی رات کو مقامی وقت 3 بج کر 55 منٹ پر امریکا، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے 110 میزائل سے حملے کیے گئے۔

انہوں نے کہا تھا کہ شامی ڈیفنس سسٹم نے متعدد میزائلوں کو ناکام بنا دیا لیکن کچھ میزائل نے برزاہ میں ریسرچ سینٹر سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here